Header Ads

Breaking News
recent

سلامتی کونسل کیلئے بھارتی خواب اور اوباما کی حمایت؟....

’’ہم تو ابھی تک دہشت گردی ،داخلی انتشار ، معیشت اور قومی بقاء کے بحرانوں سے نکلنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں کہ ہمارے اتحادی ملک امریکہ کے ڈیمو کریٹ صدر اوباما نے ہمارے پڑوسی اور تاریخی مخالف بھارت کے ساتھ تعلقات کو یکسرنئی قربت اور نئی سمت دینے کا اعلان کرتے ہوئے سول نیوکلیئر تعاون، جدید ہتھیاروں کی بھارت میں مشترکہ مینو فیکچرنگ ،امریکی سرمایہ کاری اور دونوں ممالک کی تجارت میں کئی گنا اضافہ کے سلسلے میں معاہدوں ،اقدامات اور اعلانات کا ذکر کیا ہے۔

 اسکے ساتھ ساتھ بھارت کو ایک عالمی امیج اور بالا دستی کا تاثر دینے کیلئے صدر اوباما نے اقوام متحدہ کی 15 رکنی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کیلئے امریکی حمایت کا وعدہ بھی دہرایا ہے۔ جی ہاں وہی بھارت جو سالہا سال تک امریکہ کا مخالف ،غیر جانبدار ممالک کا قائد اور روس کا حامی رہا ہے اور تمام عالمی فورموں بشمول اقوام متحدہ میں امریکی تجاویز اور موقف کیخلاف کھل کر ووٹ دیتا رہا ہے جو امریکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو تعصب تشدد اور مذہبی منافرت پھیلانے کی وجہ سے امریکہ کا ویزا دینے سے انکاری رہا ہے۔

آج وہی امریکہ اور بھارت بغل گیر ہو کر اس صدی کے نئے عالمی اتحادی بننے کا اعلان کر رہے ہیں، مگر عالمی امن اور استحکام کے مقصد کیلئے قائم ہونیوالے بھارت اور امریکہ کے اس ’’فطری اتحاد‘‘ کے بارے میں متعدد سوالات جواب اور توجہ طلب ہیں، آخر بھارت میں امریکی تعاون و اشتراک سے بنائے جانیوالے جدید ہتھیار اور ڈرون کہاں اور کس کیخلاف استعمال ہوں گے؟ کیا مشرق وسطی کے بحران زدہ ممالک میں بھی بھارت کو رول دیا جا رہا ہے اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں عدم استحکام ،تیل اور قدرتی وسائل کی سیاست میں بھی بھارت امریکہ کے اتحادی کا رول ادا کریگا؟ بھارت نے تو سول نیوکلیئر تعاون کیلئے مطلوبہ شرائط بھی پوری نہیں کیں، مگر امریکہ نے پھر بھی سول نیوکلیئر تعاون کے معاہدے پر اپنا موقف بدلتے ہوئے دستخط کیوں کر دیئے؟

اس طرح انٹلیکچول پراپرٹی کے تحفظ کیلئے بھی قوانین میں تبدیلی کا وعدہ بھارت نے پورا نہیں کیا مگر امریکہ ان پہلوئوں کو نظر انداز کر کے صدر اوباما بھارت کو یہ مراعات کیوں فراہم کر رہا ہے؟ ڈیمو کریٹ امریکی صدر اوباما اپنی صدارت کے بقیہ دو سال کے عرصے میں بھارت، امریکہ تعاون کے کتنے مقاصد حاصل کر سکیں گے؟ کیا صدر اوباما کے اس مشن کو پورا کرنے میں ری پبلکن اکثریت کی حامل امریکی کانگریس کتنا تعاون کرے گی اور مطلوبہ منظوری دے گی؟ امریکی صدارت کیلئے ڈیموکریٹ اور ری پبلکن پارٹیوں کی انتخابی سیاست اور مخالفت کے اثرات کیا ہونگے؟ کیا صدر اوباما کے بعد نیا امریکی صدر بھی اس امریکی پالیسی کو جاری رکھے گا؟ بہرحال یہ صورتحال پاکستان اور مشرق و سطیٰ اور خلیجی ممالک کیلئے تشویش اور فوری توجہ کے لائق ہے۔

