Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان کا انتخابی نظام …خوبیاں اور خامیاں.....


پاکستان میں انتخابی نظام اور اس نظام کی خوبیاں اور خرابیاں ہمیشہ سے زیر بحث رہی ہیں۔ ملک میں مختلف نظام ہائے انتخاب کے تجربات بھی ہوئے لیکن ابھی تک ہم اطمینان کی منزل نہیں پا سکے۔ چنانچہ تھوڑے تھوڑے وقفے سے موجودہ انتخابی نظام بدلنے کی باتیں سامنے آتی رہی ہیں۔

اِس وقت ملک میں جو انتخابی نظام موجود ہے اس میں بھی وقتاً فوقتاً تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں لیکن شکایات ہیں کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لیتیں۔ اس نظام انتخاب پر عدم اعتماد ہے کہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ بلکہ اب تو یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ یہ نظام چند افراد، چند خاندانوں اور ملکی سیاہ سفید پر قابض اشرافیہ کو تحفظ دینے کا نظام ہے، جو عوام کو کچھ بھی ڈیلیور نہیں کررہا۔ بلکہ عوام ہر انتخاب میں پہلے سے آزمائے ہوئے لوگوں ہی کو دوبارہ اپنے اوپر مسلط ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ ایسا عوام کی مرضی سے نہیں ہورہا ہے بلکہ یہ اس نظام کی خاصیت ہے کہ آزمائے ہوئے لوگ ہی باری باری ملکی معاملات پر قابض ہوجاتے ہیں۔ بظاہر وہ عوام کے ووٹوں سے اقتدار میں آتے ہیں لیکن اصل معاملہ یہ ہے کہ موجودہ نظام انتخاب کسی معقول شخص یا پارٹی کو جیتنے کا موقع ہی نہیں دیتا۔

نظام انتخاب کے بارے میں یہ شکایات بہت پرانی ہیں، حالانکہ ہم اپنی 67 سالہ تاریخ کے دوران صدارتی اور پارلیمانی نظاموں کے علاوہ فوجی آمریتوں اور شخصی آمریتوں کے مزے بھی چکھ چکے ہیں اور جنرل پرویزمشرف کے ابتدائی دورِ حکومت میں این جی او کلچر پر مبنی نظام حکومت بھی دیکھ چکے ہیں۔
مئی 2013ء کے عام انتخابات کے بعد اس نظام انتخاب پر زیادہ کڑی تنقید ہوئی ہے جو اب دھرنوں کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ 2013ء کے انتخابات سے قبل ہی ڈاکٹر طاہر القادری نے اس نظام انتخاب کو عوامی اور عدالتی سطح پر چیلنج کیا تھا۔ کئی سیاسی جماعتوں نے منصفانہ انتخابات نہ ہونے کے شکوک کا اظہار کیا تھا۔ متعدد سیاسی جماعتوں نے قبل از انتخابات دھاندلیوں کی شکایات کی تھیں۔ تین بڑی سیاسی جماعتوں نے اعلانیہ اور بار بار کہا تھا کہ انہیں آزادانہ طور پر انتخابی مہم چلانے نہیں دی جارہی۔ 

ووٹروں کے اندراج، حلقہ بندیوں، الیکشن اسکیم اور انتخابی عملے کی تعیناتی پر متعدد سیاسی جماعتوں اور رہنمائوں نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ چنانچہ کئی سیاسی جماعتوں نے انتخابات سے قبل اور کچھ نے دورانِ انتخاب بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ نتائج آئے تو پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگایا لیکن نظام کو بچانے کے لیے طوعاً و کرہاً نتائج کو قبول کرلیا۔ تحریک انصاف اور اُس کے قائد نے انتخابی دھاندلی پر زیادہ تسلسل کے ساتھ احتجاج جاری رکھا، جو اب دو ماہ سے جاری دھرنے کی شکل میں ایک باقاعدہ بڑا سیاسی ایشو اور بحران بن چکا ہے، جس پر وزیراعظم کو انتخابی شکایات کے ازالے کے لیے جوڈیشل کمیشن اور انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنانا پڑی ہے، مگر تاحال یہ مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آرہا، کیونکہ شکایات بہت زیادہ ہیں۔ 

