Header Ads

Breaking News
recent

عدم مساوات : کیسے کم ہو....

امیر اور غریب میں فرق شروع سے ہی انسان کا مسلۂ رہا ہے۔یہ فرق کم تو ہوسکتا ہے لیکن ختم نہیں ہوسکتا۔دنیا میں انسان کی صلاحتیں اور مواقع مختلف رہے ہیں۔لہذا دولت کی تقسیم میں بھی فرق نظر آتا ہے۔لیکن اگر کسی ملک کی حکومت اور دیگر ادارے یہ طے کرلیں کہ ہم نے اپنے لوگوں کے درمیان یہ فرق کم کرنا ہے تو یہ ناممکن نہیں ہے۔دنیا میں آجکل بھی بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں امیر۔غریب میں فرق بہت کم ہے۔ناروے اور ڈنمارک آجکل فلاحی ریاستیں شمار ہوتی ہیں۔اور بھی ممالک دنیا میں ایسے ہیں جہاں کم آمدنی والوں کو حکومت کی طرف سے بہت سی سہولیات دیکر انکی زندگی کو آسان بنایا جارہا ہے۔

ہر ملک کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔اگر ناروے فلاحی ریاست ہے تو ہمیں یہ پتہ ہے کہ اسے ایک بڑی فوج رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس کا کسی بھی پڑوسی سے کوئی جھگڑا نہیں ہے۔اسے جدید ترین اور مہنگا اسلحہ خریدنا نہیں پڑتا۔دنیا میں اور بھی بے شمار ممالک ایسے ہیں جنکے اردگرد جنگ کا ماحول نہیں ہے۔وہ اپنی آمدنیوں کا بڑا حصہ عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کردیتے ہیں۔غریبوں کو اگر خوراک ،لباس،رہائش ،تعلیم اور صحت کی سہولیات برائے نام قیمتوں پر دستیاب ہونگی تو عدم مساوات کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ہمارے اپنے ملک پاکستان کے حالات بہت سے ممالک سے مختلف ہیں۔حکومت کو آمدنی کا ایک بڑا حصہ دفاع پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔

پہلے صرف مشرقی سرحد کا دفاع پیش نظر تھا لیکن9/11کے بعد سے مغربی سرحد پر ہر وقت نگاہ رکھنی پڑتی ہے۔ہمارا محل وقوع ہی ایسا ہے کہ ہم مخالفین سے گھرے ہوئے ہیں۔لیکن اس کے باوجود پاکستان میں عدم مساوات کو کم کرنے کے لئے بہت سے کام کئے جارہے ہیں۔19جنوری کو شائع ہونے والے کالم میں یہ بتا چکا ہوں کہ پاکستان میں20۔فیصد لوگ ایسے ہیں جو خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔نیچے والے 30۔فیصد لوگ زندہ رہنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔حکومت اور سوسائٹی کے خوش حال لوگوں کو انہیں کے لئے کچھ کرنا ضروری ہوگیا ہے۔

اس موضوع پر بہت سے حوالوں سے گفتگو ہوسکتی ہے۔لیکن ہم صرف ایسی تجاویز پر گفتگو کریں گے۔جن پر عمل درآمد ممکن ہوسکتا ہے۔حکومت اور سول سوسائٹی ملکر یہ کام کرسکتے ہیں۔تعلیم کے شعبے میں پاکستان بہت پیچھے رہ گیا ہے۔تعلیم ہی بچوں کی صلاحیتوں کو نکھار کر اسے کمانے کے قابل بناتی ہے۔اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرتی ہے۔خاندان کا کفیل بناتی ہے۔پاکستان میں اب تک یہ شعبہNeglected رہا ہے۔اس وقت بھی 2کروڑ بچے ایسے ہیں جو سرے سے سکول نہیں جارہے وہ مجبوراً مختلف کام کرتے نظر آتے ہیں۔کچھ بچے اپنے والدین کے ساتھ کام کرتے نظر آتے ہیں۔ان تمام بچوں کی عمریں ایسی ہیں کہ انہیں سکولوں میں ہوناچاہیئے تھا۔

انکے ہاتھ میں مختلف اوزاروں کی بجائے قلم اور دوات ہوتی تو ہم کہہ سکتے تھے کہ انکا مستقبل روشن ہے۔مرکزی اور صوبائی حکمرانوں کو ایسے بچوں کی طرف توجہ دینی ضروری ہے۔ ایسے تمام بچوں کو جنکی عمر ابھی محنت کرنے کی نہیں بلکہ سیکھنے کی ہے۔انہیں مزدوری والے کاموں سے ہٹا کر سکول میں انکے ہم عمر ساتھیوں کے ساتھ بٹھایا جائے۔اگر آج یہ بچے تعلیم حاصل کریں،کوئی ہنر باقاعدہ سیکھیں گے تب مستقبل میں اچھی آمدنی حاصل کرسکیں گے۔اپنے خاندان کو غربت سے نکال سکیں گے۔

