Header Ads

Breaking News
recent

پی ٹی آئی ۔ پی اے ٹی کے بغیر......

وہی عمران خان ہے اور وہی لب ولہجہ ہوگا۔ وہی میاں نوازشریف ہیں اور ان کی وہی بے حس‘ بے دم اورحواس باختہ حکومت ہے۔ میاں صاحب بجلی بلوں‘ اقرباپروری اور بادشاہت نما طرز حکمرانی کے ذریعے خان صاحب کے سیاسی قد کو بڑھانے اور ان کے احتجاج کو کامیاب بنانے کی حتی المقدور کوشش حسب سابق جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ خان صاحب بھی جواب میں چند حلقوں کو قوم کے حلق میں پھنسا کر حکومت کی نااہلیوں اور اقرباپروریوں سے عوام کی توجہ ہٹا کر میاں صاحب کے احسان کا بدلہ حسب سابق چکا رہے ہیں۔ ڈرامہ باز اور بے حس میڈیا حسب عادت بلکتی اور سسکتی انسانیت کے مسائل کو چھوڑ کر حسب سابق خان صاحب کو ہیرو بنانے اور ان کے جلسوں کو کامیاب بنانے میں مگن ہے اور ریٹنگ بڑھانے کے لئے ٹاک شوز میں ان کے کارندے حسب سابق اپنے اپنے لیڈران کے حق میں زمین و آسمان کے قلابے ملارہے ہیں اور مخالفین پر گند اچھال رہے ہیں۔ 14اگست کی طرح اب بھی عمران خان صاحب کے مشیر خاص کا درجہ جنرل پرویز مشرف کے سابق ترجمان (جن کو خان صاحب ایک ٹاک شو کی گفتگو میں اپنا چپراسی رکھنے پر بھی آمادہ نہ تھے) شیخ رشید احمد ہیں جبکہ میاں نوازشریف کے ہاں بھی مشیران خاص کا درجہ جنرل پرویز مشرف کے اس وقت کے مداحین یعنی زاہد حامداور ماروی میمن وغیرہ کو حاصل ہے۔ 30نومبر کو بھی عمران خان کے دائیں طرف پاکستان کی اسٹیٹس کو کی سب سے بڑی علامت اور سب سے بڑے گدی نشین یعنی شاہ محمود قریشی‘ دائیں ذاتی جہازوں کے مالک جہانگیر ترین اور پیچھے خفیہ قوتوں کی مخبر اعلیٰ کا تاثر رکھنے والی شیریں مزاری ہی ہوں گی جبکہ خصوصی پرفارمنس کے لئے پرویز خٹک صاحب بھی دستیاب ہوں گے جبکہ دوسری طرف میاں نوازشریف کی معاونت حسب سابق ان کے اہل خاندان اور رشتہ دار اسحٰق ڈار جیسے عالی دماغ کر رہے ہوں گے۔ خوشامد کے لئے خوشامدیوں کا ٹولہ بھی حسب سابق وزیراعظم ہائوس میں براجمان ہوگا جبکہ پریس کانفرنسوں اور دھمکیوں کا فریضہ اگست کی طرح اب بھی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان سرانجام دیتے رہیں گے۔ وہی لہجہ ہوگا‘ وہی دھمکیاں ہوں گی‘ وہی گالم گلوچ ہوگا لیکن ایک حوالے سے (اور وہ بہت بنیادی حوالہ ہے )14 اگست اور30 نومبر میں کوئی مماثلت نہیں۔ اب کی بار یہ ڈرامہ طویل ہوسکتا ہے اور نہ اگست والے کی طرح سسپنس سے بھرپور۔
وجہ اس کی یہ ہے کہ اب کے بار پی ٹی آئی‘ پی ٹی اے کے بغیر میدان میں ہے اور اب کی بار عمران خان کو کاندھا دینے کے لئے ان کے کزن علامہ طاہرالقادری صاحب میدان میں نہیں۔
 حقیقت یہ ہے کہ دھرنوں میں تحریک پاکستان عوامی تحریک نے ڈالی تھی لیکن کمان خواہ مخواہ خان صاحب نے ہاتھ میں لئے رکھا۔ میدان قادری صاحب نے گرمائے رکھا لیکن شہرت کے گھوڑے پر عمران خان صاحب سوار ہوئے اور انصاف کی بات یہ ہے کہ بے وفائی عوامی تحریک نے نہیں بلکہ تحریک انصاف نے کی۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ لندن میں طے ہوا تھا کہ قادری صاحب اور خان صاحب مل کر دھرنے کے لئے 14اگست کی تاریخ کا اعلان کریں گے لیکن کریڈیٹ لینے کے چکر میں خان صاحب نے قادری صاحب کا انتظار کئے بغیر بہاولپور کے جلسے میں یکطرفہ طور پر دھرنے کے لئے14 اگست کی تاریخ کا اعلان کیا۔ 