نظام کی خرابیاں سب کے سامنے آچکی ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ انتخابی دھاندلی میں اضافے کے ساتھ اس کے نئے انداز اور صورتیں سامنے آ رہی ہیں۔ پاکستان میں پہلا انتخاب 1952ء میں پنجاب میں ہوا تھا۔ پہلے ہی انتخابات میں دھاندلی کا یہ عالم تھا کہ پہلی بار ’’جھرلو پھرنے‘‘ کی اصطلاح ہماری سیاسیات میں متعارف ہوئی۔ اس کے بعد کے بھی تمام انتخابات کی یہی صورت رہی۔ کسی انتخاب کو’’ انجینئرڈ انتخاب ‘‘کہا گیا اورکسی کو’’ چمک کی پیداوار۔ ‘‘کسی انتخاب کو آئی ایس ایس کی حکمت عملی کا نتیجہ کہا گیا تو کسی میں حاکمِ وقت کی مہربانی اور اشیر باد سے کنگز پارٹی وجود میں آتے ہی اقتدار میں بھی آگئی۔ 1970ء کا انتخاب جسے ایک شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخاب کہا جاتا رہا ہے، کا عالم یہ تھا کہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے علاوہ کوئی سیاسی جماعت انتخابی جلسہ تک نہیں کرسکتی تھی اور حکومت اور الیکشن کمیشن صرف تماشا دیکھ رہے تھے۔ مشرقی پاکستان خصوصاً پنجاب اور سندھ میں یہی کام پیپلز پارٹی کررہی تھی۔ 1985ء کے انتخابات کے بائیکاٹ پر ایم آر ڈی مجبور کردی گئی، تو 1993ء کا انتخاب (قومی اسمبلی کا) ایم کیو ایم کو لڑنے نہیں دیا گیا۔ 1997ء کے انتخابات کا جماعت اسلامی نے اور 2008ء کے انتخابات کا جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نے بائیکاٹ کیا۔ یہ ہے وہ نظامِ انتخاب جس کا خود مختلف سیاسی جماعتیں اپنے تحفظات اور خدشات کے باعث بائیکاٹ کرتی رہی ہیں، مختلف مواقع پر دھاندلی کی شکایات کرتی رہی ہیں، لیکن اس وقت پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتیں اس نظام کو بچانے کے لیے بظاہر اکٹھی ہوگئی ہیں، جبکہ عملاً پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی تمام سیاسی جماعتوں کو اس نظام انتخاب پر تحفظات بھی ہیں جن کا وہ وقتاً فوقتاً اظہار بھی کرتی رہتی ہیں۔

موجودہ سیاسی بحران میں انتخابی نظام، انتخابی دھاندلیوں اور ان کے تدارک کی بحث اب پارلیمنٹ کے علاوہ عوامی حلقوں میں بھی آگئی ہے اور اب دانشوروں نے بھی اس اہم قومی مسئلے پر غور و فکر شروع کردیا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ دنوں لاہور میں ایک علمی وفکری مباحثہ ہوا جس کا اہتمام سائوتھ ایشین پارٹنرشپ نامی تنظیم نے کیا تھا۔ اس فکری نشست میں انتخابی اصلاحات پر تجاویز مرتب کی گئیں، جب کہ موجودہ انتخابی نظام کی خرابیوں پر شرکاء نے تفصیل سے روشنی ڈالی۔

شرکاء کا اس بات پر اتفاق تھا کہ پاکستان کا موجودہ انتخابی نظام فرسودہ ہوچکا ہے، اسے مکمل طور پر تبدیل کرنے یا موجودہ نظام میں جدید تقاضوں کے مطابق اصلاحات، ترامیم اور اضافے کرنے کی ضرورت ہے، اگر فوری طور پر ایسا نہ کیا گیا تو پورے جمہوری نظام پر ہی سے عوام کا اعتماد اٹھ جائے گا جو ملک و قوم کے لیے مزید ہیجان و اضطراب کا باعث ہوگا۔ اس مجلس میں ممتاز صحافیوں، کالم نگاروں، یونیورسٹی پروفیسروں، این جی اوز کے نمائندوں اور ماہرین علم سیاسیات نے شرکت کی جن میں اسد اللہ غالب، ریاض چودھری، سلمان عابد، تنویر شہزاد، عرفان مفتی، ضمیر آفاقی، پروفیسر کیفی، معظم ملک، میجر جنرل (ر) محمد جاوید، کرنل ریٹائرڈ فرخ، ڈاکٹر سہراب اسلم خان اور راقم الحروف شامل تھے۔ اس نشست میں انتخابی اصلاحات کے حوالے سے جو تجاویز سامنے آئیں وہ درج ذیل ہیں:

٭…پاکستان کا موجودہ انتخابی نظام فرسودہ اور ناکارہ ہوچکا ہے۔ اس نظام کے تحت شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں رہا۔

٭…اس نظام انتخاب میں دھاندلی کی گنجائش بہت زیادہ ہے‘ جس کی وجہ سے ہر انتخاب کے موقع پر دھاندلی کے نئے طریقے سامنے آجاتے ہیں۔

٭…یہ نظام ملک کے ایک فیصد طبقے کو اقتدار میں رکھنے اور 99 فیصد غریب عوام کو سیاسی امور سے باہر رکھنے کا باعث بنا ہوا ہے۔

٭…یہ نظام اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ ہر حلقے میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے کو آگے بڑھانے کا باعث ہے، جب کہ کامیاب امیدوار کی مخالفت میں زیادہ ووٹ ڈالے گئے ہوتے ہیں۔

