Header Ads

Breaking News
recent

دھرنے کی افادیت......


سیاسی یا جنگی لائحہ عمل وہی بہتر گردانا جاتا ہے جس میں مشکل حالات سے نکلنے کا بندو بست موجود ہو۔ عمران خان نے شروع دن سے ہی اپنے لیے وزیر اعظم کے استعفیٰ کا جو ہدف مقرر کیا تھا اس میں اس سے کم پر مان جانے کا موقع نہیں چھوڑا گیا۔ دھرنوں میں افراد کی تعداد خاصی حد تک کم ہوگئی ہے۔ شام کو بھی تعداد کچھ اتنی نہیں ہوتی کہ اس کو دیکھ کر پارلیمنٹ میں بیٹھی تمام جماعتیں اور حکومت کے ایوان تھرتھر کانپنے لگیں۔ کیمرے ابھی تک وہ چشم پوشی کر رہے ہیں جس کا کسی طور بھی ایک پروفیشنل معیار پر دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ مگر پھر بھی سڑک پر ارد گرد کے علاقوں سے آئے ہوئے کارکنان اتنے ہی ہوتے ہیں جتنے وہ اصل میں ہوتے ہیں۔ خیال کی اڑان، بیان اور کیمرے کی پرواز ان کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کے باوجود ان خالی جگہوں کو پُر نہیں کر سکتی جو روز روز واضح ہوتی چلی جا رہی ہے۔

لہٰذا سڑک کے ذریعے دباؤ پیدا کر کے اپنا مطالبہ منوانے کا وقت گزر گیا۔ عمران خان ان حالات کو اگر نہ سمجھیں تو ان کی مرضی ہے۔ مگر کسی بڑی غلطی یا حادثے کے علاوہ سڑک پر سے احتجاج کر کے وہ نہ اب کسی کو متاثر کر رہے ہیں اور نہ حصول منزل کی طرف ایک قدم بڑھا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملکی حالات نے بھی ان کے احتجاج پر گہرے اثرات چھوڑنے شروع کر دیے ہیں۔ سیلاب نے کنٹینر سے نکال کر سیالکوٹ کا دورہ کرنے پر مجبور کر دیا۔ ویسے سیلاب سے پہلے بھی اپنی دوسری ضروریات سے مغلوب ہو کر ان کو دن میں دس، بارہ گھنٹے کنٹینر چھوڑنا ہی پڑتا تھا۔

آنے والے دنوں میں بدلتے ہوئے حالات ان کو از خود کنٹینر سے دور رکھ سکتے ہیں۔ اس جگہ پر ٹِکے رہنے کی سیاسی قیمت میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ جو جماعتیں انتخابی عمل کا حصہ بن کر سیاست کرنا چاہتی ہیں ‘وہ خود کو طویل عرصے کے لیے نظام سے دور نہیں رکھ سکتیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے اندر سے عمران خان کے علاوہ تقریبا ہر کوئی یہی بات بار بار دہرا رہا ہے۔ عمران خان ہر کسی کو غدار، بزدل یا چیتے کی متضاد شکل کے جانوروں کی شکل سے پیش نہیں کر سکتے۔ ان کو یہ علم ہونا چاہیے کہ اکثریت کی رائے زیادہ عرصہ تک موقوف نہیں کی جا سکتی۔ نواز شریف کے خلاف مزاحمت کی دھن میں انھوں نے خود کو جماعت کی رائے کے خلاف کھڑا کر دیا ہے۔

ابھی تک ان کے نعرے اور وعدے وہی ہیں جو چند ہفتے پہلے تھے۔ مگر اس تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے انھوں نے سیاسی طور پر اپنی جماعت کے لیے ماحول بری طرح خراب بھی کیا ہے۔ پاکستان کے اندر بہترین کارکردگی پیش کرنے والی سیاسی جماعتیں بھی مخالفین کے ساتھ ہاتھ ملانے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ نظام ہی کچھ ایسا ہے۔ ہم معاشرتی اور نسلی طور پر بیسیوں رنگ رکھتے ہیں۔ یہاں پر چھوٹی بڑی درجنوں جماعتوں کا اپنے اپنے حلقے میں اہم کردار ہے جو ایک ہی ہلے میں تبدیل یا تباہ نہیں کیا جا سکتا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی ہو یا نواز لیگ کی دو تہائی اکثریت، انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومتیں ہر بڑے اور چھوٹے فیصلے پر دوسری جماعتوں پر انحصار کرتی ہیں۔