اس کام کے لئے قومی سطح کا منصوبہ بننا ضروری ہے۔ہمارے ہاں اب تک Litracy rate صرف60 فیصد ہے۔جبکہ دنیا میں اب بے شمار ملکوں نے اپنی پوری پوری آبادیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرلیا ہے۔ہمارے ہاں پرائمری میں داخلے کے بعد ہی بہت سے بچے سکول چھوڑ جاتے ہیں۔آٹھویں کلاس اور دسویں کلاسوں سے پہلے ہی کلاسوں میں بچوں کی تعداد کم ہوجاتی ہے۔حکومت ایسا انتظام کرے کہ ہر بچہ کم ازکم میڑک تک ضروری تعلیم حاصل کرے۔اس کے بعد تمام بچوں کو انکی صلاحیتوں اور رحجانات کو سامنے رکھ کر فنی تربیت دی جائے۔ایسا انتظام لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لئے ہو۔

انکی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کیاجائے۔یوں وہ عملی زندگی میں جاکر اپنے لئے اور اپنے خاندان کے لئے کافی آمدنی حاصل کرسکیں گے۔شہروں میں تو تعلیم کی سہولیات نظر آتی ہیں۔لیکن دیہاتوں میں اچھے تعلیمی اداروں کی بہت کمی ہے۔پنجاب میں صرف چند دانش سکول ہی بنے تھے۔غریبوں کے لئے تمام شہری اور دیہاتی سکولوں کا معیار دانش سکولوں کے برابر لایا جائے۔پہلے سے موجود تعلیمی ڈھانچے کے مسائل حل کرنا ضروری ہے۔آجکل تمام شہری اور دیہی سکول کھلے ہوئے ہیں۔کیا جناب وزیراعظم اور چاروں وزرائے اعلیٰ یہ تکلیف کریں گے کہ وہ اپنے ہیلی کاپڑوں میں بیٹھیں اور اچانک کسی سکول میں پہنچ کر جائزہ لیں کہ وہاں کیا ہورہا ہے؟

اساتذہ کی حاضری اور طلباء کی حاضری کی کیا صورت حال ہے۔دوردراز دیہاتوں میں تعلیم دینے والے اساتذہ کی اپنی استعداد کاکیا حال ہے۔طلباء کو فراہم کی جانیوالی سہولیات کس درجے کی ہیں۔سیلاب میں بہہ جانے والے سکول جو کاغذات میں تو دوبارہ تعمیر ہوئے تھے۔کیا موقع پر انکی بلڈنگیں موجود ہیں یا نہیں؟۔قوم کے بچے تعلیم میں آگے بڑھیں گے۔ہنر سیکھیں گے۔نتیجتاً انکی صلاحتیں بھی بڑھیں گی۔عملی زندگی میں وہ زیادہ کماسکیں گے۔غربت کم ہوگی۔اور خود بخود ہی امیر اور غریب کے درمیان فرق کم ہوگا۔

اعلیٰ درجے کی تعلیم میں بھی بڑے مسائل ہیں۔بہت کم طلباء کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پہنچ رہے ہیں۔جو پہنچتے ہیں ان کا مقصد بھی ڈگریوں کا حصول ہے۔ہماری یونیورسٹیوں اور خاص طورپر سرکاری شعبے کی یونیورسٹیوں میں تحقیقی اور تخلیقی کام نہیں ہورہا ہے۔ہم کوئی نئی ٹیکنالوجی پیدا نہیں کر رہے۔ ایسی ہی صورت حال نئے Processesکی ہے۔ 67سالہ پاکستان ہر چیز بنی بنائی باہر سے منگوانے پر مجبور ہے۔

 حکومت اور سول سوسائٹی کی ذمہ داری ہے کہ اعلیٰ تعلیم کو تحقیقی اور تخلیقی بنایا جائے۔اساتذہ بھی طلباء کو تخلیق کی طرف توجہ دلائیں۔طلباء کو جدید طرز سے تعلیم دیں۔طلباء کو اسباق رٹا کر مسلۂ حل نہیں ہوگا۔ان میں سوچ بچار کرنے اور غوروحوض کی عادت ڈالیں گے تو بات بنے گی۔اعلیٰ تعلیم میں طلباء اور اساتذہ لائبریریوں اور لیبارٹریوں میں زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں گے تو طلباء کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہوگا۔عموماً دیکھا گیا ہے کہ لائبریوں میں قیمتی کتابیں خریدی توجاتی ہیں لیکن پڑھی نہیں جاتیں۔اساتذہ طلباء کو لائبریریوں میں لے جاکر خود کتابیں لیکردیں۔ٹیکسٹ بکس کے ساتھ ساتھ حوالے کی کتابوں کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔تاکہ ملک میں تحقیق اور تخلیق کا ماحول پیدا ہو

پروفیسر جمیل چوہدری

No comments:

Powered by Blogger.