Header Ads

Breaking News
recent

کیا پاکستان ایک تلخ خواب بن گیا ہے؟......


پاکستان کے شہر پشاور کے ایک سکول میں پہلی سے دسویں جماعت تک کے ایک سو بتیس طلبہ اور ان کے نو اساتذہ کے بہیمانہ قتل نے پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان معصوم بچوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والے انسان نہیں بھیڑیے ہیں۔ جن کی ظالمانہ دہشت گردی کا یہ بچے نشانہ بنے ہیں۔ یہ امریکا کی ریاست کولمبیا اور نیو ٹاون کے لوگ ہوں یا ناروے میں کی جانے والی دہشت گردیکا نشانہ بننے والے معصوم لوگ۔ یا پھر اب پشاور میں دہشت گردی کا تازہ واقعہ، سب کا نتیجہ ایک ہی ہے۔

 خون کا بہنا اور بے گناہوں کی جانوں کا خوفناک ضیاع۔ لیکن پشاور میں قتل و غارتگری کے مرتکب ہونے والے کسی ذہنی عارضے کا شکار لوگ نہ تھے، بلکہ انہوں نے جانتے بوجھتے ہوئے اور شعوری طور پر اس گھناونے جرم کی منصوبہ بندی کی۔ یہ سب موت کے نمائندے تھے جنہوں نے خود کو بارود سے آڑایا یا انہیں بعد ازاں آپریش کر کے مارا گیا۔

لیکن میرے خیال میں یہ بات اہم نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس امر کی باقاعدہ تحقیقات کی جائیں کہ اس سانحے اور ایسے ہی دیگر سانحات کے پیچھے موت کے کون کون سے سوداگر تھے۔ جو ان معصوم بچوں کی موت کا سبب بنے۔ طالبان جن کے اس واقعے کے پیچھے ہونے کا امکان غالب ہے کہ پاک فوج کے بارے میں وہ اپنے تحقیر آمیز خیالات سامنے لاتے رہتے ہیں اور تعلیم مخالف رجحانات کا بھی اظہار کرتے رہتے ہیں۔

تاہم ان حملوں کو پاکستان میں موجود سیاسی صورت حال کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے کہ جب عوام کی منتخب کردہ حکومت قائم ہے لیکن لوگوں کو یہ یقین دلانے سے قاصر ہے کہ ''ہاں فوج بیرکوں تک محدود ہے ۔'' بلکہ اہم ترین سیاستدانوں نواز شریف، عمران خان اور آصف علی زرداری کے درمیان ایک جنگ کی سی کیفیت جاری ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران پاکستان ان کی وجہ سے عملاً ان لوگوں کی وجہ سے مفلوج رہا ، جنہوں نے اسے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان ان کی طرف سے تھا جنہوں نے چند ماہ سے ملک میں کنٹینر سیاست شروع کر رکھی ہے۔ وہ انتخابی عمل از سر نو چاہتے ہیں۔ 

یہ سب کچھ انتہا پسندی کے رینگ رینگ کر آگے بڑھنے، مذہبی نظریات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف نفرت کے ذریعے ایک مکمل افراتفری پیدا کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے باوجود کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ قتل و غارت گری کا یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے نہ ان قاتلوں کے بڑوں اور انہیں آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے والوں کو مزید سازشوں کا موقع دیا جا سکتا ہے۔

اہل پاکستان کو عزت و وقار کے ساتھ جینے کا حق ہے کہ وہ ایک محفوظ اور باوقار زندگی گذار سکیں۔ اس مقصد کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے بڑوں کو اپنےاختلافات ایک طرف رکھنا ہوں گے اور اپنی حب الوطنی کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے وطن کو محفوظ بنانا ہو گا۔ لیکن نئے پاکستان کے نعرے اور گانے مفید نہیں ہوں گے۔ جیسا کہ پاکستان کے ایک سینئیر بیورو کریٹ اور پاکستان کے کئی عشروں سے تلخ ماہ و سال کے عینی شاہد روئیداد خان نے دو عشرے پہلے ہی اپنی تصنیف '' ایک خواب جو تلخ ہو گیا ''لکھ دی تھی۔ پشاور میں ہونے والے تازہ سانحے نے بھی ایسی ہی صورت حال تو پیدا نہیں کر دی جس کے بعد ہم یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوں کہ '' کیا پاکستان ایک تلخ خواب بن گیا ہے ؟''

خالد المعینا


No comments:

Powered by Blogger.