Header Ads

Breaking News
recent

آئی ایس آئی کے خلاف مغربی استعمار کی پروپیگنڈا مہم.........


19مئی کی شب کو بی بی سی کے سیربین پروگرام میں پاکستان کی قومی خبر ایجنسی آئی ایس آئی خاص موضوع گفتگو بنی رہی جس میں فوج کے سابق ڈائریکٹر تعلقات عامہ لیفٹیننٹ (ر) جنرل اطہر عباس، بریگیڈیئر (ر) سعد، شمالی امریکہ میں کسی فکری ادارے ( تھنک ٹینک نہیں کہہ سکتا کہ اس سے باردو کی بو آتی ہے) کے سربراہ کامران بخاری جو مشرق وسطیٰ جنوبی ایشیا ، امریکی امور اور تزویراتی علوم کے ماہر کی حیثیت سے متنوع موضوعات پر رائے زنی کے لے مدعو کیے جاتے ہیں نے اپنے اپنے نقطہ ہائے نظر سے سامعین کو آئی ایس آئی کے کردار کے بارے میں باخبر کیا۔ ان مبصرین کی نظر میں آئی ایس آئی کی سرگرمیاں حد سے تجاوز کرنے کے باعث اندرون و بیرون ملک ریاست کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں لہٰذا انہیں محدود کرنے کی ضرورت ہے البتہ بریگیڈیر سعد نے سلامتی امور میں آئی ایس آئی کے کردار کو مثبت قرار دیتے ہوئے سراہا جبکہ اطہر عباس کا رویہ معذرت خواہانہ رہا اور انہوں نے فرمایا کہ ماضی میں اس ایجنسی کو آمروں نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا اس لیے اس کا کردار متنازع ہو گیا۔ آخر میں انہوں نے مشورہ دیا کہ آئی ایس آئی کو اپنے بارے میں منفی تاثر دور کرنے کے لیے ملک کی عسکری تنظیموں کی سرپرستی ترک کر دینی چاہیے جبکہ ایک اور مبصر تو آئی ایس آئی سے اتنے بدظن تھے کہ اسے دوٹوک مشورہ دیا وہ خاموش رہے تو بہتر ہے کیونکہ وہ جتنا ذرائع ابلاغ کو اپنی صفات کے لیے استعمال کرے گی وہ اتنی ہی متنازع ہوتی جائے گی۔ ہم آئی ایس آئی کے سربراہ پر کسی صحافی پر کیے گئے قاتلانہ حملے کا الزام لگانے اور جیو پر اس خبر کو آٹھ گھنٹے چلانے کے پس منظر میں آئی ایس آئی کے احتجاج کو قانونی اقدام سمجھتے ہیں اور اگر کوئی مسخرا یہ کہے کہ اس قومی ایجنسی کو اپنی صفائی میں بھی کچھ کہنے کا بھی حق نہیں ہے اور اسے خاموش رہنا چاہیے تو اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ مؤقر ریاستی ادارہ اپنے اوپر عائد جھوٹے الزام کو تسلیم کر رہا ہے۔ کیا ادارے کے سربراہ کو جیو پر ہتک عزت کا دعویٰ کرنے کا بھی حق نہیں ہے۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ آئی ایس آئی سے غلطیاں نہیں سر زد ہوئیں اور دنیا کی کونسی ایجنسی ہے جو ادائیگی فرض کے جوش میں اپنے اور غیر ملکی شہریوں کی حق تلفی نہیں کرتی۔ ایسی صورت میں خود ایجنسی یا فوج یا حکومت اس کی اصلاح یا سرزنش کرنے کا پورا حق رکھتی ہے ۔ اس مذاکرے میں برطانیہ ، امریکہ اور کینیڈا میں بیٹھے مبصرین کو آئی ایس آئی کی آنکھ میں پڑا تنکا تو نظر آ گیا لیکن سی آئی اے کی آنکھ میں دھنستی شہتیر نہیں دکھائی دی۔ مجھے نہیں معلوم کہ سمندر پار بیٹھے تجزیہ نگار اُن ممالک کے شہری ہیں یا دہری شہریت کے حامل ہیں تاہم انہیں یہ مشورہ بارک اوباما کو دینا چاہیے کہ وہ سی آئی اے کو دوسرے ممالک کے شہریوں کو اغوا اور قتل کرنے سے روکے۔ کیا کسی ملک کی ایجنسی کو دوسرے ممالک کے خلاف جنگ کرنے کا اختیار ہ ہے؟ ان معترضین کو اپنے سامعین کو یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ افغانستان میں روسی افواج کی موجودگی پر مراکش ، الجزائر، تیونس، لیبیا، سعودی عرب، یمن، اردن اورپاکستان سے ایک لاکھ مجاہدین بھرتی کیے ،انہیں تربیت دی اور افغانستان میں داخل کیا تاکہ وہ روسی فوج اور اس کی اتحادی ببرک کارمل اور نجیب کی حکومت کے خلاف چھاپہ مارجنگ شروع کر دیں۔

