Header Ads

Breaking News
recent

ایک تھا عمران خان....




 ہم نے دھرنے کا ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا، آپ کم از کم اس کی داد تو دیں‘‘۔ میرے دوست کی آنکھوں میں تحسین طلب چمک تھی، میں نے اعتراف میں سر ہلایا، مبارک باد پیش کی اور عرض کیا ’’آپ اگر ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے اسلام آباد آئے تھے تو میں آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں‘‘۔ اس نے شکریئے کے ساتھ مبارک باد قبول کر لی۔

میں خاموش ہو گیا۔ میرے دوست کو چند لمحے بعد اپنی غلطی کا احساس ہوا، وہ تڑپ کر سیدھا ہوا اور بولا ’’کیا مطلب‘‘ میں نے عرض کیا ’’جناب آپ اسلام آباد ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے نہیں آئے تھے، آپ میاں نواز شریف کا استعفیٰ لینے، اسمبلیاں توڑنے، انتخابی اصلاحات کرانے، نئے الیکشن کرانے اور نیا پاکستان بنانے آئے تھے لیکن آپ نے 42 دنوں میں کیا اچیو کیا؟ آپ نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے اوپن حمام بنانے کا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا۔ آپ نے ریڈ زون کو ملک کا متعفن ترین مقام بنانے، سپریم کورٹ کی دیوار پر گندی شلواریں اور کچھے لٹکانے، ملکی تاریخ کا سب سے زیادہ اور مفت ائیر ٹائم لینے، دنیا کے پہلے کنٹینر احتجاج اور طویل ترین دھرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا، آپ اگر اس لیے اسلام آباد تشریف لائے تھے تو آپ کو مبارک ہو اور آپ اگر نیا پاکستان تشکیل دینے آئے تھے تو پھر حقیقت یہ ہے آپ پرانے پاکستان کو مزید پرانا کر چکے ہیں، آپ کی پارٹی میں دراڑ آ چکی ہے۔

