Header Ads

Breaking News
recent

قبا چاھئے اس کو خون عرب سے........


عراق تیل پیدا کرنے والا ایک بڑا ملک ہے، اگر وہاں دوبارہ لڑائی چھڑتی ہے تو اس کے باعث خام تیل کی قیمتوں پر اثر پڑے بغیر نہیں رہ سکے گا۔

عراق کی صورتحال دن بہ دن دھماکا خیز ہوتی جا رہی ہے۔ شدت پسند تنظیم داعش کی جانب سے عراق کی مغربی سرحد پر قبضہ کے بعد اس خطہ میں حکومت کی عمل داری ایک طرح سے ختم ہو گئی ہے۔ دوسری جانب عراقی حکومت داعش کی پیش قدمی کے باعث بے بس نظر آتی ہے اور اس نے امریکا سے درخواست کی ہے کہ اسے فوری طور پر فضائی امداد فراہم کی جائے۔

عراق میں صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے امریکا کے وزیر خارجہ جان کیری عراق پہنچ چکے ہیں اور انہوں نے وزیر اعظم نوری المالکی سے ملاقات کر کے یہ کہا ہے کہ حکومت میں عراق کے تمام فریقوں کو حصہ داری دی جائے تاکہ سنی انتہا پسندوں کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے کسی بڑے ٹکرائو کو روکا جا سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں ایک طرف عراقی حکومت امریکا سے براہ راست مداخلت کی درخواست کر رہی ہے، وہیں دوسری جانب ایران کے سب سے بڑے مذہبی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ عراق میں مداخلت کے لیے بہانے تلاش کر رہا ہے۔

امریکا نے عراق پر حملہ کے آٹھ سال بعد 2011ء میں یہ کہتے ہوئے وہاں سے اپنی فوجیں ہٹا لینے کا اعلان کیا تھا کہ عراق میں اب القاعدہ کی رہنمائی میں سنی ملیشیا کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے بڑے تمسخرانہ انداز میں کہا تھا کہ انہوں نے عراق میں موجود القاعدہ تنظیم کی ایک طرح سے کمر توڑ دی ہے، جس کا دوبارہ سر اٹھانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ لیکن ان کو شاید یہ علم نہیں تھا کہ بظاہر طور پر خاموش ہو جانے والے شدت پسند مصلحت کے تحت ضرور خاموش ہو گئے لیکن انہوں نے اندر ہی اندر تیاری کر کے اپنی طاقت کو مجتمع کر لیا ہے۔ ان عناصر کو عراق کے اس طبقہ کی بھی حمایت حاصل رہی جو موجودہ حکومت کے استحصال کا شکار رہا۔ حکومت سے تعلق رکھنے والے بعض افسران نے صدام حسین کے دور کا انتقام بے گناہ لوگوں سے لیا، جس کی وجہ سے ان لوگوں کے اندر غم و غصہ تھا۔

داعش کے ارکان نے عراق میں جب اپنی کارروائی شروع کی تو ان لوگوں نے اسے اپنے نجات دہندہ کے طور پر دیکھا اور عراقی باشندے اب کھل کر اس تنظیم کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ داعش کی جانب سے جب کارروائی شروع کی گئی تو جلد ہی عراق کے کئی شہر اس کے زیر نگیں ہو گئے اور عراقی فوج کسی بھی محاذ پر ان کے سامنے ٹک نہیں پائی اور جس جگہ بھی ٹکراؤ ہوا، میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑی ہوئی۔ عراق فوج کی بے بسی کا اندازہ عراق کے وزیر خارجہ کے اس بیان سے ہو جاتا ہے کہ عراق کے پاس فضائیہ نہیں ہے اور نہ ہی جنگی طیارے ہیں۔ اس کے باوجود کہ حکومت کو داعش سے درپیش خطرے کا پہلے سے ہی علم تھا، لیکن عراقی فوج ان کے سامنے بالکل بے بس نظر آئی۔

یہی وجہ ہے کہ داعش نے دفاعی لحاظ سے اہم شمالی شہر تل عفر کے ہوائی اڈہ پر آسانی سے قبضہ کر لیا۔ اس طرح داعش کے جنگجوؤں نے عراق کے بڑے حصہ کو ایک دوسرے سے کاٹ دیا، جس کے آغاز موصل پر قبضہ شے شروع ہوا تھا۔ یہی نہیں داعش کے جنگجوؤں نے انبار صوبہ کے سنی اکثریت والے قصبوں میں اپنے پیر جما لیے۔ اس طرح جنگجوؤوں کو ملنے والے ہتھیاروں کی سپلائی کا راستہ صاف ہو گیا۔ اردن اور شام کی سرحدی چوکیوں پر تقریباً 90 فیصد علاقہ پر باغیوں کا قبضہ ہے۔ کئی مقامات پر فوج اور پولیس نے اپنی چوکیوں کو چھوڑنے میں ہی عافیت سمجھی، جب باغیوں نے انہیں خون خرابہ سے بچنے کے لیے محفوظ راستہ فراہم کر دیا تھا۔

داعش کے شدت پسندوں نے جس طرح بغداد کی جانب اپنی پیش قدمی جاری رکھی ہے، اس سے بغداد کے اندر لوگوں میں ایک طرح کی سراسیمگی سی پائی جاتی ہے۔ اب جس طرح سے عراقی حکومت بار بار امریکہ سے فضائی حملہ کی درخواست کر رہی ہے، اس سے عراق میں ایک بار پھر بڑے پیمانہ پر قتل و غارت گری کے خدشہ سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ عراق میں تیل کی دولت پر قبضہ جمانے کے لیے امریکہ نے جس طرح بڑے پیمانہ پر تباہی مچائی، اس سے لاکھوں لوگوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا اور ایک ہنستا مسکراتا ملک آہ و بکا کے لیے مجبور ہو گیا۔ ہولناک بمباری کے باعث آج بھی وہاں ہزاروں افراد جن میں بوڑھے اور بچے بھی شامل ہیں، معذوری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ امریکہ اگر پھر دوبارہ وہاں بمباری کرتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کی زد میں معصوم شہری آئے بغیر نہیں رہیں گے۔

عراق تیل پیدا کرنے والا ایک بڑا ملک ہے، اگر وہاں دوبارہ لڑائی چھڑتی ہے تو اس کے باعث خام تیل کی قیمتوں پر اثر پڑے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ ہندوستان جس کا تیل کے درآمدات پر بہت بڑا انحصار ہے، تیل کی قیمتوں پر اضافہ سے وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہے گا۔ ظاہر ہے کہ اس کا براہ راست اثر پوری معیشت پر پڑے گا۔ جب سے عراق میں زیادہ گڑبڑی پیدا ہوئی ہے، خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہونا بھی شروع ہو گیا ہے۔ شدت پسندوں کی جانب سے وہاں کی آئل ریفائنری پر قبضہ کیے جانے کے بعد عراق سے تیل کی سپلائی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ اس وقت خام تیل کی قیمت 9 مہینے کی سب سے اونچی شرح 115 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔ اگر عراق کا بحران فوری طور پر حل نہیں کیا گیا تو ہندوستان جیسے ترقی پذیر ممالک پر جو زبردست بوجھ پڑے گا، اس کا خمیازہ 
عوام ہی کو برداشت کرنا پڑے گا۔

No comments:

Powered by Blogger.