Header Ads

Breaking News
recent

سانحہ مشرقی پاکستان کے اسباب....


اس کا بنیادی سبب نظریہ پاکستان سے اغماض و اعراض اور انحراف تھا  جو قوم تاریخ سے سبق حاصل نہ کرے اور اپنے ماضی کو یاد نہ رکھے ،وہ باربار ماضی کی غلطیوں کا اعادہ کرتی ہے۔ ماہرین ِعمرانیات قوموں کے ماضی کو ان کی یادداشت سے تشبیہ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں،جو قوم اپنا ماضی بھول جائے، وہ اپنی یادداشت کھو بیٹھتی ہے، پھر ایسی قوم پر ایک وقت آتا ہے جب وہ خود قصۂ ماضی بن جاتی ہے۔ اس لئے ماضی کو بہرصورت یاد رکھنا چاہئے۔ ماضی کا نہ بھولنے والا ایک سبق سانحہ مشرقی پاکستان ہے۔ یہ سانحہ اچانک رونما نہ ہوا تھا بلکہ اس کے پیچھے برس ہا برس کے عوامل اور حادثات کارفرما تھے، جو اس کے وقوع پذیر ہونے کا سبب بنے۔

 یہ درست ہے کہ قوموں کی زندگیوں میں المیے اور حادثات رونما ہوتے ہی رہتے ہیں ، قوموں کو فتح و شکست اور عروج و زوال کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، لیکن زندہ قومیں اپنے ماضی، اپنی شکست اور اپنے دشمن کو کبھی فراموش نہیں کرتیں۔ایسے ہی پاکستانی قوم سانحہ مشرقی پاکستان کو کبھی نہیں بھول سکتی ،البتہ اقتدار واختیار کے ایوانوں میں براجمان ہمارے حکمرانوں نے اس سانحہ کو قصۂ ماضی سمجھ کر ماضی کا حصہ ضرور بنا دیا ہے۔ یقینی بات ہے کہ اگر ہمارے حکمرانوں نے اس سانحہ کو یاد رکھا ہوتااور اپنے دشمن کو فراموش نہ کیا ہوتا، توآج ہمارا ملک ناگفتہ بہ حالات سے دوچار نہ ہوتا۔ ماضی کا یاد رکھنے والا ایک سبق یہ ہے کہ متحدہ ہندوستان کے 9صوبے تھے۔ جب تقسیم ہند کا وقت آیا تو 9 میں سے 7 صوبے مکمل طور پر ہندوئوں کو دے دیے گئے۔ صرف دو صوبے یعنی بنگال اور پنجاب تقسیم ہوئے۔ دو آدھے صوبوں(مشرقی بنگال اور مغربی پنجاب)، سندھ، خیبر پی کے اور بلوچستان پر مشتمل پاکستان بھی انگریز اور ہندوئوں کو قبول نہ تھا، بات یہ تھی کہ انگریز اور ہندو پاکستان کے قیام کے حق میں ہی نہ تھے۔ 

ان کے نزدیک پاکستان محض جغرافیائی تقسیم کا نام نہ تھا بلکہ اسلام اور عقیدہ توحید سے موسوم ایک مملکت کا نام تھا۔ اسلام اور عقیدہ توحید ، نظریہ ٔپاکستان کی اساس تھا اس لئے ہندو اور انگریز پاکستان کے قیام کے خلاف تھے۔ کانگریسی رہنمائوں کے پاکستان کے خلاف وقتاً فوقتاً دیے جانے والے بیانات ان کے خبث باطن کا عملی ثبوت تھے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے 14جون 1947ء کے اجلاس میں پاکستان کے متعلق اپنے مستقبل کے عزائم کا اظہار ان الفاظ میں کر دیا تھا ’’ہمارے دلوں میں ہمیشہ متحدہ ہندوستان کا تصور قائم رہے گا۔ ایک وقت آئے گا جب دو قومی نظریہ باطل، مسترد اور غیر معتبر قرار پائے گا۔‘‘ واضح رہے کہ 14جون کا یہ بیان کانگریس کے کسی رہنما کا ذاتی نہیں بلکہ ایک ایسی جماعت کا پالیسی بیان تھا، جو 15اگست کو بھارت کی عنان حکومت سنبھالنے والی تھی۔

کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد 14جون کے اپنی پالیسی ساز اور سرکاری بیان کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مسلسل کوشاں رہی۔ سانحہ ٔمشرقی پاکستان کانگریس کی انہی مذموم اور ناپاک کوششوں کا نتیجہ تھا۔ سرحدوں، پانی کے ذخائر اور اثاثوں کی غلط تقسیم، حیدرآباد دکن، جوناگڑھ اور جموں کشمیر پر قبضہ، مشرقی پنجاب اور مغربی بنگال میں مسلمانوں کا بے دریغ قتل عام ، پاکستان کو غیر مستحکم کئے جانے والے اقدامات کی ابتدا تھی۔ بھارت کی طرف سے پاکستان کو جنگ کی پہلی دھمکی اس کے قیام کے صرف 40دن بعد عدم تشدد کا پرچار کرنے والے گاندھی نے 26ستمبر 1947ء کو پرارتھنا کی ایک میٹنگ میں دی تھی اور اس کے ٹھیک ایک ماہ بعد 27اکتوبر کی سیاہ شب بھارت نے اپنی فوجیں ریاست جموں کشمیر میں داخل کر کے جنگ کی دھمکی کو عملی جامہ پہنا دیا تھا۔ ریاست جموں کشمیر کے 41,342مربع میل علاقہ پر قبضہ کے بعد بھارت کا اگلا محاذ مشرقی پاکستان تھا۔ 

حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جس طرح مشرقی پنجاب میں گورداسپور بھارت کو دے کر ریاست جموں کشمیر میں اس کی دراندازی کی راہ ہموار کی گئی تھی ایسے ہی بنگال میں کلکتہ بھارت کو دے کر مشرقی پاکستان کے لیے جغرافیائی، اقتصادی، معاشی اور دفاعی مشکلات کھڑی کی گئیں۔ کشمیر کی طرح کلکتہ کو بھی پاکستان سے کاٹنے کا فیصلہ بہت پہلے ہو چکا تھا۔ جیسا کہ سردار پٹیل نے بعد میں کہا تھا ’’ہم بنگال کی تقسیم پر صرف اس صورت رضامند ہوئے تھے کہ ہمیں کلکتہ سے ہاتھ نہ دھونا پڑیں۔ ہم نے واضح کر دیا تھا کہ اگر کلکتہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔‘‘ پاکستان کے دولخت ہونے کا باعث بننے والے مسائل پیچیدہ اور لاینحل ہرگز نہ تھے، تاہم سب سے اہم مسئلہ جس سے پہلوتہی کی گئی ،جس سے اغماض و اعراض برتا گیااور جو حقیقتاً مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سبب بنا وہ اسلام اور اللہ کے قرآن سے انحراف تھا۔ بات بہت سیدھی سی تھی کہ ہندوستان بہت وسیع و عریض خطہ تھا جس میں مسلمان دور دور تک بکھرے پڑے تھے۔وہ انتشار و اختلاف کا شکار تھے۔ راجکماری سے کراچی تک بکھرے مسلمانوں کو اگر کسی چیز نے ایک لڑی میں پرو دیا تو وہ اسلام تھا۔

 یہ اسلام کے نام کی برکت تھی کہ نیپال جیسے دوردراز خطے کی سرحد پر رہنے والے سادہ لوح مسلمان بھی پاکستان کے نام پر جان قربان کرنے کیلئے آمادہ و تیار اور پاکستان کے والہ و شیدا تھے۔ آج مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی وجوہات کا تعین کرنے والے دونوں خطوں میں زبان، صوبائی خودمختاری اور زمینی و جغرافیائی جیسے مسائل کا ذکر کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب دونوں خطوں کے عوام نے مل کر وطن کے حصول کی مشترکہ جدوجہد کی تو کیا ،اس وقت یہ مسائل موجود نہ تھے؟ سب کچھ ایسے ہی تھا۔ یہ مسائل اس وقت بھی تھے۔ زمینی خلیج اور زبان کی تفریق اس وقت بھی تھی، لیکن اسلام کے رشتے کی وجہ سے ایک ہزار میل دور بیٹھے دونوں خطوں کے مسلمانوں کے جذبات و احساسات ایک تھے اور ان کے دل بھی ایک ساتھ دھڑکتے تھے۔ 

