Header Ads

Breaking News
recent

بھارتی جمہوریت ۔۔ اوبامہ کے نام کھلا خط....


امریکی صدر اوبامہ 25 تا 27 جنوری کو بھارت کا دورہ کر رہے ہیں ۔ اس دوران 26 جنوری کو وہ بھارت کے یوم ِ جمہوریہ کی تقریب میں مہمانِ خصوصی ہوں گے ۔ مبصرین نے کہا ہے کہ 26 جنوری 1950ء کو بھارت میں آئین کا نفاذ عمل میں آیا تھا اور اسی حوالے سے ہر سال یومِ جمہوریہ منایا جاتا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے اور بھارت کی مذہبی اور لسانی اقلیتیں اس دن کو یومِ سیاہ کے طور پر مناتی ہیں ۔

تجزیہ کاروں نے اس ضمن میں بھارت کے جمہوری دعووں اور زمینی حقائق کا موازنہ کرتے کہا ہے کہ اس امر میں تو کوئی شبہ نہیں کہ بھارت میں مقررہ مدت کے بعد ووٹ ڈالے جاتے ہیں اسی کے نتیجے میں حکومتوں کی تبدیلی عمل میں آتی ہیں ۔ لہذا اگر محض یہ عمل جمہوریت ہے تو یقینا بھارت آبادی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی الیکٹورل ڈیموکریسی ہے لیکن اگر جمہوریت کا مقصد عوامی خدمت اور انسانی حقوق کا مساوی احترام ہے تو بھارت کو کسی بھی اعتبار سے جمہوری مملکت قرار نہیں دیا جا سکتا ۔

مثال کے طور پر اگر خواتین کے احوال پر ہی نظر ڈالی جائے تو محض چند روز قبل 22 جنوری کو خود مودی نے تسلیم کیا ہے کہ بھارت کے اکثر علاقوں میں صنفِ نازک کی تعداد مردوں کے مقابلے میں خطر ناک حد تک کم ہوتی جا رہی ہے ۔ خصوصاً صوبہ ہریانہ میں تو ایک ہزار مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد 775 ہے ۔ موصوف نے یہ بات پانی پت کے مقام پر ” بیٹی بچاﺅ “ مہم کا افتتاح کرتے ہوئے کہی ۔

اہم بات یہ ہے کہ خواتین کی تعداد قدرتی طور پر کم نہیں ہو رہی مگر چونکہ دورانِ حمل ہی بچے کی صنف کا پتہ چل جاتا ہے لہذا بھارت کے اکثر علاقوں میں بچیوں کو رحمِ مادر میں ہی ختم کر دیا جاتا ہے یا پھر پیدائش کے ابتدائی چند گھنٹوں میں ہی یہ سفاکانہ عمل انجام پاتا ہے۔

بالعموم دودھ کے بھرے ہوئے ٹب میں نوزائیدہ بچی کو ڈبو کر اس معصوم کو زندہ رہنے کے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔ اسی وجہ سے ہریانہ ، راجستھان اور دوسرے صوبوں میں کئی گاﺅں ایسے ہیں جہاں گذشتہ 70 سال سے کسی لڑکی کی کوئی بارات نہیں گئی۔

اوبامہ خود چونکہ انسانی حقوق کے علمبردار ہیں اور یوں بھی وہ دو بیٹیوں کے باپ ہونے کے ناطے اس معاملے کی سنگینی کو شاید بہتر طور پر محسوس کر سکیں۔ دنیا کی اس سب سے بڑی جمہوریت میں اقلیتوں کی جو صورتحال ہے یقینا وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ مسلمان ، عیسائیوں اور سکھوں کی نسل کشی کے ذریعے گذشتہ 67 برسوں میں لاکھوں افراد تہ تیغ کیے جا چکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کے خلاف ریاستی دہشتگردی کا جو سفاکانہ عمل جاری ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔

پڑوسی ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے حوالے سے بھی بھارت کی ایک بڑی پہچان رہی ہے ۔ تمام ہمسایہ ملک بشمول سری لنکا، بھوٹان، نیپال، بنگلہ دیش، مالدیپ اور پاکستان مسلسل بھارتی ریشہ دوانیوں کا شکار بنتے آ رہے ہیں۔ محض تین ہفتے قبل آ ٹھ جنوری کو سری لنکا کے صداتی الیکشن م میں جس طرح بھارتی خفیہ اداروں نے کھلم کھلا مداخلت کی وہ ایک کھلا راز ہے ۔

علاوہ ازیں پاکستان کے تمام علاقوں خصوصاً بلوچستان ، فاٹا میں بھارت جو مسلح مداخلت کر رہا ہے اس کا اعتراف خود امریکہ کے سابق وزیر دفاع ” چک ہیگل “ ایک سے زائد مرتبہ کر چکے ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ بھارتی حکمران اپنے ان گناہوں کو چھپانے کے لئے الٹا پاکستان اور دیگر ہمسایہ ملکوں کو بدنام کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں جیسا کہ 31 دسمبر 2014ء کو بین الاقوامی سمندری حدود میں ایک کشتی تباہ ہونے کے واقعہ کو لے کر دہلی کے حکمران ٹولے سے بلا وجہ آسمان سر پر اٹھا لیا حالانکہ بعد خود بھارتی میڈیا کے انسان دوست حلقوں نے دہلی سرکار کے ان دعووں کی سختی سے تردید کر دی۔ اس سے بھی بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر ” اجیت ڈووال “ اعلانیہ طور پر اس امر کا کریڈٹ لیتے ہیں کہ ان کی حکومت نے پاکستان اور دیگر ہمسایوں کے خلاف ” اوفینسیو ڈیفینس “ یعنی جارحانہ دفاع “ کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔

بہر کیف تجزیے کی بنا پر توقع کی جانی چاہیے کہ امریکی صدر بھارتی حکمرانوں کو منفی روش ترک کرنے پر آمادہ کریں گے۔ یہاں اس امر کا تذکرہ بھی بے جا نہ ہو گا کہ اوبامہ خود کو مہاتما گاندھی کا بہت بڑا فین کہتے ہیں لہذا وہ اپنے بھارت کے دورے کے دوران راج گھاٹ میں واقع ” گاندھی کی سمادھی ‘آ‘ پر تو جائیں گے ہی۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر یو پی کے شہر سیتا پور اور میرٹھ بھی جائیں تو دیکھیں گے کہ بھارت کے موجودہ حکمران گروہ نے وہاں گاندھی کے قاتل ” ناتھو رام گوڈسے“ کا مجسمہ نصب کر رکھا ہے اور اس کے ”کارنامے“ کے اعتراف میں سیتا پور میں بہت بڑا گوڈسے مندر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس سے بھارتی حکمرانوں کے قول و فعل میں تضادات واضح ہو جاتے ہیں اور بھارت کے جمہوری دعووں کی قلعی بھی پوری طرح کھل جا تی ہے۔ ایسے میں اوبامہ کے علاوہ دیگر عالمی برادری کو بھی غالبا ً بہتر اندازہ ہو جانا چاہیے کہ بھارت کے اکثر علاقوں بھارت کے یومِ جمہوریہ کو سیاہ دن کے طور پر کیوں منایا جاتا ہے اور نام نہاد جمہوریت کی اصل شکل کیا ہے ۔

اصغر علی شاد
"بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت

 

No comments:

Powered by Blogger.