Header Ads

Breaking News
recent

اسرائیل، پاکستان میں؟.......


پاکستان کے دارالحکومت اسلام اباد میں قائم بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں اگلے روز اسرائیل کی رونمائی کی ایک کوشش کی گئی ہے۔ یہ مانا کہ آج کی دنیا میں بہت سی قوتیں اسرائیل کو ایک حقیقت کہہ کر تسلیم کرانے کے لیے سرگرم ہیں۔ یہ بھی راز کھل کر سامنے آ گیا ہے کہ اس سے قبل جس یہودی لابی کی سازشوں کی باتیں کی جاتی تھیں اب وہ یہودی سازشیں اب اسلام میں اپنی جھلک دکھا چکی ہیں۔ اس کا ذمہ دار کون ہے یہ تعین کرنے کی جہاں انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کے نائب صدر کی زیر قیادت ایک کمیٹی تشکیل پا چکی ہے، وہیں ضرورت اس امر کی ہے یہ واضح کیا جائے کہ اسرائیل کے لیے اسلام آباد میں چشم براہی میں کون کون شریک ہے؟ اس کا پتہ حکومت اور دیگر متعلقہ اداروں کی سطح پر بھی لگانے کا اہتمام کیا جائے کہ ایک ازلی طور پر ناجائز ریاست کی ناجائز کاریوں کی لمبی تاریخ کے بعد کسی بھی صورت پاکستان اور اہل پاکستان کے حق میں مفید نہیں ہو سکتا کہ اسرائیل کو پاک سر زمین پر گھسنے کی اجازت دی جائے۔

پاکستان کے اس دارالحکومت جس کا نام اسلام سے وابستگی کے ا ظہار کی نیت سے اسلام آباد رکھا گیا ہے اس میں اسرائیل کے ''ڈیوڈ سٹار'' والا پھریرا اس طرح لہرانے کی کوشش بہرحال کسی سازش سے کم نہیں ہے۔ اس بین الاقوامی جامعہ میں ایسا کیا جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس سے پہلے بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گذر چکا ہے اور پاک سر زمین پر اس سلسلے میں کافی کام کیا جا چکا ہے۔ اس میں کون کون سی شخصیات، اداروں، سفارت خانوں اور استادوں کی استادیاں شامل ہیں یہ نظر انداز کیے جانے کے لائق ہر گز نہیں ہے۔ یہ محض سہو ہے، نہ کسی وقتی ابال کا شاخسانہ، نہ ہی اسے چند طالبات کی ناسمجھی میں کی گئی حرکت کانام دے کر دبانے کی گنجائش ہو سکتی ہے۔ یہ ایک شعوری کوشش، ایک طے شدہ منصوبہ اور سوچی سمجھی سکیم ہے۔ جس کے کئی ''فالو اپ'' منصوبے بھی سازش کاروں کے ذہنوں میں ہی نہیں میزوں اور کمپیوٹرز کی محفوظ فائلوں میں موجود ہوں گے۔
سہو اور وقتی ابال کیوں نہیں؟