بنگالی مسلمانوں کی اسلام کے ساتھ محبت شک وشبہ سے بالاتر تھی۔ انگریز کے انخلا اور وطن کی آزادی کے لیے ان کی قربانیاں تاریخ ساز تھیں۔ جماعت مجاہدین سے وابستہ بنگال و بہار کے مسلمان ایک سو سال تک انگریز کے خلاف برسرپیکار رہے، اسے لوہے کے چنے چبواتے رہے، قیدوبند کی صعوبتوں سختیوں کو سنتِ یوسفی سمجھتے رہے، پھانسی کے پھندوں کو جنت کی معراج جانتے رہے، آہنی زنجیر و سلاسل کو لباسِ زینت سمجھ کرپہنتے رہے اور جب قیامِ پاکستان کی تحریک چلی تو اسے سید احمد اور شاہ اسماعیل شہیدین کی برپا کردہ مقدس جہادی تحریک کا تتمّہ اور ماحاصل سمجھ کر کامیاب کرنے کے لیے کمر بستہ ہو گئے۔ 

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بنگال و بہار سے تعلق رکھنے والے جماعت مجاہدین سے وابستہ جانبازوں اور سرفروشوں کا مشرقی بنگال کو مشرقی پاکستان بنانے میں اہم کردار تھا۔ لہٰذا جب پاکستان بن گیا ،تو ضرورت اس امر کی تھی کہ اس کے قیام کے مقاصد کو بروئے کار لایا جاتا۔ لاالہ الااللہ کو محض نعرے کی بجائے اقتدار کے محلات، عدلیہ کے ایوانوں، عوام کی زندگیوں، ہر محکمے اور ہر شعبے میں عملاً نافذ کیا جاتا۔ یہاں ہوا یہ کہ اسلام کے نفاذ اور اس پر عمل کرنے کی بجائے سارا زور اسلام آباد کی تعمیر وتزئین، اسے بنانے، سجانے ، سنوارنے اور آباد کرنے پر رہا نتیجتاً…اسلام آباد تو بن گیا…آباد ہو گیا… اسلام نافذ نہ ہو سکا۔ سچی بات ہے کہ اگر پاکستان کا مقدر اسلام سے وابستہ کر دیا جاتا تو دونوں خطوں میں زبان ولسان کے مسائل پیدا ہوتے نہ صوبائی خودمختاری و احساس محرومی کا عفریت جنم لیتا اور نہ بھارت کی سازشیں پروان وکامیاب ہوتیں۔ جب اسلام سے روگردانی اور بے وفائی کی گئی تو چھوٹے چھوٹے مسائل پہاڑ بن گئے ۔ 3دسمبر کو جب اندرا گاندھی نے اپنی فوج کو مشرقی پاکستان پر علی الاعلان حملہ کرنے کا حکم دیا تو اس وقت وہ کلکتہ میں تھیں حملہ آور بھارتی فوج کی تعداد پانچ لاکھ تھی۔

 پاک فوج سے بھاگے ہوئے بنگالی جوان، افسر اور مکتی باہنی کے دستے اس کے علاوہ تھے۔ پاک فوج کے مقابلے میں دشمن کی طاقت سات گنازیادہ تھی۔ چنانچہ 16دسمبر کو پاک فوج کو ڈھاکہ ریس کورس میں ہتھیار ڈالنے پڑے،جن لوگوں نے مشرقی پاکستان میں پاک فوج اور ریاست کے خلاف جنگ لڑی انہوں نے اس جنگ کو اپنی اور اپنے وطن کی آزادی کی جنگ قرار دیا تھا، لیکن کیا واقعی یہ ان کی اپنی جنگ تھی ؟ اور کیا واقعی یہ ان کے اپنے خطے کی آزادی کی جنگ تھی؟ 

خوش فہمی اور خوش گمانی کا شکار ان لوگوں کو 16دسمبر کے دن ہی اپنے سوالوں کے جوابات مل گئے تھے اور یہ تلخ حقیقت ان پر واضح ہو گئی تھی کہ جس جنگ کو انہوں نے مشرقی پاکستان کی آزادی کی جنگ سمجھا،وہ دراصل بھارت کی بالادستی قبول کرنے اور اس کی غلامی کا طوق پہنائے جانے کی جنگ تھی۔ پاک فوج سے بھاگنے والے بنگالی فوجی جوانوں، افسروں اور مکتی باہنی کے دستوں پر مشتمل جو فوج تشکیل دی گئی بھارتی میڈیا کے بقول اس کی تعداد 2لاکھ تھی پاک فوج سے بھاگنے والا کرنل عثمانی اس فوج کا کمانڈر انچیف اور مشترکہ کمانڈ کا بھی سربراہ تھا۔ جب ڈھاکہ کے ریس کورس میں ہتھیار ڈالے جانے کی تقریب منعقد ہوئی ،تو بھارتی فوج نے کمانڈر انچیف کرنل عثمانی اور اس کے فوجی افسروں کو اس تقریب کے قریب بھی نہ پھٹکنے دیا تھا حالانکہ یہ وہی کرنل عثمانی تھے جن کو بھارتی حکومت نڈر، بہادر، شہ زور، نہ جھکنے والا، نہ مفاہمت و مصالحت کرنے والا بنگا بیر (شیر بنگال) کہا کرتی تھی۔