ان مجاہدین کو امریکی صدر ریگن نے امریکہ کی جنگ آزادی کے سپاہیوں کے مثل قرار دیا اور ان میں مذہبی ولولہ (جسے اب انتہا پسندی کہا جا رہا ہے) پیدا کرنے کے لے اوکلا ہوما یونیورسٹی میں اردو، فارسی اور پشتو زبانوں میں جہاد کے فضائل پر پمفلٹ اور کتابچے شائع کر کے انہیں گھر گھر پہنچایا گیا یہی نہیں امریکی ڈالر اور سعودی ریال سے 1980ء تا 1988ء بے شمار مدارس قائم کیے گئے اور انہیں جہاد کے لیے متحرک کیا گیا۔ لیکن ستمبر 2001ء میں جب امریکہ اور ناٹو ٹولہ افغانستان کی حکومت کا تختہ الٹ کر اس پر قابض ہو گیا اور سی آئی اے نے بگرام میں عقوبت خانے کھولے جبکہ امریکی فوجیوں نے شہری بستیوں پر شب خون مارنا، مردوں کو قتل کرنا اور عورتوں کی عصمت دری شروع کر دی تو سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے تربیت یافتہ افغان اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور اعلان جہاد کر دیا تو وہی جنگ آزادی دہشت گردی بن گئی اور وہی مجاہدین دہشت گرد بن گئے :
خرد کا نام رکھ دیا جنون اور جنون کا خرد
جو چاہے آ پ کا حسن کرشمہ سا ز کرے

یورپ اور امریکہ میں مقیم مبصرین مقامی حکومتوں کو مشورہ دیں کہ سی آئی اے کے اڈے کیوں نہیں بند کیے جاتے، سی آئی اے یمن، مالی ، صومالیہ، نائیجیریا اور پاکستان پر ڈرون حملے کیوں کرتی ہے؟ کیا کسی ریاست کی مخبر ایجنسی کو دسرے ممالک کے خلاف جنگ، تخریب کاری اور ان کے شہریوں کے قتل اور اغوا کا اختیار حاصل ہے؟ اگر ہے تو کس قانون یا اخلاقی ضابطے کے تحت؟ ہمیں تو مشرف جنتا سے یہی شکایت ہے کہ اس نے پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی کو ایک ہمسایہ ملک پر حملہ آور فوج کی کیوں معاونت کی؟ امارات اسلامی افغانستان سے تو پاکستان کے نہ صرف سفارتی بلکہ خوشگوار برادرانہ تعلقات تھے۔ مشرف یا اس کے بعد سیاسی حکومت نے امریکی سی آئی اے اور ایف بی آئی کو کیوں ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی؟ امریکی انتظامیہ ہمیشہ افواج پاکستان اور سی آئی اے پر الزام لگاتی رہی کہ وہ طالبان سے ملے ہوئے ہیں۔ کامران بخاری امریکی انتظامیہ سے کہیں ناں کہ وہ سی آئی اے بلیک واٹر کے گماشتوں کو پاکستان میں کیوں داخل کرتی ہے؟ جبکہ ہم آئی ایس آئی سے پوچھیں گے کہ وہ انہیں ملک سے نکال باہر کیوں نہیں کرتی کیونکہ وہ سلامتی کے لیے ایک مہیب خطرہ بن گئے ہیں؟

وکی لیکس اور سنوڈن کے انکشافات سے یہ بات منظر عام پر آ گئی ہے کہ امریکہ نے اندرون و بیرون ملک جاسوسی کا ایسا جال بچھا رکھا ہے کہ نہ تو امریکہ کے کسی شہری کو نجی آزادی (Privacy) حاصل ہے، نہ چہار دیواری کا تقدس نہ مراسلے کے ارسال و حصول کا حق نہ ہی ذاتی بینک کھاتوں ، بیمہ پالیسیوں، جائیداد کی ملکیت کے دستاویزات کی ضمانت، حد تو یہ ہے کہ امریکہ کے وفادار نیٹو حلیف بھی ایجنسیوں کے دست برد سے محفوظ نہیں رہے۔ جرمنی کی چانسلر برازیل کی صدر کے نجی ٹیلیفون تک ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔ اسے امریکہ اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ اور انسداد دہشت گردی کے نام پر پے در پے جو قوانین پارلیمان منظور کرتی ہے ، اس میں ریاست کی ایجنسیوں کو بھی وہ سب کچھ کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے جو امریکہ نے سی آئی اے اور دیگر کو دے رکھا ہے۔ شہریوں کو راستے یا گھروں سے اٹھا کر لے جانا اور انہیں نامعلوم حراستی مراکز میں 90 دن تک قیدی رکھنے کا اختیار کس نے دیا ہے؟ اگر ایجنسیاں ان اختیارات کو استعمال کرتی ہیں تو بدنام ہو جاتی ہیں جبکہ اس کی ذمہ دار وہ پارلیمان ہے جو ایسے کالے قوانین منظور کرتی ہے لیکن اس کی ذمہ داری قبول نہیں کرتی بلکہ خود بیشتر سیاسی پارٹیاں ایجنسی کی کردار 
کشی کی امریکی اور بھارت کی مہم کی حمایت کرنے لگتی ہیں۔

پروفیسر شمیم اختر
بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.