Header Ads

Breaking News
recent

مریخی سفر بمقابلہ تاریخی حقائق....


ایک تو مجھے اپنے پڑوسی ملک بھارت کی سمجھ نہیں آتی۔ وقت ضایع کرنے کے ماہر ہیں، صدیوں پرانی دانش مندی اور تہذیب کا مخرج ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مگر ہیں بلا کے بدھو۔ قومی ترجیحات کے سر پیر کا پتہ نہیں۔ تانگے کو گھوڑے کے سامنے باندھ کر بلا جواز خوشیاں مناتے ہیں۔ اس ناکارہ کوشش میں بار بار ہمارا حوالہ دیکر ہمیں چڑانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ ان کو خوش فہمی یہ ہے کہ ان کا ہر فضول قدم تاریخ ساز ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں انھوں نے اسی قسم کی ایک اور کوشش کی۔

مریخ کے مدار میں مارس اوربٹر نامی سیارہ بھجوا دیا، اس سے پہلے ایسی ڈینگیں ماریں کہ خدا کی پناہ، چھچھورے لگ رہے تھے۔ تین سو دن اور چھ ہزار پچاس کلو میٹر کا محدود سفر طے کرنے والی ایسی مشین کو سائنس کی دنیا میں خود سے ایک بڑا کارنامہ قرار دیا۔ چند ایک بد عنوان غیر ملکی صحافیوں اور مدیروں کو پیسے دیکر چھوٹے موٹے اخبار جیسے نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، گارڈین، لندن ٹائمز، ٹیلی گراف اور دیگر سیکڑوں یورپی جریدوں میں سفر کی رو داد چھپوا دی۔ ان لفافہ صحافیوں کے ذریعے ہمیں بتانے لگے کہ یہ سائنسی کارنامہ کتنا مشکل تھا۔

یہ بتایا گیا کہ اس قسم کے تجربے میں کامیابی کی شرح امریکا اور روس جیسے ممالک کے ہاں بھی پانچ فی صد سے زیادہ نہیں۔ ہندوستان اسپیس ریسرچ تنظیم کے چیئرمین کے رادھا کرشنن ایک پریس کانفرنس میں بڑھک مار رہے تھے کہ ہندوستان ایشیا کا وہ پہلا ملک ہو گا جس نے پہلی مرتبہ میں ہی اس تجربے کا کامیاب بنا لیا۔ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ دنیا کا پہلا ملک ہو گا جس نے اپنی کوشش سے اس مشن کی تکمیل کی۔ ایک اور جگہ یہ دعویٰ بھی دیکھنے میں آیا کہ اس پر وسائل نسبتاً بہت کم لگے۔ ایک بکے ہوئے صحافی نے لکھا کہ ہالی ووڈ کی فلم Gravity پر لگنے والے پیسے اس مشن سے زیادہ تھے۔ یہ سب کچھ 450 کروڑ روپے یا 67 ملین امریکی ڈالر میں مکمل ہوا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ دنیا میں یہ سب کچھ دس سال میں کیا جاتا ہے، ہندوستان نے اس کو پندرہ ماہ میں مکمل کر لیا۔

مجھے تو یہ سب کچھ جھوٹ لگتا ہے۔ مریخ شریخ کہیں نہیں گئے۔ یہ ادھر ادھر گھوم کر واپس آ گئے ہوں گے۔ اور اگر یہ صحیح ہے تو اتنی بڑی کیا بات ہوئی کہ بیچارے اسکول کے بچوں کو سوتے سے اٹھا کر علی الصبح 6:45 منٹ پر اسکولوں میں بلوا لیا۔ کلاسوں میں ٹیلی ویژن لگا دیے جس پر ہندوستان کی نئی نسل نے اس سیارے کو یہ نام نہاد کارنامہ کرتے ہوئے دیکھا۔ نریندر مودی نے یہ نام نہاد ڈرامہ بازی کی۔ زمین پر موجود خلائی سینٹر پہنچ گیا۔