 بھارت نے اس شیر بنگال سے جو کام لینا تھا لے لیا،کام نکل جانے کے بعد اسے دھتکار دیا اور مکھن سے بال کی طرح باہر نکال پھینکا۔ اگر شیر بنگال اور بنگلہ دیش کی افواج کے کمانڈر انچیف کی بھارتی فوج کے سامنے یہ بے بسی تھی تو باقی بنگالی فوجی افسروں یا عام سویلین جنہوں نے بھارت کا ساتھ دیا تھا ان کی اوقات کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔ اقوامِ عالم کی تاریخ بتاتی ہے کہ اپنے وطن اور اپنی دھرتی کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور دشمنوں کا ساتھ دینے والوں سے فاتح فوجیں ہمیشہ یہی سلوک کرتی ہیں۔ جنرل نیازی نے جنرل اروڑا سنگھ کے سامنے ہتھیار ڈالے، اپنا سروس ریوالور جنرل اروڑا کے سپرد کیا، ہتھیار ڈالے جانے کی دستاویز پر جنرل نیازی اور جنرل اروڑا کے دستخط تھے اور پاکستانی فوجیوں کو بھارتی سرزمین پر لے جا کر قیدی بنایا گیا تھا۔

 اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ درحقیقت بھارت کی بالادستی کی جنگ تھی جو ا س نے پاکستان سے ناراض بنگالیوں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر لڑی۔ بھارت کا مقصد پاکستان کو دولخت کرنا تھا اور مشرقی پاکستان کو اپنے زیراثر لانا تھا۔ بعد ازاں اندرا گاندھی نے اپنے ان مذموم مقاصد کا اظہار ان الفاظ میں کیا تھا ’’آج ہم نے دوقومی نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے اور آج ہم نے ہزار سالہ ظلم کا بدلہ لے لیا ہے۔‘‘ بھارت مشرقی پاکستان میں فوجی مداخلت کر کے اقوام متحدہ کے چارٹر 1950ء کی صریحاً خلاف ورزی کا مرتکب ہوا تھا۔ اسی طرح بھارت 1966ء کے ان پاک بھارت معاہدوں کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی کا مرتکب ہوا تھا جن میں ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا عہد کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے چارٹر اور دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے معاہدوں کی خلاف ورزی اس امر کا واضح ثبوت تھا کہ بھارت کو پاکستان کے معاملے میں نہ UNOکے چارٹر کی پروا ہے اور نہ اپنے کئے ہوئے معاہدوں کی پاسداری ہے۔ بھارت کاآج بھی پاکستان کے ساتھ یہی رویہ، یہی برتائو اور سلوک ہے۔ ایک طرف بھارتی حکمران سرحدوں کو نرم کرنے کی بات کرتے اور دوسری طرف سندھ طاس معاہدے کی اعلانیہ خلاف ورزی کر کے پاکستان میں آبی دہشت گردی کررہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک بھارتی حکمران بلوچستان کو حق خودارادیت دینے اور پاکستان کا حصہ تسلیم نہ کرنے کی بات کرتے رہے ہیں۔

 بلوچستان، صوبہ خیبرپی کے اور کراچی میں بھارتی دہشت گردی کے واضح ثبوت موجود ہیں۔سچی بات یہ ہے کہ بھارت پاکستان دشمنی میں آج بھی اسی جگہ کھڑا ہے جہاں وہ 66سال پہلے یا 16دسمبر 1971ء کے موقع پر تھا۔ وہ مذاکرات اور دوستی کی آڑ میں اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ وہ پاکستان کو نیپال اور بھوٹان بنانا چاہتا ہے۔ اس نے دشمنی نہیں طریقہ واردات بدلا ہے۔ کشمیر کے معاملے میں بھی بھارت کا رویہ منافقانہ اور عیارانہ ہے۔ کشمیر میں دیوار برہمن کی تعمیر کا اعلان اس کے استعماری، استحصالی، توسیع پسندانہ عزائم اور پاکستان دشمنی کا کھلاثبوت اور واضح اظہار ہے۔  ٭

پروفیسر حافظ محمد سعید

No comments:

Powered by Blogger.