یہ زیادہ دور کی بات نہیں صرف دو ماہ پہلے کی بات ہے غزہ پر مسلط کردہ پچاس روزہ طویل جنگ کے دوران اسرائیل دہشت گردی سامنے کی بات ہے۔ اگر فلسطینیوں کی مسلمان یا عرب ہونے کے ناطے بعض مغرب زدہ ہود بھائیوں کے ہاں کوئی حیثیت نہ بھی ہو اور وہ 400 بچوں سمیت 2100 سے زائد فلسطینیوں کی شہادت کو انسانی المیہ نہ بھی مانتے ہوں تو انہیں کم ازکم اسرائیل کے ایف سولہ طیاروں کی بمباری کا نشانہ بننے والے ہسپتالوں، فلسطینیوں کے تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے زیر انتظام چلائے جانے والے سکولوں اور رفاہی اداروں پر بدترین بمباری تو یاد ہو گی۔ کیا پاکستان میں عالمی برادری اور دنیا کے ساتھ چلنے کی بظاہر ایک معصوم خواہش کے پالنہار افراد اور این جی اوز اس اسرائیلی جرم کو نظر انداز ہی نہیں کر دیتے بلکہ اس سے کبوتر کی طرح آنکھین بند کر لیتے ہیں۔ اگرچہ انسانی بنیادوں پر دیکھا جائے تو عراق کے یزیدیوں کی عزتوں اور جانوں سے کسی بھی طرح فلسطینی مسلمانوں کی عزتیں اور جانیں کم حیثیت کی حامل ہیں نہ بھارتی تسلط میں زندگی گذارنے والے ایک کروڑ سے زائد کشمیری عوام کی اہمیت کم کہی جا سکتی ہے۔ بالکل جس طرح عالمی طاقتوں کے ہاں ان مظلوم فلسطینیوں اور کشمیریوں کا لہو، خون خاک نشیناں کی طرح رزق خاک کر دیا جانا معمول کی بات ہو کر رہ گیا ہے۔ بعینہ اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں فلسطین میں بہنے والے خون پر مٹی ڈالنے اور فلسطینیوں کے زخموں پر نمک پاشی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ''ڈیوڈ سٹار'' کی یہودی علامت، اسرائیلی جنگی جنون اور دہشت گردی کے استعارے بنجمن نیتن یاہو کی تصویر اور یہودی کلچر کی نمائندہ دیگر اشیاء اس انداز سے پیش کی گئی ہیں کہ اسرائیل کو امن کی سر زمین قرار دیا گیا ہے۔ اس سے بڑی دیدہ دلیری اور کوئی نہیں ہو سکتی۔

ستم بالائے ستم یہ کہ اس گہری سازش کو چند طالبات کی حرکت یا غطی کہہ کر اصل پس پردہ کرداروں کو تحفظ دینے کی کوشش بھی شروع کر دی گئی ہے۔ کیا کوئی سوچ سکتا ہے ایک بین الاقوامی شناخت کی حامل جامعہ جس کی بنیادوں میں عرب دنیا کے مادی اور معنوی وسائل کا غیر معمولی حصہ ہے۔ جس میں پوری دنیا بشمول فلسطین کے طلبہ زیر تعلیم رہے ہیں۔ وہاں اسرائیل کو اس کے باوجود ایک نیک پروین مملکت کے طور پر پیش کیا جائے کہ پاکستان اور بیشتر عرب ملکوں نے اسے آج تک تسلیم نہیں کیا۔ سفارتی سطح پر اور قومی سطح پر اسرائیل کے بارے میں حکومتی اور قومی سوچ بھی ظاہر وباہر ہے۔ صرف یہی نہیں کہ یہ انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی میں گھناونا کھیل کھیلا گیا ہے بلکہ ایک ایسے ڈیپارٹمنت میں کھیلا گیا ہے، جس کا کسی بھی طرح بین الاقوامی تعلقات، سفارت کاری، یا عالمی سیاست سے تعلق نہیں ہے۔ یہ ڈیپارٹمنٹ اور اس کی اس حرکت کے حوالے سے معصومیت کی اوٹ میں چھپنے والے اساتذہ کرام میں سے کوئی ایک بھی یہ سکتا ہے کہ جب اسرائیلی ریاست اور یہودی کلچر کی نمائندگی کرنے والے اشیاء، بینر ، بورڈز اور ''ماڈل'' ارینج کیے جا رہے تھے تو وہ کہاں تھے۔ کیا جس ''معصوم'' کو اسرائیلی چہرے کے طور پر پیش کیا گیا ہے وہ سیدھی باہر سے آئی تھی اور اسے یا اس کے اساتذہ میں سے کسی کے وہم و گمان میں نہ آ سکا کہ اسرائیل کے بارے میں اقبال و قائد کے نظریات کیا تھے، پاکستانی قوم کی اپروچ کیا ہے، پاکستان کا طے شدہ موقف کیا ہے اور خود اسرائیل کے پاکستان کے بارے میں عزائم اور سازشیں کیا رہی ہیں۔
ممکن ہے اس کی انکوائری کرنے والوں کو کوئی ''شہ دماغ '' یہ مشورہ دے دے کہ اسے لڑکیوں کی غلطی اور نادانستگی قرار دینے سے کام نہ چلے تو کہہ دیا جائے کہ کسی نے عالمی طور پر ملالہ کے ماڈل کو کاپی کرنے کی ذاتی خواہشات کی بنیاد پر کیا ہے۔ ممکن ہے اس کے لیے دلائل بھی جمع کر لیے جائیں اور کسی ایک آدھ ٹیچر یا طالبہ کو چپکے سے بیرون ملک روانہ بھی کر دیا جائے کہ اس کے لیے خطرات پیدا ہو گئے تھے۔ لیکن ایسے خیال سازوں کا باور ہونا چاہیے کہ یہ ساری تقریب کسی ایک یا دو افراد کی ذاتی کاوش یا خواہش کے گرد نہیں گھوم سکتی۔ اس میں یونیورسٹی انتطامیہ کے کئی اہم ستونوں کے ملوث ہونے کو محض بدگمانی قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ یہ صرف یہود پروری اور اسرائیل پرستی نہیں بلکہ ملک کی قومی پالیسی کی صریحا خلاف ورزی اور اس سے غداری ہے۔

