Header Ads

Breaking News
recent

تھر جو ہم نے دیکھا!.....


تھر جو ہم نے دیکھا!

(انور غازی)
''تھرپارکر'' کی صورتحال پر تفصیلی رپورٹ آچکی ہے۔ سندھ حکومت کا دعویٰ ہے کہ تھر میں کوئی حقیقی قحط نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سیاسی ایشو ہے۔ وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کا فرمان ہے: ''تھر کے لوگ غریب نہیں، یہ 60 لاکھ مویشیوں اور سیکڑوں ایکڑ زمینوں کے مالک ہیں۔ گزشتہ دنوں صوبائی وزیر اطلاعات جناب شرجیل میمن نے کہا کہ میں میڈیا کو تھرپارکر لے جانے کو تیار ہوں، میڈیا میرے ساتھ چلے اور تھر کی صورت حال کا اپنی آنکھوں سے جائزہ لے۔'' ہم نے اپنے یار دوستوں کے ساتھ اپنے طور پر تھر جانے کا پروگرام بنایا۔ ہمارا 5 رُکنی وفد اتوار کی صبح تھر کے لیے روانہ ہوا۔ کراچی سے حیدرآباد، میرپور خاص، عمر کوٹ، چھاچھرو۔۔۔۔۔۔ تک واقعتا حالات معمول کے مطابق تھے۔ زندگی یونہی رواں دواں تھی، لیکن جیسے ہی چھاچھرو سے آگے ''میٹھریو'' پہنچے تو آنکھوں سے پٹی کھلنا شروع ہوگئی۔ سب ہرا ہی ہرا دِکھنا بند ہوگیا۔ روڈ ختم ہوگیا۔ عام گاڑی آگے نہیں جاسکتی تھی۔ ریت کے جکھڑ جکڑنے لگے۔ مشکیزے اور مٹکے نظر آنے لگے۔ اونٹوں اور گدھوں کے ذریعے پانی منتقل ہوتا نظر آنے لگا۔ خال خال نظر آتے لوگوں کے چہروں پر مسکنت عیاں تھی۔

ہم ''کھیکھڑے'' پر سوار ہوکر سرحد کے قریبی علاقوں پنجلائی بستی، لالوکاتڑ بستی، مٹڑیو بستی، کیتاڑی بستی، تڑاکا بستی، بہچو بستی، خیر محمد بستی، میر خان بستی، محمد علی بستی، نور محمد بستی، دریاخان بستی، فقیر بستی، خالد کی بستی، مولوی شہاب الدین بستی، میٹھل بستی۔۔۔۔۔۔ کی طرف چل پڑے۔ 2 گھنٹے لق و دق صحرا میں چلنے کے بعد ہم عصر کی نماز کے لیے پانی کو تلاش کرتے کرتے ایک قدیم کنویں پر پہنچیں۔ یہ جملانی بستی کے مضافات میں واقع تھا۔ کنویں کے اردگرد لوگوں اور جانوروں کا ایک ہجوم تھا۔ خواتین کے سروں پر مٹکے تھے۔ ننگے پاؤں بچوں اور پھٹے پرانے کپڑے پہنی بچیوں نے گدھوں پر چمڑے کے مشکیزے لادے ہوئے تھے۔ یہ سب اپنی اپنی باری کا انتظار کررہے تھے۔ گاؤں کے نوجوان اور بوڑھے چمڑے کے ڈولوں سے بڑی محنت اور مشقت سے تھوڑا تھوڑا پانی نکالنے میں مصروف تھے۔ جس طرح بیلوں کو کولہو میں یا کھیت میں ہل چلانے کے لیے پنجالی میں جوتا جاتا ہے، اسی طرح نوجوانوں کو جوتا ہوا تھا۔ وہ ڈول کھینچتے کھینچتے دور تک تقریباً ربع کلومیٹر تک جاتے اور پھر واپس آتے۔ تھر میں پانی اوسطاً 4 سو سے 6 سو فٹ نیچے ہوتا ہے۔ ہمیں پانی کے انتظار میں کھڑے کھڑے مغرب ہوچکی تھی۔ بڑی مشکل سے دو لوٹے پانی ملا۔ منہ میں ڈالا تو نمکین۔ پوچھنے پر پتا چلا یہاں پر ایسے نمکین پانی کو میٹھا پانی ہی سمجھا جاتا ہے۔

