Header Ads

Breaking News
recent

سستی سیاست....

جس طرح معاشرے زوال پذیر ہوتے ہیں اور انسانی اقدار انحطاط کا شکار ہوتی ہیں اسی طرح بعض اصطلاحات اور الفاظ بھی اپنے معانی سے محروم ہو جاتے ہیں۔سیاست اگرچہ بذات خود کوئی غلط شے نہیں مگر میدان سیاست کے شہسواروں نے اس کا مفہوم بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ہمارے ہاں ہر مسئلے پر سیاسی دکانداری چمکانے اور ہتھیلی پر سرسوں جمانے کا رجحان عام ہے۔سیاست کرنے میں کوئی قباحت نہیں لیکن اعتراض صرف یہ ہے کہ وطن عزیز میں گھٹیا،سستی اور بدبودار قسم کی سیاست کی جاتی ہے۔مثال کے طور پر گزشتہ دو ماہ سے پیٹرول سمیت تمام آئل پراڈکٹس کے نرخ کم ہو رہے ہیں اور حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ یکم جنوری 2015ء سے پیٹرول کی قیمتیں مزید کم کی جائیں گی۔

اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ پیٹرول کے نرخ اس کے دبائو اور احتجاجی تحریک کی وجہ سے کم ہوئے ہیں جبکہ حکومت یہ جتانے کی کوشش کر رہی ہے کہ مہنگائی سے تنگ عوام کو پیٹرول کے نرخ گھٹا کر ریلیف دیا گیا ہے ۔حالانکہ ہر دو فریقین کے دعوے صریحاًجھوٹ پر مبنی ہیں۔اس سے پہلے جب حکومت پیٹرول مہنگا کرتی تھی تو اس کی ذمہ داری لینے کے بجائے یہ کہا جاتا تھا کہ ہم عالمی مارکیٹ سے مہنگے داموں پیٹرول خرید کر سستا نہیں بیچ سکتے مگر اب جب مارکیٹ میں آئل پرائسز گراوٹ کا شکار ہیں تو احسان جتانے اور بتانے کی کیا ضرورت ہے ،صاف کہا جائے کہ اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں۔انٹرنیشنل مارکیٹ میں خام آئل کے نرخ کم ہوئے ہیں تو ہم نے بھی قیمتیں کم کر دی ہیں تاکہ مستقبل میں جب پیٹرول کے نرخوں میں اضافہ ہونے پر اوگرا کڑوی گولیاں دے تو لوگ حکومت کو کوسنے نہ دیں ۔
حکومت تو اخبارات اور ٹی وی چینلز پر اشتہارات تب چلاتی جب عوام کو کوئی سبسڈی دی جا رہی ہوتی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ نہ صرف محصولات کی مد میں ایک خطیر رقم اینٹھی جا رہی ہے بلکہ عالمی منڈی میں قیمتوں کی کمی کا فائدہ بھی مکمل طور پر صارفین تک نہیں پہنچ رہا۔جون 2014میں جب عالمی منڈی میں خام تیل 115ڈالر فی بیرل دستیاب تھا تو ہمارے ہاں پیٹرول 107.97روپے لیٹر تھا۔ اب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 57روپے ڈالر فی بیرل ہے یعنی عالمی منڈی میں آئل پرائس نصف رہ گئی تو اس حساب سے ہمارے ہاں پیٹرول عام آدمی کو 54روپے فی لیٹر دستیاب ہونا چاہئے مگر تا دم تحریر پیٹرول 84.53 روپے لیٹر فروخت ہو رہا ہے گویا جو احسان جتا رہے ہیں وہ اب بھی لیوی سرچارج، سیلز ٹیکس اور دیگر محصولات کی مد میں ایک خطیر رقم وصول کرنے کے علاوہ فی لیٹر 30 روپے بٹور رہے ہیں۔غالباً اسی اضافی رقم میں سے چند کروڑ روپے اشتہاری مہم پر خرچ کئے جا رہے ہیں۔

یہ تو تھی مقامی سیاست ،اب ایک نظر تیل کی عالمی سیاست پر۔ ماضی میں جب بھی تیل کی قیمتیں کم ہوتی تھیں ،اوپیک ممالک اپنی پیداوار کم کر دیتے تھے تاکہ رسد کے مقابلے میں طلب بڑھے تو تیل کے نرخ پھر سے معمول پر آ جائیں ۔مگر اس بار گزشتہ ماہ منعقد ہونے والے اوپیک کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تیل کی پیداوار میں کمی نہیں کی جائے گی۔چند روز قبل بھی سعودی وزیر تیل علی النعیمی نے ببانگ دہل کہا کہ نقصان برداشت کر لیں گے مگر تیل کی پیداوار کم نہیں کریں گے۔اس فیصلے پر عالمی ماہرین اور تجزیہ نگاروں کو شدید حیرت ہوئی کیونکہ اس سے صرف سعودی عرب ہی نقصان نہیں اٹھائے گا بلکہ بہت سی امریکی کمپنیاں بھی دیوالیہ ہو جائیں گی۔ 