کئی گھنٹے اپنا اور لوگوں کا وقت ضایع کرتے رہے، نہ جانے کہاں سے ایک فقرہ رٹ لیا جو بار بار دہرا رہے تھے اور اس کا لب لباب یہ تھا کہ جب کام اور ارادہ نیک ہو تو سفر طویل ہونے کے باوجود منزل مل ہی جاتی ہے۔ میں تو تنگ آ گیا ہوں سستی شہرت کی ان ناٹک بازیوں سے، دنیا بھر میں جاپان اور چائنہ سمیت مریخ کے مدار میں داخل ہونے کی 41 کوششیں ہوئیں۔ 23 ناکام ہو چکیں۔ یہ ہندوستان کی 42 کوشش میں اترانے کی کیا ایسی بات ہے۔ پھر مبارک باد وصول کرنے لگ گئے۔ خود نمائی کی انتہا ہو گئی، اور تو اور حزب اختلاف نے بھی تالیاں بجانی شروع کر دیں۔

ناکام قوم کی ناکام قیادت پیسے لگا کر تشہیر لینے والے اوسط درجے کے لوگ مریخ سے گیس حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سرخ مٹی سر پر مل کر سرخ رو ہونا چاہتے ہیں۔ ان کو کیا پتہ ترقی اور کامیابی کیا ہوتی ہے۔ بغض اور حسد نے ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے۔ بنیوں کی طرح پیسے اکٹھے کر کے جو خزانہ بنایا ہے اس کے استعمال سے چوہدراہٹ بنانا چاہتے ہیں۔ ان کی ایسی کی تیسی۔ ان کو کیا پتہ امنگ کیا ہوتی ہے، اڑان کیا ہوتی ہے، تبدیلی کس کو کہتے ہیں۔ ترقی کس چڑیا کا نام ہے۔ قیادت کے ڈھنگ ہمیں سکھا رہے ہیں؟ ہم جو سب پر بھاری ہیں، سب پر طاری ہیں، سب سے اونچے ہیں۔ جو عقاب کی آنکھ، شیر کا دل اور صلاحیت رکھتے ہیں۔

کچھ ایسے دبنگ ہیں کہ ہرکولیس آسمان پر نام سن کے تھر تھرا جاتا ہے۔ ہم قوم کو بتلانا چاہتے ہیں کہ مریخ کو مغز پر طاری نہ کریں۔ دل جمعی سے ان کامیابیوں کی تسبیح پڑھیں جو ہم نے حاصل کر لی ہیں۔ مریخی تحقیقات کو چھوڑیں، کرہ ارض کی تاریخ بدلی جا رہی ہے۔ ان پندرہ مہینوں میں جب ہمارا احمق ہمسایہ زندگی سے عاری ستاروں پر کمند ڈالنے کی بے مقصد کوشش کر رہا تھا، ہم نے راولپنڈی اور اسلام آباد کے اچھے بھلے شہروں کو بسوں کے لیے کھود ڈالا۔ دوسرے ممالک انڈر گراؤنڈ ٹرینیں بناتے ہیں، ہم زیر زمین ہو کر اوپر آ گئے ہیں اور بسیں چلائیں گے۔

اس مدت میں ہم نے اپنے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سب سے نامکمل کابینہ بنوائی۔ ایک وزیر کے پاس کچھ آدھی درجن سے زائد وزارتیں رکھنے کا بندوبست کیا۔ مریم نواز نے قومی خزانے کو بے روزگار نوجوانوں پر خرچ کرنے کے لیے اپنی قیمتی خدمات پیش کیں۔ وزیر اعظم ، علاج، عمرے، سفارتکاری اور کاروبار کی دیکھ بھال کے لیے کئی مرتبہ ملک سے باہر گئے۔ ہماری کوششوں کے ساتھ نجم سیٹھی کرکٹ کی باگ ڈور چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور حکومت نے جواں سال شہریار خان کو کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بنا دیا۔ وزیرستان میں آپریشن کے نتیجے میں دس لاکھ یا شاید چھ لاکھ یا شاید سوا پانچ لاکھ لوگ نقل مکانی کر کے گھروں سے باہر نکلے۔ یہ تمام کاروائیاں انتہائی کامیابی سے جاری ہیں۔ ہاں ہوائی اڈے اور نیوی کی جنگی کشتیوں پر اکا دکا بزدلانہ کاروائیاں ہوئیں۔ مگر ہم دلیر ہی رہے، دہشت گردوں کی سیر پر سوا سیر ہی رہے اور پھر ہماری عظیم ترین کامیابی دنیائے انقلاب کے افق پر ایسے ستارے کی طرح ابھری کہ سب کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ ماؤ، لینن، کاسترو، چی گیورا دنیا سب کو بھول گئی۔