ایک بچی سے میں نے پوچھا: ''تمہارا گھر کدھر ہے؟'' اس نے قطب شمالی کی طرف سے اشارہ کیا۔ وہ گھر تقریباً 3 کلومیٹر دور تھا۔ یہ بچی وہاں سے پانی لینے کے لیے آئی ہوئی تھی۔ ہم نے تصویریں لینا شروع کیں تو بستی کے بوڑھے ہمارے قریب آگئے۔ ہم نے پوچھا: ''آپ کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟'' انہوں نے کہا: ''کنویں پر جنریٹر کے ذریعے موٹر لگ جائیں تو پانی کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔'' ہم نے اسٹیمیٹ لگوایا تو 90 ہزار بنتا تھا۔ الحمدللہ! ہم نے اپنے ایک دوست کو ساری صورتحال بتائی تو انہوں نے 4 کنوؤں پر موٹروں کا انتظام کردیا ہے۔ دنیا بھر میں اصول ہے کہ جب بھی کسی ملک و قوم پر مشکل وقت آتا ہے تو صرف حکومت ہی نہیں بلکہ سب مل جل کر کام کرتے ہیں۔ تھر کا قحط ایسا ہے کہ پوری قوم کو ادھر متوجہ ہونا چاہیے۔
 
 ''خیرو'' نے بتایا کہ میری زندگی میں یہ دوسرا بڑا قحط ہے۔ پہلا قحط اَسّی کی دہائی میں آیا تھا۔ جب بھوک اور پیاس کے سبب ہمارے سارے جانور مرگئے تھے۔ پانی نکالنے کے لیے جب اونٹ اور گدھے بھی نہ رہے تو خواتین نے اپنی کمروں سے ڈولوں کے رَسے باندھ کر پانی نکالا تھا۔ ہم نے اپنی جان بچانے کے لیے سانگھڑ ہجرت کی تھی۔ اپنا گھر بار چھوڑ کر یونہی چلے گئے تھے۔ میری 50 ایکڑ زمین ہے۔ اگر بارش ہوتی رہے تو لاکھوں کی آمدن ہوتی ہے۔ اگر 2 سال مسلسل بارش نہ ہو تو پھر مسئلہ ہوتا ہے۔ گزشتہ اور امسال بارشیں نہیں ہوئیں جس کی وجہ سے ہم پریشان ہیں۔ کنوؤں میں پانی نیچے تک چلا گیا ہے۔ جانوروں کے لیے چارہ اور گھاس بھی ختم ہوچکے ہیں۔ ایک اور بستی میں گئے۔ اس میں 100 کے قریب گھرانے آباد تھے۔ اس پورے گاؤں میں کوئی ڈاکٹر تھا اور نہ ہی ڈسپنسری۔ کوئی سخت بیمار ہوجائے تو کھیکھڑے میں ڈال کر 3 گھنٹے کی مسافت پر واقع شہر چھاچھرو لایا جاتا ہے۔ آئے دن سانپوں کے ڈسنے سے اموات واقع ہوتی رہتی ہیں۔ کیتاڑی بستی میں ہم نے رات گذارنے کا ارادہ کیا۔ رات کے کھانے میں باجرے کی موٹی سی روٹی تھی لال مرچ کے ساتھ اور صبح ناشتہ لسی اور روٹی تھی۔ خوراک کی کمی کی وجہ سے لوگوں کی پسلیاں نکلی ہوئی ہیں۔ جانور مررہے ہیں۔ تھر میں روزانہ بھوک پیاس اور دوائی نہ ملنے کی وجہ بیسیوں افراد مررہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے جو امداد مل رہی ہے وہ فی کس 6 کلو گندم ہے۔ 6 کلو گندم کتنے دن چلتی ہے؟ 3ماہ سے اب تک صرف ایک دفعہ ہی 6 کلو ملی ہے۔ آپ خود سوچیں! صحراء میں سخت سردی کا موسم ہے۔ کھانے کے لیے روٹی نہیں، پینے کے لیے نمکین پانی کے چند قطرے، بیمار کے لیے دوا نہیں۔ بچوں کی تعلیم کے لیے اسکول نہیں اور موجودہ حکومت کو سب ٹھیک اور ہرا ہی ہرا نظر آرہا ہے۔

''شیر محمد بستی'' میں واقع جھونپڑے میں ایک ایسا منظر دیکھا جس نے ہمیں نم دیدہ کردیا۔ ''اللہ ڈنو'' کے 7 بچے تھے۔ یہ صحرا میں بکریاں چراتا تھا۔ ایک رات کو زہریلے سانپ نے کاٹا۔ فرسٹ ایڈ اور زہر کا تریاق نہ ملنے کی وجہ سے 4 گھنٹے بعد ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر اپنی جھگی میں مرگیا۔ اس کا ایک ہی بھائی تھا، وہ بھی ایک پاؤں سے معذور۔ اب 5 معصوم بچیوں اور 2 بچوں کی ذمہ داری اس معذور شخص کے ناتواں کاندھوں پر آگئی ہے۔ یہ معزور شخص صحراء میں بکریاں چراکر گذر بسر کررہا تھا کہ بارش کی وجہ سے گھاس پھوس بھی ختم ہونے لگا۔ کنوؤں سے پانی کم ہونے لگا۔ یہ معذور شخص صبح سویرے بکریاں لے کر نکلتا۔ چارے کی تلاش میں دور تک چلا جاتا۔ ڈھلتے سورج لوٹتا، بڑی مشکل سے کنویں سے پانی نکال کر بکریوں کو پلاتا۔ اس نے بکریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ 60 بکریوں میں سے 11 بکریاں رہ گئیں۔ باقی قحط کی وجہ سے اللہ کو پیاری ہوگئی ہیں۔ کانٹوں کے احاطے میں ایک ہی جھگی تھی۔ اس میں 7 معصوم بچے دوپہر کا کھانا کھارہے تھے۔ کھانے میں صرف باجرے کی روٹی تھی جو بکری کے پانی ملے دودھ کے ساتھ کھارہے تھے۔ تین بچے شلوار سے محروم تھے جبکہ کسی کے بھی پاؤں میں چپل نہ تھی۔ ٹھنڈی ریت پر یونہی بیٹھے تھے۔ سردی کی وجہ سے بچوں کی ناک بہہ رہی تھی۔ ہم سے جو کچھ ہوسکا فوری مدد کی۔ مزید کا وعدہ کرکے آگے بڑھ گئے۔

