Header Ads

Breaking News
recent

دھرنے ختم کیوں نہیں ہو رہے.....


اگر آپ تحریک انصاف، عوامی تحریک اور نواز حکومت کے لائحہ عمل کا جائزہ لیں تو یہ سمجھنا آسان ہو جائے گا کہ دھرنوں کا قصہ ختم کیوں نہیں ہو رہا۔ حکومت نے مشکل ترین وقت گزار لیا ہے۔ وہ شب و روز جو اس خوف اور خدشے میں گزار رہے تھے کہ یہ حکومت نکال باہر کی جائے گی۔ اب اس اعتماد میں بدل گئے ہیں کہ وہ خطرہ مکمل طور پر ٹل گیا ہے۔ حکومت ان تمام غلطیوں کے باوجود جو اس کے گلے میں پڑ سکتی تھیں اس بھنور میں سے نکل گئی ہے۔
عمران اور طاہر القادری کی دھمکیوں، نعروں اور جتھہ بندی سے پیدا ہونیوالے مسائل اب اس پرانے اوزار کی طرح لگتے ہیں جو کاٹ ختم ہونے کے بعد آواز تو بہت نکالتا ہے لیکن با اثر چوٹ لگانے سے قاصر ہو۔ ذرایع ابلاغ نے بھی ان تقاریر سے منہ موڑ لیا ہے۔ چند ایک کے سوا بیشتر غیر قدرتی جوش سے بھرے ہوئے صحافی و اینکر، خواتین و حضرات جو انقلاب انقلاب چلا رہے تھے، اب بغلیں جھانکنے کے علاوہ سیلاب اور دوسرے مسائل پر گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔

وہ طویل کوریج جس میں تبدیلی کا نعرہ بلند ہوتا تھا اب کم ہو کر چند گھنٹوں تک محدود ہو گئی ہے۔ کہنے والوں کے پاس مارچ کے آغاز کے چند دن بعد بولنے کے لیے کچھ نیا باقی نہیں رہا تھا۔ مگر ذرایع ابلاغ نے پھر بھی ان کو انقلاب کا ٹورنامنٹ اضافی ہفتوں میں جاری رکھنے کا موقع فراہم کیا، اب یہ سہولت مہیا نہیں ہے۔ حکومت ٹی وی چینلز اور اخبارات کے توسط سے پیدا ہونے والے دباؤ سے بھی بہت حد تک آزاد ہو چکی ہے۔

انتظامی مسائل بھی بڑھے نہیں بلکہ کم ہو گئے ہیں۔ اس تعفن اور بدبو کے سوا جو اس انقلاب نے شاہراہ دستور پر پھیلائی ہے، یہاں پر کسی اور مد میں اضافہ نہیں ہوا۔ شرکاء کی تعداد اوسط اور بتدریج گھٹتی چلی جا رہی ہے۔ لاکھوں کا میلہ پہلے ہی ہزاروں کا تھا، اب ہفتے میں پانچ دن عوامی تحریک کے کارکنان کے علاوہ سیکڑوں اور دن کے گیارہ، بارہ درجنوں افراد آتے ہیں۔ طاہر القادری کے جیالے گھٹ کر مختصر گروہ میں تبدیل ہو گئے۔ وسیع ٹینٹوں کے نیچے یہ تعداد عام آنکھوں سے مخفی رہی ہے۔ تنی ہوئی چادریں ایک آباد شہر کا تاثر دیتی ہیں۔ مگر تمام انٹیلی جنس ایجنسیز کی رپورٹس طاہر القادری کے ساتھ موجود لوگوں کی تعداد، تین سے ساڑھے تین ہزار تک بتلاتی ہیں۔

موجود حضرات اور خواتین کے اعصاب بھی شل ہو چکے ہیں۔ بیماری، سخت موسم اور سب سے بڑھ کر بے مقصدیت ان کیمپوں میں پرمژدگی پیدا کر رہی ہے، ٹی وی کیمروں کے سامنے ہشاش بشاش لگنے والے مولانا طبیعت کی ناسازی کے باعث دوائیوں کے استعمال پر مجبور ہو گئے ہیں تاہم کیمروں کے سامنے وہ گرجنے اور برسنے لگتے ہیں، مگر حقائق تلخ ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا کنٹینر شادمانی کی تصویر نہیں پریشانی کا احاطہ بنا ہوا ہے۔