ہندوستان کے سیارے نے کیا سفر کیا ہو گا جو ہم نے لاہور سے اسلام آباد کا فاصلہ طے کیا۔ کہاں مریخ جو ہر بچہ کمپیوٹر پر دیکھ سکتا ہے اور کہاں اسلام آباد کا ریڈ زون۔ کیا مریخ کی سرخی ریڈ زون سے کیسے مقابلہ کر سکتی ہے؟ ہم نے دھرنا ایجاد کیا، دنیا کے ترقی یافتہ ملک برطانیہ کے بہترین شہر لندن میں بیٹھ کر اس کی تحقیق کی، دبئی جیسے عالی شان مقام سے اس کی سمت طے کی اور ماڈل ٹاؤن کے لانچ پیڈ سے اس کو مدار میں بھیجا۔ آپ اس کی اعلی ترین کامیابیاں ابھی سے دیکھ سکتے ہیں۔ ہم نے کنٹینروں میں سامان کی جگہ بندے لاد دیے اور ابلتے ہوئے دریاؤں کے باوجود اسلام آباد کے دشت میں پارلیمان اور اس جیسی دوسری غیر ضروری عمارت سے بنے ہوئے سلسلہ ظلمات میں ڈنڈا بردار مجاہد دوڑا دیے۔ ہم نے موسیقی کی دنیا کا طویل ترین کنسرٹ منعقد کیا جو یہ سطریں تحریر ہونے جا رہی ہے۔

کرہ ارض پر سب سے بڑا بیت الخلا بنایا۔ جو مریخ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اجتماعی غسل کا بندوبست کیا۔ ہزاروں عورتوں اور بچوں کو وقتی مشکلات سے دوچار کر کے کندن بنا دیا۔ ذرایع ابلاغ نے ایسا تہلکہ مچایا کہ تمام دنیا انگشت بدنداں ہے۔ ایک ہی تقریر کو ڈھائی ہزار مرتبہ سنوایا، ایک ہی کامیابی تشکیل دی جو کسی نظر نہیں آ رہی مگر پھر بھی ہے۔ نئی نسل کو گالم گلوچ کا سلیقہ سکھایا اور ان کا اپنی تہذیب کے ساتھ ایک نیا عمرانی معاہدہ مرتب کیا۔ ان پندرہ مہینوں میں ہندوستان کے بچوں نے اسکول میں جا کر ٹی وی اسکرینوں پر کیا ایسا دیکھا ہو گا جس کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ ہم نے بچوں کے اسکولوں میں پولیس کو ٹھہرا کر کلاسوں سے در بدر کیا اور دارالحکومت میں گرمیوں کی چھٹیوں کو پہلی مرتبہ سردیوں کی چھٹیوں کے ساتھ ملا دیا۔

ہندوستان کی اگلی نسل مریخ پر جائے، اس سے آگے نیپچون پر جائے اس کا کیا فائدہ ہو گا۔ ہم نے اپنی سر زمین پر اپنی ریاست اور حکومت کو مسخر کرنے کے سفر کا آغاز کیا ہے۔ ان کے بچے خلا میں جائیں گے، ہمارے بچے ڈی چوک میں آئیں گے۔ اگر دنیا کے تمام اور پاکستان کے چند صحافی لفافے نہ لے رہے ہوتے تو تہذیب انسانی کو احساس ہوتا کہ دونوں میں سے کون سی کامیابی بڑی ہے۔ کون سا سفر زیادہ طویل اور قومی ترقی کے لیے اہم ترین ہے۔ وہ مریخ پر پہنچنے کے بعد بھی جیتنے کا دعویٰ نہیں کر سکتے، ریڈ زون کو کراس کریں گے تو مانیں گے۔


بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس

No comments:

Powered by Blogger.