Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان کے دفاعی اداروں اور جیو نجی میڈیا گروپ کے درمیان محاذ آرائی میں شدت......

پاکستان کے نجی ٹیلی ویژن چینل جیو نیوز نے اپنے لائسنس کی معطلی کے چند گھنٹے کے بعد ملک کے طاقتور خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور وزارت دفاع کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ کردیا ہے۔

جیو نیوز کے ملکیتی انڈی پینڈینٹ میڈیا گروپ نے یہ دعویٰ دفاعی اداروں کی جانب سے اپنے خلاف عاید کیے جانے والے ملک دشمنی کے الزامات کے جواب میں دائر کیا ہے۔پاکستان کے قومی اداروں اور جیو گروپ کے درمیان معروف صحافی حامد میر پر 19 اپریل کو کراچی میں قاتلانہ حملے کے بعد سے محاذ آرائی چل رہی ہے۔

جیونیوز نے حامد میر پر فائرنگ کے فوری بعد آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام پر اس حملے کا الزام عاید کردیا تھا اوراس نے اپنی نشریات میں کئی گھنٹے تک ان کی تصاویر اس انداز میں دکھائی تھیں کہ گویا وہی واقعے کے ذمے دار ہیں۔تاہم ابھی تک حامد میر پر حملہ کرنے والوں کا سراغ نہیں لگایا جاسکا ہے۔

وزارت دفاع نے گذشتہ ماہ جیونیوز کے خلاف پاکستان کے میڈیا ریگولیٹر ادارے پیمرا کے ہاں درخواست دائر کردی تھی اور اس کا لائسنس معطل کرنے کے لیے کہا تھا۔ اس پر آج جمعہ کو پیمرا نے جیو نیوز کا پندرہ روز کے لیے لائسنس معطل کردیا ہے اور اس پرقواعد وضوابط کی خلاف ورزیوں پر ایک کروڑ روپے جرمانہ بھی عاید کیا ہے۔

اس کے ردعمل میں جیو اور جنگ گروپ نے وزارت دفاع ،انٹر سروسز انٹیلی جنس اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو ایک قانونی نوٹس جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان اداروں نے گروپ کو ملک دشمن قرار دے کر اس کی شہرت داغدار کی ہے اور اس کو نقصان پہنچایا ہے۔

اس ادارے کے اخبار جنگ کی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان کے مطابق ''آٹھ ہزار سے زیادہ صحافی ،کارکنان اور پروفیشنلز اس گروپ سے وابستہ ہیں۔پاکستان بھر میں نہ صرف انھیں بلکہ ان کے خاندانوں کو بھی ہراساں کیا جارہا ہے۔ان پر حملے بھی کیے گئے ہیں اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے''۔

جیو نیوز نے آئی ایس آئی سے کہا ہے کہ وہ چودہ روز میں ادارے پر عاید کردہ ملک دشمنی کے الزامات واپس لے اور معافی نامہ جاری کرے۔پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی نجی ادارے نے اس طرح آئی ایس آئی کو نوٹس جاری کیا ہے اور اس سے معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

جیو کے اس اقدام اور پیمرا کے حکم سے ظاہر ہے کہ ملک میں گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری میڈیا کی لڑائی ختم نہیں ہوگی بلکہ اس میں اب اور بھی شدت آئے گی۔جیو نے اس سے پہلے خود آئی ایس آئی اور وزارت دفاع سے اپنی مذکورہ نشریات پر معافی طلب کی تھی لیکن اس کے باوجود اس کو معاف نہیں کیا گیا تھا اور اب اس نے جوابی وار کرتے ہوئے آئی ایس آئی سے معافی کا مطالبہ کردیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری کی ایک تین رکنی کمیٹی نے گذشتہ ماہ جیو ٹی وی نیٹ ورک کے تین ٹیلی ویژن چینلوں کے لائسنس عارضی طور پر منسوخ کرنے اور اس کے دفاتر سیل کرنے کا حکم دیا تھا لیکن اس حکم پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تھا کیونکہ خود پیمرا نے ہی اپنے تین پرائیویٹ ارکان کے فیصلے سے لاتعلقی ظاہر کردی تھی۔ پیمرا کے مذکورہ حکم سے قبل ہی پاکستان کے بہت سے علاقوں میں جیو کی نشریات معطل ہیں یا پھر کیبل آپریٹروں نے حکام کے دباؤ پر اس کو آخری نمبروں پر کردیا ہے۔پاکستان کے دو تین اور نجی ٹی وی چینلز بھی جیو کے خلاف مہم چلا رہے ہیں اور اس کو اپنے ٹاک شوز میں ملک دشمن قرار دے رہے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر بھی بزعم خویش محب وطنوں نے اس چینل کے خلاف مہم شروع کررکھا ہے۔تاہم ملک کی صحافتی برادری اس چینل کی بندش کے خلاف ہے

No comments:

Powered by Blogger.