Header Ads

Breaking News
recent

پاس کر یا برداشت کر....محمد بلال غوری

فرانس میں مزاح اور فنون لطیفہ کی تاریخ کئی صدیوں پر محیط ہے۔ جس طرح ہمارے ہاں بعض علاقے جگت بازی کے حوالے سے مشہور ہیں اسی طرح فرانسیسیوں کی رگ ظرافت بھی پوری دنیا میں ضر ب المثل ہے۔ فرانس میں ان دنوں ایک کامیڈئن Dieudonne کے بہت چرچے ہیں۔ سیاہ فام فرانسیسی کامیڈئن کی والدہ تو برطانیہ سے تھیں مگر ان کے والد کا آبائی تعلق کیمرون سے ہے۔رواں سال جنوری کے پہلے عشرے میں اس نے فرانس کے مختلف شہروں میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنا تھا مگر وزیر داخلہ کی طرف مقامی انتظامیہ کو ایک مراسلہ جاری کیا گیا کہ Dieudonne اپنی روایتی جگت بازی کے دوران ہولو کاسٹ اور گیس چیمبرز سے متعلق سوالات اٹھاتے ہیں اور آزادی اظہار کی آڑ میں یہودی کمیونٹی کی دل آزاری کے مرتکب ہوتے ہیں اس لئے سکیورٹی یا نقص امن کو بنیادبنا کر ان کے شوز منسوخ کر دیئے جائیں ۔اگر ملکی سطح پر پابندی لگائی گئی تو بدنامی ہو گی لہٰذا مقامی سطح پر شو کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔چنانچہ یہودی کمیونٹی کے جذبات و احساسات کاا حترام کرتے ہوئے اس فنکار پر پابندی عائد کر دی گئی۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اس کے شوز منسوخ کئے گئے ہیں اس سے قبل بھی کئی بار اسے جرمانہ کیا جا چکا ہے۔چند برس ہوتے ہیں امریکہ میں فلاڈلفیا سے تعلق رکھنے والے ایک فلم ڈائریکٹر کو اس لئے گرفتار کر لیا گیا ہے کہ وہ ہٹلر کی زندگی پر فلم بنانے کا سوچ رہا تھا۔ امریکہ سمیت یورپی ممالک میں سینکڑوں نہیں ہزاروں محققین، مصنفین اور دانشوروں کی زندگیاں محض اس لئے اجیرن کر دی گئیں کہ انہوں نے ہولوکاسٹ کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا۔ بلکہ یورپ کے 16 ممالک میں تو ہولوکاسٹ کے موضوع پر کسی قسم کی تحقیق، تحریر یا تقریر پر پابندی عائد ہے اور جو کوئی بھی اس حوالے سے کسی قسم کی بات کرے اسے تین سے سات سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ ان دنوں آزادی اظہار کی بحث کا از سر نو آغاز فرانسیسی جریدے ’’چارلی ہیبڈو‘‘ پر حملے کے بعد ہوا۔لہٰذا بہتر ہو گا کہ تمثیلاً ایک واقعہ ادھر سے بھی بیان کر دیا جائے۔

Maurice Sinet ایک معمر فرانسیسی صحافی ہیں جو ایک عرصہ تک ’’چارلی ہیبڈو‘‘ سے وابستہ رہے۔ ان کا مزاحیہ کالم Sine کے قلمی نام سے ہر ہفتے اس جریدے میں شائع ہوا کرتا تھا۔ جولائی 2008ء کے ایک شمارے میں انہوں نے ظریفانہ انداز میں فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی کے 22 سالہ یہودی دوشیزہJessica Sebaoun Darty سے معاشقے کا ذکر کیا۔’’چارلی ہیبڈو‘‘ کے مدیر نے انہیں نوٹس جاری کیا کہ وہ یہودی کمیونٹی کی دل آزاری کرنے پر معافی مانگیں ورنہ ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔موریس سائن نے معافی مانگنے سے انکار کر دیا اور موقف اختیار کیا کہ آزادی اظہار کے حق پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔ چنانچہ موریس سائن کو نوکری سے نکال دیا گیا۔اس طرح کی بیشمار مثالیں دی جا سکتی ہیں جب اظہار رائے کی آزادی کو خاطر میں نہ لایا گیا۔اور اس میں کوئی قباحت بھی نہیں کہ مجرد آزادی تو کسی کو بھی نہیں دی جا سکتی۔

پارلیمان آزاد اورخود مختار ہے جو چاہے قانون بنائے مگر برطانوی دارلعوام ہو یا فرانسیسی قومی اسمبلی و سینیٹ، اگر وہاںیہ قانون منظور ہو جائے کہ بصارت سے محروم افراد کو پھانسی دے دی جائے گی تو کوئی ذی شعور انسان اس کی حمایت نہیں کرے گا۔میڈیا کو اظہار رائے کی آزادی ہے لیکن کوئی اخبار یا چینل بے بنیا دالزام لگا کر پگڑی اچھالے تو اس کے خلاف ہر جانے کا دعویٰ کیا جا تا ہے۔اظہار رائے کی آزادی کا یہ مطلب کیسے ہو سکتا ہے کہ جو جی میں آئے کہیں اور جو جی میں آئے لکھیں ؟اگر آپ کے مہذب معاشرے میں ہولوکاسٹ کو جھٹلانا جرم ہے اور اس پر اس لئے پابندی عائد ہے کہ چند کروڑ یہودیوں کی دل آزاری نہ ہو تو ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات و احساسات سے کھلواڑ کی کھلی چھٹی کیوں دے دی جاتی ہے؟