آپ کے آٹھ ایم این ایز مستعفی نہ ہونے کا فیصلہ کر چکے ہیں، آپ کے وزیراعلیٰ اور ایم پی اے حضرات نے قائد کے حکم کے باوجود خیبر پختونخوا حکومت چھوڑنے سے انکار کر دیا، آپ استعفے لینے آئے تھے لیکن دے کر جا رہے ہیں، آپ اپنے پارٹی صدر جاوید ہاشمی تک سے محروم ہو چکے ہیں، آپ پر اسٹیبلشمنٹ کی پارٹی کا الزام لگ چکا ہے، آپ باقی زندگی یہ داغ دھوتے گزاریں گے، آپ باقی زندگی لندن پلان کی وضاحتیں بھی کرتے رہیں گے، آپ کو باقی زندگی اس الزام کی وضاحت بھی کرنا پڑے گی، پاکستان جیسے ملکوں میں کوئی سیاسی جماعت تنہا حکومت نہیں بنا سکتی۔ اسے کسی نہ کسی سیاسی جماعت کو ساتھ ملانا پڑتا ہے لیکن آپ تمام جماعتوں پر الزامات لگا کر سیاسی تنہائی کا شکار ہو چکے ہیں، آپ مستقبل میں جب حکومت بنانا چاہیں گے تو کوئی سیاسی جماعت آپ پر اعتماد نہیں کرے گی، آپ نے کراچی کے جلسے میں کراچی کے حلقوں میں دھاندلی کا ذکر نہیں کیا، آپ نے زہرہ شاہد کے قتل کا تذکرہ بھی نہیں کیا، تجزیہ کاروں کا خیال ہے آپ کی اس احتیاط پسندی کی وجہ ایم کیو ایم کا خوف تھا، آپ باقی زندگی اس خوف کا جواب بھی دیتے رہیں گے اور آپ باقی زندگی ان نوجوانوں کی امنگوں، خواہشوں اور تبدیلی کی تڑپ کا سامنا بھی کریں گے جنہوں نے آپ پر اعتبار کیا اور آپ کو ایک اور حساب بھی دینا ہو گا میں خاموش ہو گیا۔
وہ تڑپ کر بولا ’’ ہم کیا حساب دیں گے‘‘۔ میں نے عرض کیا: ’’میاں نواز شریف کی پرفارمنس خراب تھی، یہ الیکشن جیتنے کے بعد گہری نیند میں چلے گئے، حکومتی ٹیم اچھی نہیں تھی، وزراء آپس میں لڑتے تھے، یہ میاں نواز شریف کے سامنے بھی ایک دوسرے سے سلام نہیں لیتے تھے۔ فیصلوں میں تاخیر ہو رہی تھی، ملک کے 70 فیصد اعلیٰ اداروں کے سربراہ نہیں تھے اور جن 30 فیصد اداروں کے سربراہ تھے وہاں نااہل لوگ بیٹھے تھے، پارٹی معطل ہو چکی تھی، پارٹی کا سندھ ونگ ختم ہو چکا تھا، ایم این اے میاں نواز شریف کی شکل کو ترس گئے تھے، حکومت اور فوج کے درمیان بھی تصادم شروع ہو چکا تھا۔ حکومت پر بیرونی دباؤ میں بھی اضافہ ہو رہا تھا اور عوام مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی، بے انصافی اور لوڈ شیڈنگ کی چکی میں پس رہے تھے، میرا ذاتی خیال تھا، میاں نواز شریف کی حکومت مارچ 2015ء تک اپنی مقبولیت کھو دے گی، پارٹی کے اندر سے بغاوت ہو جائے گی، پارلیمنٹ ٹوٹ جائے گی اور مڈٹرم الیکشن ہو جائیں گے، عمران خان اگر آٹھ مہینے صبر کر لیتے، یہ 2014ء کے بجائے 2015ء میں نکلتے تو انھیں علامہ طاہر القادری کی ضرورت پڑتی اور نہ ہی کسی لندن یا ریٹائرڈ جرنیلوں کے پلان کی، یہ حقیقتاً راوی کے پل پر پاؤں رکھتے اور کاخ امراء کے درو دیوار ہل جاتے لیکن خان صاحب کے دوستوں کی جلد بازی نے دو خرابیاں پیدا کر دیں، آپ لوگوں نے سوئے ہوئے میاں نواز شریف کو جگا دیا، یہ اب اگر نئی سیاسی صف بندی کر لیتے ہیں، یہ فوج سے اختلافات ختم کر لیتے ہیں یہ عوامی سیاست شروع کر دیتے ہیں، یہ صدر مشرف اور شوکت عزیز جیسی معاشی پالیسیاں شروع کر دیتے ہیں، یہ علامہ طاہر القادری اور عمران خان کا سارا ایجنڈا اٹھا لیتے ہیں، پولیس اور عدلیہ کو خود مختار بنا دیتے ہیں، انتخابی اصلاحات کر دیتے ہیں، یوتھ لون کا دائرہ پھیلا دیتے ہیں، یہ دیہات، قصبوں اور شہروں میں ضلعی حکومتیں قائم کر دیتے ہیں اور یہ ملک میں دس بیس صوبے بنانے کا عمل شروع کر دیتے ہیں تو یہ نہ صرف پانچ سال پورے کر جائیں گے بلکہ یہ اگلا الیکشن بھی جیت جائیں گے۔‘‘

میرے دوست نے انکار میں سر ہلایا اور بولا ’’اور دوسری خرابی کیا ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا : ’’ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی جانی دشمن تھیں، میاں نواز شریف کی پارٹی نے گو زرداری گو کے نعروں کے ساتھ الیکشن جیتا تھا، حکومت کے 17 ماہ میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو نے پنجاب میں قدم نہیں رکھا تھا، بلاول 18 ستمبر کو پنجاب آئے اور پنجاب حکومت نے انھیں بھرپور سیکیورٹی فراہم کی۔ بلوچستان میں صوبائی قیادت اور قومی سیاست کے درمیان اختلافات تھے، سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان سرد جنگ تھی، مولانا فضل الرحمن اتحادی ہونے کے باوجود حکومت سے ناراض تھے اور جماعت اسلامی قومی سیاست سے آؤٹ ہو چکی تھی لیکن آپ کی جلد بازی نے ان تمام لوگوں کو اکٹھا کر دیا، یہ لوگ ذاتی اختلافات بھلا کر ایک میز پر بیٹھ گئے، آج سیاسی اتحاد کی حالت یہ ہے، پارلیمنٹ میں چوہدری نثار اور چوہدری اعتزاز احسن میں خوفناک جھڑپ ہوئی لیکن چوہدری اعتزاز احسن اس کے باوجود وزیر اعظم کے ساتھ کھڑے رہے، ایم کیو ایم نئے صوبوں کے ایشو پر پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کر گئی لیکن یہ حکومت اور وزیراعظم کے ساتھ کھڑی رہی، جماعت اسلامی آپ کی اتحادی تھی لیکن اس نے اعلان کیا ’’ وزیراعظم کا استعفیٰ غیر آئینی مطالبہ ہے۔‘‘ یہ آپ کے کوالیشن پارٹنر ہونے کے باوجود میاں نواز شریف کے ساتھ کھڑے تھے چنانچہ آپ کی مہربانی سے ملک میں اپوزیشن عملاً ختم ہو گئی۔