اسرائیل، بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف برسہا برس سے سازشیں کرتا رہا ہے۔ ان سازشوں کا دائرہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھی رہا ہے۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کے حوالے سے بھی اور پاکستان کے خلاف سرینگر کے اونتی پورہ کے ائیر بیس کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی سازشوں کے حوالے سے بھی۔ اس لیے جن ذمہ داروں اور ان کے زیر اثر طالبات نے اسرائیل کے ساتھ غیر معمولی محبت کا اس اظہار کیا ہے، ان سے پوچھا جانا چاہیے کہ وہ پاکستان اور مسلمانوں کے کھلے دشمن کے ساتھ محبت میں اس قدر آگے کیوں چلے گئیں، محض بھولپن اور سادگی میں وہ سب کچھ کیسے کر سکتے تھیں۔ اس سنگین واقعے کو محض وقتی ابال یا سہو سمجھنا نہ صرف خود فریبی ہو گی، بلکہ پاکستان میں اسرائیل اور اس کی سازشوں کے لیے راہ ہموار کرنے کے بھی مترادف ہو گا۔ اسرائیل نے ایسا کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا تھا کہ اس کے بارے میں کوئی جذبات کا شکار ہو کر اسرائیل کو امن کی سر زمین قرار دے دے۔ یہ ایک باقاعدہ ''سپانسرڈ ''کوشش ہے، اس کے تانوں بانوں تک پہنچنا ضروری ہو گا۔

حکومت پاکستان اور عمران خان کی پوزیشن

بلاشبہ حکومت پاکستان پہلے ہی سخت مشکلات سے دوچار ہے۔ ایک طرف اسے اپنی معاشی اور داخلی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ عدم کارکردگی کی وجہ سے اپوزیشن کے تابڑ توڑ حملوں کا مقابلہ کرنے میں دشواری ہے اور دوسری جانب بھارت کی طرف سے حالیہ جارحیت کے حوالے سے بھی اس اعتراض کا سامنا ہے کہ حکومت نے بوجوہ نریندر مودی اور اس کی جارحانہ پالیسیوں پر منہ میں گھنگنیاں ڈال رکھی ہیں۔ اس اعتراض کے باوجود قومی سطح پر رائے تقسیم ہے۔ لیکن حکومت کو خیال رہے کہ اسرائیل کے بارے میں حکومتی پالیسی ماضی میں بڑی واضح اور دو ٹوک رہی ہے۔ اگر حکومت نے اس واقعے کے بعد اس سلسلے میں بھی زبان بند رکھی اور اپنی آنکھیں ،کان اور زبان کھولنے کی کوشش نہ کی تو قومی سطح پر حکومتی ساکھ مزید مشکلات کی شکار ہو سکتی ہے۔ شاید یہ موقع حکومت کے ساتھ ساتھ حکومت کے سب سے بڑے مخالف اور تحریک انصاف کے دھرنا باز رہنما عمران خان کے لیے بھی ایک چیلنج ہے کہ وہ اس کے بارے میں کیا پوزیش لیتے ہیں۔ عمران خان تو پہلے ہی یہود نواز ہونے کا الزام سنتے آئے ہیں۔ ضروری ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کم از کم اپنی پوزیشن ضرور واضح کر دیں کہ وہ اسرائیل اور یہود دوستی کی اس تقریب کے حوالے سے کہاں کھڑے ہیں۔

نجم الحسن عارف

No comments:

Powered by Blogger.