اسکرپٹ رائٹرز کی بھی خواہش تھی اور خود قادری صاحب بھی یہ چاہتے تھے کہ دونوں جماعتیں ایک ساتھ لاہور سے نکلیں۔ اس کے لئے شیخ رشید احمد نے بھی خان صاحب کے پائوں پکڑے۔ چوہدری برادران نے بھی بڑی کوشش کی لیکن بڑی پارٹی ہونے کے زعم میں خان صاحب، قادری صاحب کی ہمرکابی پر آمادہ نہ ہوئے۔ ان کا خیال تھا کہ قادری صاحب چند ہزار لوگ نکال لائیں گے جبکہ تحریک انصاف کا قافلہ کئی لاکھ افراد‘ جن میں محض ایک لاکھ تو محض موٹرسائیکل سوار ہوںگے‘ پر مشتمل ہوگا۔ وہ اپنے سمندر میں عوامی تحریک کی نہر کی آویزش نہیں چاہتے تھے لیکن قادری صاحب نے جتنا وعدہ کیا تھا‘ کم و بیش اتنے ہی نکال لائے جبکہ خان صاحب کے لاکھوں عملاً ہزاروں نکلے۔ اسی طرح اسلام آباد پہنچ کر یہ خطرہ تھا کہ حکومت طاقت استعمال کرے گی چنانچہ یہاں خان صاحب نے عوامی تحریک کو آگے کیا۔ تاکہ ڈنڈا اور گولی پہلے ان کے لوگ کھائیں۔ طے یہ ہوا تھا کہ دھرنے دیئے جائیں گے اور دھرنے کی تعریف یہی ہے کہ جب تک مطالبات منظور نہ ہوں تب تک وہاں سے نہ اٹھاجائے لیکن پہلے دن کے جلسے کے اختتام پر اچانک خان صاحب نے دھرنے کو منتشر کرنے اور اگلی شام کودوبارہ اکٹھے ہونے کا مژدہ سنایا۔

 قادری صاحب بے چارے کنٹینر میں پڑے رہے لیکن خان صاحب رات گزارنے بنی گالہ کے محل چلے جاتے اور اگلے روز پھر شام کو ایک گھنٹے کے لئے کنٹینر پر آکر قوم سے مخاطب ہوتے۔ یہی کام ان کے کارکن بھی کرتے رہے لیکن قادری صاحب کے مرید وہاں مہینوں پڑے‘ موسم کی سختیوں کا مقابلہ کرتے رہے۔ ان کے ایک ہزار کارکنوں کی یہ ڈیوٹی بھی لگائی گئی تھی کہ جس شام کو تحریک انصاف کے دھرنے میں حاضری کم ہوتو وہ ساتھ والے پنڈال جاکر تحریک انصاف کے جھنڈے اٹھایا کریں اور یہی وجہ تھی کہ قادری صاحب کے دھرنے کے اختتام کے بعد تحریک انصاف کے دھرنے کی رونق ماند پڑ گئی۔

قادری صاحب نے بھی سینے پر گولی کھانے کا عزم ظاہر کیا تھا لیکن خان صاحب بھی ڈی چوک پہنچنے سے قبل اعلان کرتے رہے کہ سب سے آگے وہ ہوں گے لیکن جب آبپارہ سے ڈی چوک کی طرف پیش قدمی ہورہی تھی تو ایک بار پھر انہوں نے عوامی تحریک کو آگے کیا۔ یہی عمل ڈی چوک سے وزیراعظم ہائوس کی طرف جاتے ہوئے بھی دہرایا گیا۔ وہ ٹی وی فوٹیج ریکارڈ کا حصہ ہے جس میں خان صاحب نے اعلان کیا تھا کہ ہمارے کارکن پی ٹی وی کے قریب پہنچ چکے ہیں لیکن پھر جب قادری صاحب کے کارکن اندر گھسے تو خان صاحب نے لاتعلقی کا اعلان کردیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پولیس کے ساتھ مقابلے میں بھی عوامی تحریک کے کارکن پیش پیش رہے۔ 