حکومت ان حالات سے واقف ہے اور وہ عوامی تحریک کو اس کمزوری کا مسلسل شکار رکھنا چاہتی ہے، ڈاکٹر طاہر القادری یہاں پر خوشی سے چار ماہ گزار لیں۔ حکومت ان کو چھیڑنے کا ارادہ فی الحال نہیں رکھتی۔ ان تمام وجوہات کی بنیاد پر حکومت نے کچھ نہ کرنے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ وہ اس معاملے کا حتمی حل نہیں چاہتی۔ کیوں کہ اس کی نظر سے یہ روزانہ خود سے آہستہ آہستہ حل ہوتا چلا جا رہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کو عمران خان نے اس نقطے پر پہنچا دیا ہے جہاں پر نہ یہ پارٹی جانا چاہتی تھی اور نہ عمران خان لے جانا چاہتے تھے۔ مگر غیر متوقع حالات نے پھر بھی ان کو ایک مشکل دوراہے پر پہنچا دیا ہے۔ تحریک انصاف کا کوئی نمایندہ عوام کے سامنے یہ ماننے کو تیار نہیں ہو گا کہ ان کا اصل منصوبہ ٹوٹے برتن کی طرح بکھر گیا ہے۔ مگر نجی محافل میں جہاں پر سینہ پھلا کر نعرے مارنے کی ضرورت یا مجبوری نہیں ہوتی۔ ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اصل کہانی اس وقت ختم ہو گئی تھی جب پاکستان ٹیلی ویژن پر قبضے کے تناظر میں ہونے والی نواز شریف، راحیل شریف ملاقات نے ایمپائر کی انگلی تو دور کی بات کوئی ایمپائر ہی نظر نہیں آیا۔

درحقیقت تحریک انصاف کا اصل پلان اس ملاقات سے پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ گیا تھا۔ اسلام آباد میں لاکھوں کا مجمع اکھٹا کرنے کی تیاری جس بری طرح سے ناکام ہوئی اس کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ اس حملے کو کامیاب بنانے کے لیے کسی خاص کرشمے کی ضرورت پڑے گی۔ اس کرشمے کے امکانات ہمیشہ سے مدھم تھے مگر حالات نے ان کو مکمل طور پر مٹا دیا۔ باقی کسر جاوید ہاشمی نے پوری کر دی۔ حالات پاکستان تحریک انصاف کے ہاتھ میں ایک ایسا بچہ چھوڑ گئے جس کو اپنانے والا کوئی نہیں ہے۔ عمران خان نے بڑیٰ دل جمعی اور جی داری کے ساتھ اس بچے کو سینے سے لگایا ہوا ہے۔

ان کو شاید یہ معلوم ہے کہ یہ دم گھٹنے سے شاید مر چکا ہے لیکن وہ یہ خبر سنانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس وقت وہ دھرنے میں موجود ہونے کے باوجود دھرنے چھوڑ چکے ہیں۔ کراچی میں جلسہ اور اب لاہور کی تیاری یہ خاموش اعلان ہے کہ اسلام آباد دھرنے کے ذریعے نواز شریف کا استعفی لینے کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔ کراچی، لاہور یا فیصل آباد میں لوگ اکٹھے کرنے سے اگر نواز شریف کا استعفی لینا ہوتا تو اسلام آباد پر چڑھائی کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ عمران خان اور اس کے قریبی ساتھی حالیہ انتظامی تبدیلیوں کے نتائج سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ نواز شریف حکومت پر چڑھ دوڑنے کے لیے جو شارٹ کٹ یا چھوٹا رستہ انھوں نے تیار کیا تھا اس کو ایک سیاسی جہدوجہد میں تبدیل کرنا ہو گا۔ تحریک انصاف کے جلسے اسلام آباد کے دھرنے کا دوسرا مرحلہ نہیں ہے، عملا یہ اس کے اختتام کا اعلان ہے۔

چند ہفتے گزر جانے کے بعد تحریک انصاف اسلام آباد سے باہر احتجاج کو مزید تقویت دینے پر مجبور ہو جائے گی۔ عمران خان کنٹینر سے باہر نکل کر انتخابی قسم کی مہم چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آیا یہ نیا لائحہ عمل ان کو وہ مقاصد حاصل کرنے میں مدد دے گا یا نہیں جن کے حصول کے بارے میں وہ آج سے اکتالیس دن پہلے پُرامید تھے کہ خوشی سے کنٹینر کی چھت پر ان کے پاؤں نہیں ٹکتے تھے۔
اس سوال کا جواب انھیں مل جائے گا۔ مگر نواز شریف کو ہٹانے کی اس کوشش کو نیا رخ دیتے ہوئے وہ اسلام آباد میں سے اپنے کنٹینر کو نہیں ہٹائیں گے اور اس کنٹینر کو مزاحمت کے استعارہ کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اگر سیاسی جلسوں کے ذریعے وہ کسی طور حکومت کو چلتا کر دینے میں کامیاب ہو گئے تو کامیابی کا موجب دھرنے کو ہی ٹھہرانا پسند کریں گے اور اگر یہ سب کچھ کرنے کے باوجود کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی تو وہ ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ مل کر کامیابی کا کوئی نہ کوئی پہلو ضرور ڈھونڈ نکالیں گے۔

No comments:

Powered by Blogger.