 جبکہ بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کیلئے امریکی حمایت کا اعلان بھی عالمی برادری اور اقوام متحدہ کیلئے متعدد سوالات کو جنم دیتا ہے کیونکہ بھارت کو سلامتی کونسل کی مستقل نشست دینے کیلئے نہ صرف اقوام متحدہ کے منشور اور ڈھانچہ میں تبدیلی کرنا ہو گی جو کئی وجوہات کی بناء پر ممکن نظر نہیں آتا۔

 اقوام متحدہ کے منشور اور قواعد و ضوابط میں نہ تو سلامتی کونسل کی رکنیت کی تعداد میں توسیع کی کوئی گنجائش ہے بلکہ مستقل اراکین سلامتی کونسل کی تعداد پانچ مقرر ہے اور اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 23 میں جن پانچ ممالک کے نام ہیں ان میں بھارت کا نام شامل نہیں ہے۔ لہٰذا اقوام متحدہ کے قواعد و ضوابط میں ترمیم اور تبدیلی کیلئے اقوام متحدہ کے موجودہ 193 رکن،ممالک پر مشتمل جنرل اسمبلی اتفاق رائے سے فیصلہ کرے گا ۔عالمی طاقت امریکہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ’’ایک ملک۔ایک ووٹ‘‘ کے اصول کے تحت صرف ایک ووٹ حاصل ہو گا

یہ فیصلہ 193 ممالک متفقہ طور پر کام کرینگے اور یہ اسلئے قابل عمل نہیں کیونکہ اقوام متحدہ کے ضوابط میں تبدیلی و ترمیم کیلئے 193 ممالک کا اتفاق رائے ممکن نظر نہیں آتا۔

 سلامتی کونسل کی توسیع کے ایشو پر اقوام متحدہ میں پہلے بھی سفارت کاری، توسیع کے مختلف فارمولے اور علاقائی حقائق زیر بحث رہے ہیں، ہمارے ذہین سابق سفیر منیر اکرم کی ٹیم میں موجودہ سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری اور دیگر سفارتی افسران کی ٹیم نےاقوام متحدہ کے ایوانوں میں اپنی محنت اور ذہانت سے اس توسیع کی مہم کا راستہ روک کر اپنے ہم خیال اور ہم موقف ممالک سے داد تحسین حاصل کی تھی، اس دور میں یہ حقیقت بھی اجاگر ہو کر سامنے آئی کہ سلامتی کونسل کی توسیع کی صورت میں علاقائی تضادات اور توقعات اور خواہشات کچھ یوں ہیں کہ بھارت کے مقابلے میں ایشیا سے جاپان،یورپ میں جرمنی کے مقابلے میں اٹلی ، افریقہ میں جنوبی افریقہ کے مقابلے میں نائیجریا اور لاطینی امریکہ میں برازیل کے مقابلے میں میکسیکو سلامتی کونسل کی نئی نشستوں پر امیدوار اور دعویدار ہوں گے۔جس سے علاقائی رقابتیں پیدا ہوں گی، پاکستانی سفارت کاروں نے اس صورتحال کا نوٹس لیکر سفارت کاری کے ذریعے اس توسیع کو کامیابی سے روک دیا۔

آج بھی یہ علاقائی حقائق بدستور موجود ہیں۔ بھارت کو سلامتی کونسل کی مستقل نشست دینے کی صورت میں معاشی عالمی طاقت جاپان پر کیا گزرے گی؟ کیا چین اپنے خلاف امریکی تعاون سے آگے بڑھتے ہوئے ہمسایہ بھارت کو مستقل رکن کے طور پر ’’ویٹو پاور‘‘ کو شیئر کرنا برداشت کر لے گا ؟