تحریک انصاف کے لیڈر جیو کے دفتر پر پتھرائو کرنے یا پھر اس کے نہتے کارکنوں کو ہراساں کرنے کی حد تک بہادری دکھاتے رہے لیکن تصادم والی رات کو پولیس کے ڈنڈوں کا ڈنڈوں کے ساتھ مقابلہ عوامی تحریک کے کارکنوں نے کیا۔ اس رات پی ٹی آئی کا کوئی رہنما نظر آیا اور نہ گرفتار ہوا۔ اگلے دن پتہ چلا کہ اسپتال میں بھی واضح برتری پی اے ٹی کے کارکنوں کو حاصل تھی اور گرفتار بھی وہ زیادہ ہوئے تھے۔ خان صاحب نے لندن میں وعدہ کیا تھا کہ تحریک انصاف ‘تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے قومی اسمبلی اور تمام صوبائی اسمبلیوں سے استعفے دے گی لیکن وعدہ خلافی کرکے پہلے تو اس سے خیبرپختونخوا اسمبلی کو منہا کردیا گیا اور بعد میں قومی اسمبلی اور دیگر اسمبلیوں سے استعفوں کو بھی منظور نہیں ہونے دیا۔ سب سے بڑھ کرجو برتری علامہ صاحب نے حاصل کی وہ اپنے کارکنوں کے ساتھ وفاداری کی تھی۔

وہ ماڈل ٹاون میں ہلاک ہونے والے اپنے کارکنوں کو آج تک نہیں بھولے اور ان کی پوری سیاست ان کے گرد یوں گھوم رہی ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما بھی جلسوں اور ٹاک شوز میں ان کا ذکر کرنے پر مجبور ہیں لیکن خان صاحب نے 16 اگست کو جلوس میں حادثے سے ہلاک ہونے والے دو کارکنوں کے لئے اسٹیج پر دعا تک نہیں کی جبکہ ملتان جلسے میں اپنے ہلاک ہونے والے کارکنوں کا نام لینا بھی چھوڑ دیا ہے۔ قادری صاحب کے کارکن پچھلے دھرنے میں اسلام آباد کی شدید سردی میں ڈٹے رہے جبکہ اب کی بار شدید گرمی کا استقامت کے ساتھ سامنا کرتے رہے لیکن تحریک انصاف کے لیڈران کا تو یہ عالم ہے کہ 16 اور17 اگست کی درمیانی شب بھی رات گزارنے فائیو اسٹار ہوٹلوں میں‘ کے پی کے ہاوس میں یا پھر اپنے اپنے گھروں میں چلے گئے۔ گرمی کے موسم میں کوہسار مارکیٹ میں وہ رات کے وقت بیٹھے رہتے تھے اور جب سے سردی ہونے لگی ہے وہ دن کے وقت وہاں نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جن لوگوں سے کوہسار مارکیٹ کی شام کی سردی برداشت نہیں ہوتی‘ وہ ڈی چوک کی جان لیوا سردی کو کتنے دن برداشت کرسکیں گے؟ احتجاج تو 14 اگست کی طرح 30نومبر کو بھی ہورہا ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ قادری صاحب کے بغیر اس میں کوئی جان ہوگی۔

 یہ خواتین وحضرات زیادہ سے زیادہ جیو کے دفتر پر پتھرائو کرسکتے ہیں یا پھر اس کے نہتے کارکنوں کو ہراساں کرسکتے ہیں۔ کہاں انقلاب اور کہاں شاہ محمود قریشی‘ جہانگیر ترین اور شیریں مزاری جیسے نازک مزاج انقلابی۔ ٹاک شوز میں زبانی لڑائی اور پنجاب پولیس کے ساتھ زمین پر لڑائی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ جو گالی دے سکتے ہیں وہ گولی نہیں کھاسکتے اور جو گولی کھانے والے ہوتے ہیں‘ وہ گالی نہیں دیتے۔ کوئی ہے جو نئی قسم کے ان انقلابیوں کو یہ بات سمجھا دے؟ کہ گالی دینا چھوڑو گے تو گولی کھانے کے قابل بن سکو گے۔

سلیم صافی
بہ شکریہ روزنامہ جنگ

No comments:

Powered by Blogger.