عمران خان نے کنٹینر میں مورچہ بند ہو کر جو پھلجھڑیاں چھوڑی ہیں ان کی کی چنگاریاں ہر دامن پر گری ہیں۔ کوئی جماعت اور اس کا لیڈر عمران خان کی زبان اور ہاتھ کے اشارے سے محفوظ نہیں رہا۔ کوئی ایسا الزام باقی نہیں ہے جو انھوں نے دوسروں پر نہ لگایا ہو۔ دھمکی، لاٹھی اور سبق سکھانے کی جو نئی سرکار کو انھوں نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر ترتیب دیا ہے وہ پاکستان تحریک انصاف کے لیے ایک بہت بڑا درد سر بن چکا ہے۔ اگر آج نواز شریف اور شہباز شریف اور ان کے قریبی دوست فضا میں تحلیل ہو جائیں تو بھی عمران خان کو پارلیمان میں بیٹھی ہوئی جماعتیں آسان راستہ فراہم نہیں کریں گی۔ بلوچستان میں قوم پرستوں اور سرداروں سے سینگ پھنسانے کے ساتھ ساتھ پشتون رہنماوں کی بدترین تضحیک پاکستان تحریک انصاف کے لیے مستقبل میں کسی ممکنہ سیاسی اتحاد کے لیے زہر قاتل سے کم نہیں۔

خیبر پختون خوا میں مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کے اوپر اپنی جماعت کے نمایندگان کے ساتھ پتھروں کی بارش کر کے سیاسی راستے اگر مسدود نہیں کیے تو محدود ضرور کر دئے ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کے ساتھ دست و گریبان ہیں اور سندھی قوم پرستوں کو گھاس تک نہیں ڈالتے۔ کبھی ایم کیو ایم پر برستے ہیں۔پنجاب میں نواز لیگ کے ساتھ لڑائی ہے اور پیپلز پارٹی کے ساتھ سیاسی مقابلہ۔ اگر عمران خان نیا پاکستان بنانے کے بعدوزیراعظم بن گئے تویہ ملک چلائیں گے کیسے؟
اتنے الزامات لگانے کے بعد ان کے ساتھ بیٹھ کر چائے کون پیے گا۔ دھرنے کا ہدف نواز شریف اس وقت دوبارہ سے حکومت کی باگ ڈور سنبھالتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ عمران خان انکو نکالنے پر مصر تو ہیں مگر سیاسی مشکلات میں گھرے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ حکومت کا نکما پن اور تبدیلی کے نعرے کی پکار اب بھی قائم ہے۔ مگر یہ دونوں عناصر عمران خان کو ان کی بیان کردہ منزل کی طرف لے جانے کے لیے مناسب نہیں ہیں۔

اس تمام قصے میں ہماری اسٹیبلشمنٹ کا کیا کردار رہا ہے یہ موضوع اس وقت اٹھانا موزوں نہیں ہے۔ اگرچہ حقائق چھپائے بھی نہیں چھپتے مگر انکو ڈھانپنے کے لیے جو گنجائش چاہیے وہ اس وقت موجود نہیں۔ اتنا کافی ہے کہ اس تمام مسئلے کا یہ تمام زوایہ اس راز کی طرح ہے جو سب کو معلوم ہونے کے باوجود رازداری کے تقاضے پورے کرتے ہوئے راز ہی سمجھا جاتا ہے۔ اگلے دو تین ہفتوں میں دھرنوں کے پیچھے ہونے والی یہ کوشش عملاً رائیگاں ہو کر ختم ہو جائے گی۔ جس سہارے کے ناتے اتنی لمبی چھلانگ لگائی گئی تھی وہ گزرتی ہوئی ساعتوں کی نذر ہو رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو پس منظر میں کھیلے جانے والے کھیل نے کتنا نقصان پہنچایا ہے اس کا اندازہ بھی ہو جائے گا۔

اس مشکل منظر نامے کے باوجود تحریک انصاف نے اس احتجاج سے بہت کچھ حاصل بھی کیا ہے۔ اگر بات چیت کے درجن سے زائد دور کسی ایسے معاہدے کی صورت میں سامنے آ جاتے ہیں جس سے لمبی چوڑی اور ضروری اصلاحات کا دروازہ کھل جاتا ہے تو اس کا سہرا احتجاج کے سر ہی باندھا جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے لیے یہ سہرا بندی ضروری ہے۔ اس کے بغیر تحریک انصاف خود کو اس مشکل موڑ پر سے پھسلے بغیر نہیں نکال سکتی۔ معاہدے کے بعد عمران خان ملکی معاملات پر جزوقتی توجہ دینے کے بجائے کلی طور پر اپنی کوششیں صرف کر سکتے ہیں۔ جہاں تک رہا معاملہ طاہر القادری کا تو انکو جب ٹیلی فون آئے گا وہ واپس چلے جائیں گے۔ دھرنا اپنی افادیت حاصل کر چکا ہے اس کو مہذب انداز سے عزت بچا کر ختم کرنے کا انتظام ضروری ہو چکا ہے۔

طلعت حسین
 

No comments:

Powered by Blogger.