یہ لوگ اب الیکشن بھی مل کر لڑیں گے اور ایسی پالیسیاں بھی بنائیں گے جن کا فائدہ صرف اور صرف ان کی ذات کو ہو گا‘ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیں کیا ملک میں اب سوئس کیسز کا فیصلہ ہو سکے گا‘ کیا کراچی میں امن قائم ہو سکے گا، کیا ہم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کے خلاف فیصلے سن سکیں گے اور کیا ’’ای او بی آئی‘‘ اور ایفی ڈرین جیسے مقدموں کا کوئی نتیجہ نکل سکے گا؟ میاں نواز شریف اب سیاسی جماعتوں کے زیر بار ہو چکے ہیں۔ یہ اب ’’انڈی پینڈنٹ‘‘ فیصلے نہیں کر سکیں گے، آپ تصور کیجیے میاں نواز شریف سیاسی جماعتوں کے اس قدر سیاسی یرغمال بن چکے ہیں! یہ میاں شہباز شریف سے استعفیٰ بھی لینا چاہتے تھے اور عمران خان کی مرضی کا جوڈیشل کمیشن بھی بنانا چاہتے تھے لیکن 11 سیاسی جماعتوں نے دباؤ ڈال کر یہ فیصلہ تبدیل کرا دیا، حکومت اب جوڈیشل کمیشن بنائے گی اور نہ ہی کسی کا استعفیٰ پیش کرے گی، آپ نے بوڑھے شیر کے ہاتھوں پر نئے، مضبوط اور لمبے ناخن اگا دیے ہیں۔ آپ نے اس کے منہ میں نئے اور چمکدار دانت بھی دے دیے ہیں اور آپ کو پوری زندگی اس کا حساب بھی دینا پڑے گا‘‘۔

میرے دوست نے مجھ سے اتفاق نہیں کیا لیکن اس کے باوجود مجھ سے پوچھا ’’وے آؤٹ کیا ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’ آپ غیر مشروط واپسی کا اعلان کر دیں، آپ جتنا عرصہ ریڈ زون میں رہیں گے آپ کی مقبولیت اور سیاسی ساکھ کو اتنا ہی نقصان پہنچتا رہے گا، کھیل ہو، جنگ ہو یا سیاست ہو، انسان کی ہر ہار آخری ہار نہیں ہوتی، کپتان وہ ہوتا ہے جو اپنی ہار تسلیم کرے اور دوبارہ لڑنے کا اعلان کرے، عمران خان ہار مان کر دوبارہ لڑنے کا اعلان کریں، میرے جیسے بے شمار لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے، قومی اسمبلی سے ہرگز ہرگز استعفیٰ نہ دیں۔ سینیٹ میں پی ٹی آئی کی کوئی نشست نہیں، آپ مستعفی ہو گئے تو آپ سینیٹ سے بھی فارغ ہو جائیں گے اور کل اگر آپ کی حکومت آ گئی توآپ کوئی قانون پاس نہیں کرا سکیں گے، آپ کے استعفوں کے بعد مولانا فضل الرحمن مضبوط ہو جائیں گے۔ یہ آپ کے قدم دوبارہ نہیں جمنے دیں گے، آپ جاوید ہاشمی کی پیش گوئی بھی ذہن میں رکھیں، آپ اگر ایک بار قومی اسمبلی سے نکل گئے تو آپ شاید دوسری بار اتنی سیٹیں حاصل نہ کر سکیں، عوام شاید آپ پر اتنا اعتبار نہ کریں‘‘ اور آخری تجویز آپ اپنی ساری توانائیاں خیبر پختونخوا پر لگا دیں‘ آپ اس صوبے کی حالت اس قدر بدل دیں کہ ملک کا جو بھی شخص اٹک کا پل پار کرے وہ بے اختیار بول پڑے ’’ میں جنت میں داخل ہو گیا ہوں‘‘ آپ نے اگر یہ تین قدم نہ اٹھائے تو آپ کی ضد آپ کو تباہ کر دے گی اور آپ کے پاس ورلڈ ریکارڈ تو ہوں گے مگر لوگ آپ کو ’’ایک تھا عمران خان‘‘ کہیں گے۔

جاوید چودھری
شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس

No comments:

Powered by Blogger.