چند روز قبل پیرس میں جو خونریزی ہوئی اسے سب نے افسوسناک قرار دیا مگر ’’چارلی ہیبڈو‘‘ کی انتظامیہ نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ جو ہوا تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق نہ صرف درست تھابلکہ وہ اس محاذ آرائی و کشمکش کو ختم کرنے کے بجائے بڑھاو ادینا چاہتے ہیں ۔اس حملے کے بعد ’’چارلی ہیبڈو‘‘ کا تازہ شمارہ جو گزشتہ بدھ کو شائع ہوا ہے اس کے سرورق پر آنحضور ﷺ کا خاکہ شائع کیا گیا ہے اور آنسو بہاتے اس خاکے کے ہاتھ میں ایک بینر تھمایا گیا ہے جس پر لکھا ہے ’’میں چارلی ہیبڈو‘‘ ہوں ۔اس شمارے کے اندر بھی بیشمار توہین آمیز کارٹون ہیں مثال کے طور پر ایک کارٹون میں ایک مسلمان کو جنت میں دکھایا گیا ہے جو تجسس بھرے انداز میں پوچھ رہا ہے کہ وہ 70 حوریں کہاں ہیں جن کا ہمارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔؟

عام طور پر اس جریدے کی اشاعت ایک لاکھ تک ہوتی ہے مگر اس خصوصی شمارے کی 30 لاکھ کاپیاں شائع کی گئی ہیں اور 16 مختلف زبانوں میں اس کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس نئی گستاخی کامطلب تو یہی ہے کہ ڈیڑھ ارب مسلمان جائیں بھاڑ میں ، آزادی اظہار کی آڑ میں ان کے مذہب اور پیغمبر کی اہانت اور تضحیک کا سلسلہ یونہی جاری رہے گا۔ ظاہر ہے اگر مغربی معاشرہ ان انتہاپسندوں کو روکنے میں ناکام رہا تو مسلم معاشرہ بھی دیوانوں اور پروانوں کو نہیں روک پائے گا اور خونریزی کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہے گا۔اگر ایندھن کو آکسیجن ملتی رہے گی تو آگ جلتی رہے گی اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور آکسیجن کے ملاپ سے پانی کے بجائے پیٹرول تیار کر لے گا تو اسے ماسوائے حماقت کے اور کیا کہا جا سکتا ہے۔

اگر اسلامی ممالک کے سربراہان تشدد کا دروازہ بند کرنا چاہتے ہیں تو انہیں توہین رسالتؐ کا قانون منظور کروانا ہوگا۔ اختلافات بھلا کر تمام مسلم ممالک اس حوالے سے یکسو ہو جائیں اور فرانس کے ساتھ تجارتی و سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا الٹی میٹم دیں یا پھرجس طرح یورپی ممالک کے رہنما پیرس میں جمع ہوئے اور 40 سربراہان مملکت نے فرانس سے اظہار یکجہتی کے لئے مارچ کیا اسی طرح 56 اسلامی ممالک کے سربراہان کو جنیوا میں جمع ہو نا چاہئے اور مل کر پوری دنیا کو یہ پیغام دینا چاہئے کہ یہودیوں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچانے کی خاطر ہولو کاسٹ سے متعلق قانون سازی ہو سکتی ہے تو توہین رسالت ﷺ کا عالمی قانون کیوں نہیں بن سکتا۔

تمام مسلم حکمران ہنگامی بنیادوں پر جنیوا میں جمع ہوں اور اقوام متحدہ کے دفتر کی طرف مل کر مارچ کریں تاکہ پوری دنیا کو پیغام جائے کہ اسلام تشدد کی حوصلہ شکنی کرتا ہے لیکن اسے روکنا ہے تو اظہار رائے کی آزدی کو مسلمانوں کی دل آزاری کے لئے بطور ہتھیار استعمال ہونے سے روکنا ہوگا۔ اگر حکمران بے ضمیر ہیں اور مسلمان اپنے طور پر کچھ کرنا چاہتے ہیں تو خاموشی سے اثر و رسوخ بڑھائیں ،یہودیوں کی طرح مضبوط لابی بنائیں اور اس طرح کی توہین کو جرم قرار دلوائیں ۔اگر یہ سب نہیں کر سکتے اور غیرت ایمانی کے سبب خاموش رہنا بھی ممکن نہیں تو فرانس میں مقیم 70 لاکھ اور جرمنی میں آباد 40 لاکھ مسلمان اپنے پاسپورٹ جلا کر واپس اپنے آبائی ممالک کو چلے جائیں۔کم ازکم اس بات پر تو ضمیر مطمئن ہو گا کہ جس کافر ملک میں کالی کملی والے کے گستاخ رہتے تھے غلامی رسولﷺ میں اس ملک پر لعنت بھیج کر ہجرت کر گئے۔کیونکہ دین اور دنیا کا آفاقی اصول یہی ہے کہ پاس کر یا برداشت کر۔

محمد بلال غوری
"بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

No comments:

Powered by Blogger.