سعودی عرب نے گزشتہ برس تیل کی بر آمدات سے 274 بلین ڈالر حاصل کیے مگر اب اسے یومیہ 4 ملین ڈالر خسارے کا سامنا ہے۔ عرب اسپرنگ کے بعد سماجی بہبود کے جو منصوبے شروع کئے گئے تھے، تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد ان پر نظر ثانی کرنا پڑے گی۔ سوال یہ ہے کہ آخر سپر پاور اور خلیجی ممالک تیل کی گرتی قیمتوں پر اس قدر مطمئن کیوں ہیں؟ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عارضی نقصان برداشت کر کے اپنے دو حریف ممالک کو سبق سکھانا اور قدموں پر گرانا چاہتے ہیں ۔

امریکہ کو روس کے ساتھ حساب چکانا ہے تو ایران کئی ممالک کا مشترکہ حریف ہے۔ روسی معیشت کا انحصار بڑی حد تک تیل کی بر آمدات پر ہے۔ روس میں حال ہی میں جو بجٹ پیش کیا گیا اس میں خام تیل کی قیمت کا تخمینہ 100ڈالر فی بیرل لگایا گیا مگر اب قیمت گرنے سے اسے یومیہ 9.5ملین ڈالر خسارے کا سامنا ہے۔ روبل کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت بڑھ رہی ہے اور پہلے سے امریکی بنکوں سے قرضے لیکر بقاء کی جنگ لڑنے والی روسی کمپنیاں دیوالیہ ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ امریکہ روسی افواج کے یوکرین میں داخل ہونے پر تلملایا مگر کچھ نہیں کر پایا مگر اس مہلک وار کے بعد اپنے حریف کو شکست دینے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

امریکہ اور مغربی دنیا کو ایران کے جوہری پروگرام سے تو پریشانی ہے ہی مگر کئی خلیجی ممالک کو شکوہ یہ ہے کہ ایران نے شام میں بشار الاسد کے قریب المرگ اقتدار کو وینٹی لیٹر فراہم کر رکھا ہے۔جب شام کے تیل کے کنویں باغیوں کے قبضے میں چلے گئے یا امریکہ نے ہتھیا لیے تو ایرانی حکومت نے اسے آئل پراڈکٹس کے لئے 3.6بلین ڈالر جبکہ نان آئل پراڈکٹس کےلئے ایک ارب ڈالر کی کریڈٹ فسیلٹی دی اور یہی نہیں بلکہ شامی پائونڈ کو سہارا دینے کے لئے اس کے سنٹرل بنک میں 750ملین ڈالر بھی جمع کرائے۔ اب ایران کی شہ رگ دبوچنے اور شام کو سبق سکھانے کے لئے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تیل کی قیمتیں کم ترین سطح پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

عالمی منڈی پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ آئندہ ماہ خام تیل کی قیمت 40سے 45 ڈالر فی بیرل تک آنے کا امکان ہے اور فوری طور پر منڈی میں تیزی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔

یہ ہے وہ عالمی سیاست جس کی وجہ سے بعض کمپنیاں دیوالیہ اور سرمایہ کار کنگال ہو رہے ہیں تو دوسری طرف صنعتی ترقی کا پہیہ رواں دواں ہونے سے عالمی جی ڈی پی میں 0.5فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔برطانیہ سمیت وہ ممالک اس صورتحال سے بیحد فائدہ اٹھا رہے ہیں جو تیل خرید کر ذخیرہ کر سکتے ہیں۔ برطانیہ کو تیل کی بر آمدات کی مد میں روزانہ 3 ملین پائونڈ کی بچت ہو رہی ہے۔ عالمی سیاست اپنی جگہ لیکن قیمتیں کم ہونے سے پاکستان کے غریب عوام کی بھی سنی گئی اور حکومت نے استادی یہ کی کہ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کا فائدہ بھی مکمل طور پر عوام تک نہیں پہنچنے دیا اور حاتم طائی کی قبر پر لات مار کر شیخیاں یوں بگھار رہی ہے جیسے عوام پر احسان عظیم کیا ہو۔دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں یہ کہہ کر پوائنٹ اسکورنگ کر رہی ہیں کہ نرخ ان کے دبائو پر کم ہوئے یا عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کی وجہ سے ،اس میں حکومت کا کوئی کمال نہیں ۔گویا اس سے پہلے تو حکومتیں اپنی جیب سے پیسے ڈال کر پیٹرول سستا کیا کرتی تھیں ۔نہ جانے یہ گھٹیا اور سستی سیاست ہمارے ملک سے کب ختم ہو گی۔

محمد بلال غوری

"بشکریہ روزنامہ "جنگ

No comments:

Powered by Blogger.