٭…موجودہ نظام کو فوری طور پر متناسب نمائندگی کے نظام سے تبدیل کردیا جائے جس میں ووٹ ضائع نہیں ہوتے، دھاندلی کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں اور افراد کے بجائے سیاسی جماعتوں کو انتخاب لڑنا ہوتا ہے۔ اس طرح علاقائی، لسانی اور نسلی تعصب، ذات برادری کی تقسیم اور فرقہ وارانہ جذبات کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ حال ہی میں الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کے لیے کسی پارٹی کی نشستوں کے بجائے اس کے حاصل کردہ ووٹوں کو بنیاد بنانے کی سفارش کی ہے جو ایک اچھا اقدام ہے۔ متناسب نمائندگی کا یہ نظام مخصوص نشستوں تک محدود کرنے کے بجائے اس کا دائرہ عام انتخابات تک وسیع کردیا جائے۔

٭…صدر اور وزیراعظم کے انتخابات براہِ راست کرائے جائیں۔

٭…سینیٹ سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور فاٹا کی نشستیں ختم کردی جائیں۔ یہ نشستیں محض خرید و فروخت کا ذریعہ ہیں۔ البتہ اسلام آباد کو پنجاب سے اور فاٹا کو خیبر پختون خوا سے سینیٹ میں نمائندگی دی جائے۔

٭…پورے ملک میں ایک ہی دن انتخابات کرانے کا سلسلہ بند کرکے دو تین مرحلوں میں انتخابی عمل مکمل کیا جائے تاکہ عملہ یکسوئی اور ذمہ داری کے ساتھ انتخابات کرا سکے۔

…سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کی فہرستیں انتخابات سے 6 ماہ قبل الیکشن کمیشن کو فراہم کردیں جو امیدواروں کی مکمل اسکروٹنی اور آئین کی دفعہ 62 اور63 کے حوالے سے اُن کی اہلیت کا تفصیل سے جائزہ لے لے۔
٭…کسی امیدوار کے نااہل ہونے کی صورت میں ضمنی انتخاب کرانے کے بجائے دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار کو کامیاب قرار دے دیا جائے۔
٭…الیکشن کمیشن کا سربراہ عدلیہ سے لینے کے بجائے کوئی دیانت دار اور باصلاحیت افسر یا ریٹائرڈ انتظامی افسر کو بنایا جائے۔
٭…صوبوں کی جانب سے الیکشن کمیشن کے لیے رکن کی نامزدگی صوبائی حکومت کے بجائے صوبائی اسمبلی کرے۔
٭…انتخابی دھاندلی ثابت ہونے کی صورت میں نہ صرف منتخب رکن کو نااہل قرار دیا جائے بلکہ متعلقہ عملے اور ریٹرننگ افسر کو بھی سزا دی جائے۔ پاکستان میں آج تک کسی انتخابی دھاندلی پر عملے کو سزا نہیں دی گئی۔
٭…ارکانِ اسمبلی کے ذریعے مخصوص نشستوں کا انتخاب کرانے کے بجائے خواتین اور اقلیتی ارکان براہِ راست منتخب ہوکر آئیں اور انہیں صرف خواتین یا اقلیتی ووٹرز ہی ووٹ ڈالیں۔
٭…مردم شماری میں ووٹرز کی تقسیم ان کے پیشے اور آمدنی کی بنیاد پر کی جائے۔ اس طرح ڈاکٹر اپنے نمائندے منتخب کریں، انجینئر اپنے، اور پروفیسر اپنے۔ اس طریق انتخاب سے اسمبلی میں بمشکل دو فیصد جاگیردار پہنچیں گے جب کہ تمام پیشوں اور طبقات کی سو فیصد نمائندگی ہوجائے گی۔
٭…سیاسی جماعتیں اپنے انتخابات باقاعدگی سے الیکشن کمیشن کی نگرانی میں کرائیں۔ اپنے انتخابات نہ کرانے والی سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ نہ کی جائیں۔
٭…بلدیاتی انتخابات ہر صورت میں مقررہ وقفے کے بعد کرا دیئے جائیں۔
٭…سیاسی جماعتیں اپنے منشور کا انتخاب سے ایک سال قبل اعلان کریں۔ اس منشور کا الیکشن کمیشن جائزہ لے اور اس میں سے قابلِ اعتراض باتوں کو حذف کرے۔

٭…متناسب نمائندگی کی صورت میں سیاسی جماعتیں صرف اُن ارکان کی فہرستیں دیں جو اپنے بنیادی یونٹوں سے منتخب ہوکر آئے ہوں۔
یہ اور اس طرح کی دوسری تجاویز اس نشست میں زیر بحث آئیں جو جلد ہی کتابی شکل میں بھی آجائیں گی۔ اس نشست میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ متناسب نمائندگی کا نظام تمام جماعتوں خصوصاً چھوٹی جماعتوں کو ہر اعتبار سے سوٹ کرتا ہے لیکن یہ جماعتیں اس کے لیے آواز نہیں اٹھاتیں، چنانچہ پورے نظام پر دو جماعتیں باری باری قبضہ کرلیتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس طرح کے مباحثے سیاسی جماعتیں بھی اپنی سطح پر کرائیں، اپنی تجاویز قوم کے سامنے رکھیں، اور قابلِ عمل تجاویز کی بنیاد پر ملک کا نیا انتخابی نظام تشکیل دیا جائے۔

سید تاثیر مصطفی

Reforming Pakistan's Electoral System


No comments:

Powered by Blogger.