کیا سلامتی کونسل کے موجودہ مستقل پانچ رکنی یعنی امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین جو اپنے ’’ویٹو پاور‘‘ کے باعث سلامتی کونسل کے فیصلے اور قراردادوں کو منظور ہونے سے روک کر مسترد کر سکتے ہیں وہ یہ منفرد عالمی اختیار بھارت اور دیگر ممالک کے ساتھ شیئر کر کے اپنی اس قوت کو تحلیل یا کم کرنے کو تیار ہیں ؟

 بھارت کشمیر میں رائے شماری اور کشمیریوں کو حقوق دینے کے بارے میں سلامتی کونسل کا فیصلہ اور قرارداد تسلیم کر چکا ہے مگر اس قرارداد پر عمل کرنے سے انکار اور خلاف ورزی کا مرتکب ہے اور کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ ماضی کا ریکارڈ گواہ ہے کہ امریکہ نے بھی کشمیر پر اس قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا تھا مگر وقت کی تبدیلیوں اور ہمارے حکمرانوں کی کیساتھ ساتھ امریکہ اور دنیا نے قرار داد کی موجودگی میں اپنا رویہ اور موقف بدل لیا۔ مگر ایک حقیقت اور ایک اصول آج بھی یہ ہے کہ کیا سلامتی کونسل کی قرارداد کو تسلیم کر کے اسکی خلاف ورزی کرنے والا بھارت دنیا کے دوسرے ممالک کو سیکورٹی کونسل کی منظور کی جانیوالی قراردادوں پر عمل کرنے کا درس کیسے دے سکتا ہے۔ وہ سلامتی کونسل کی مستقل نشست پر بیٹھ کر اس عمل کا حصہ کیسے بن سکتا ہے ؟ پاکستان اس مسئلہ کو عالمی فورم میں اٹھا کر عالمی برادری کو آزمائش میں ڈال سکتا ہے.

اگر سلامتی کونسل میں توسیع اور مستقل رکنیت میں اضافہ کا باب کھولا گیا تو پھر نئی مستقل نشست کیلئے معیار اہلیت کیا ہوگا ؟ برطانیہ اور فرانس دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر اس دور کے ماحول اور زمینی حقائق کی بنیاد پر سیکورٹی کونسل کے لئے مستقل رکن تھے آج یہ دونوں ممالک امن و سلامتی اور جنگ کے معاملات پر وہ قوت و اختیار اور صلاحیت نہیں رکھتے ۔سوویت یونین بھی ٹوٹ کر اب مختلف ممالک میں تقسیم ہو کر روس رہ گیا ہے۔ کیا امریکہ بھارت کی خاطر یہ پنڈورا باکس کھولنے کو تیار ہے؟

اگر یہ تلخ حقیقت مان بھی لی جائے کہ عالمی طاقت کے امریکہ بھارت کے لئے ترجیح اور طاقت اور اثر کے ذریعے سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کیلئے راہ ہموار کرے گا اور کسی معیار اہلیت کے بغیر بھی حمایت کرے گا تو یہ مسئلہ صرف جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کا دو طرفہ معاملہ نہیں بلکہ دنیا کی دیگر علاقائی طاقتوں کا بھی علاقائی اور عالمی مسئلہ ہو گا ؟ اس کرسی پر بیٹھ کر اگر بھارت پاکستان کے ساتھ برصغیر کی تقسیم کا قرض چکانے کا خواب دیکھ سکتا ہے تو ہر بر اعظم اور ہر علاقے میں یہ کیفیت یہ ماحول یہ ایسی علاقائی طاقتیں موجود ہیں جو سلامتی کونسل کی مستقل نشست کی خواہشمند ہیں۔ لہٰذا سلامتی کونسل کی مستقل نشست بھارت کو دلانے کی امریکی حمایت کے باوجود بھارت کی راہ میں ابھی بہت سی مشکلات، مسائل اور مراحل باقی ہیں۔

عظیم ایم میاں
"بہ شکریہ روزنامہ "جنگ


No comments:

Powered by Blogger.