ہم نے تاریخ میں پڑھا تھا کہ صومالیہ اور ایتھوپیا کے قحط کے دوران امدادی کارکنوں نے اتنے بھیانک مناظر دیکھے تھے کہ روتے روتے ان کی آنکھیں خشک ہوگئی تھیں۔ تھر کا یہ قحط اور تھری لوگوں کی حالتِ زار دیکھ کر ہماری آنکھوں کے سامنے بھوک و افلاس کے تاریخی منظر گردش کرنے لگے۔ تھر میں گھومتے پھرتے، دیکھتے ہوئے یوں لگا جیسے پتھر کے زمانے میں یہ لوگ جی رہے ہیں۔ وہی دور دور پانی کے کنویں، اونٹوں اور گدھوں پر سواری اور سامان کی منتقلی، نہ بجلی نہ گیس نہ فون، لکڑیوں اور گھاس پھوس کے تنوں سے بنے جھونپڑے۔ نہ روڈ نہ گاڑی، نہ استاذ نہ اسکول، نہ ڈاکٹر نہ دوائی۔۔۔۔۔۔ سب کچھ اپنی مدد آپ کے تحت اور خدا کے آسرے پر ہورہا ہے۔

اس وقت تھر کے لوگوں کو چار بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ نمبر 1، پانی کی قلت ہے۔ کنوؤں سے پانی نکالنے کے لیے موٹروں اور جنریٹروں کی ضرورت ہے۔ نمبر 2، کھانے کے لیے خوراک کی اَشد ضرورت ہے۔ خوراک کی کمی کی وجہ سے لوگوں کی پسلیاں نکلنے لگی ہیں۔ وافر مقدار میں خوراک تقسیم کرنی چاہیے۔ نمبر 3، صحت کے سنگین مسائل ہیں۔ ادویہ اور ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ فرسٹ ایڈ کا سامان درکار ہے۔ نمبر 4، گرم لحافوں، کپڑوں اور جوتوں کی فوری ضرورت ہے۔ ٹھنڈی ریت میں بچے بیمار ہو ہوکر مررہے ہیں۔ تعلیم بھی ضروری ہے۔ دس دس بارہ بار سال کے بچوں نے اسکول کا منہ تک نہیں دیکھا۔ گاؤں اور بستیوں سے شہر آنے کے لیے راستے بھی نہیں ہیں۔ سڑک اور ٹرانسپورٹ بھی لازمی ہے۔ گذشتہ ہفتے سندھ حکومت نے تھر کی صورتحال پر غور و فکر کے لیے میٹھی میں کابینہ کا اجلاس بلایا تھا۔ وزیر اعلیٰ 94 گاڑیوں کے لاؤ لشکر کے ساتھ یہاں آئے تھے۔ اس ایک اجلاس پر جتنی رقم خرچ ہوئی، اتنی رقم سے تھر کے تمام کنوؤں پر جنریٹر کے ساتھ موٹریں لگائی جاسکتی تھیں۔ 215 ڈسپنسریاں اور 110 اسکول بنائے جاسکتے تھے۔ تھر کے ایک لاکھ لوگوں کو سردی کا سامان پہنچایا جاسکتا تھا۔ ایک سڑک بنوائی جاسکتی تھی۔ خوراک کا مسئلہ حل کی جاسکتا تھا۔ جناب شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ میں صحافیوں کو تھر لے کر چلتا ہوں، وہ دیکھیں کہ تھر کا قحط حقیقی ہے یا سیاسی؟ میمن صاحب تو صحافیوں کا وفد نہ لے جاسکے۔ ہم اپنے طور پر ہو آئے ہیں۔ ہماری کسی بھی سیاسی جماعت سے ذرا بھی وابستگی اور ادنیٰ سا بھی تعلق نہیں ہے۔ ہم صحافیوں، وکلاء برادری، سماجی کارکنوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے خرچ پر تھر جائیں۔ پتا چل جائے گا کہ تھر میں مور ناچ رہے ہیں یا موت کا رقص جاری ہے؟؟؟

No comments:

Powered by Blogger.