Header Ads

Breaking News
recent

سب مایا ہے.......وسعت اللہ خان


المیہ یہ ہے کہ جہاں دریا نہ ہو وہاں بھی پل بنانے کے وعدے پر ووٹ لے لینا ہی کامیاب انتخابی سیاست کہلاتی ہے۔ (نکیتا خروشچیف)

جرمنی

نچلے طبقے کے ٹوٹے ہوئے کنبے میں پیدا ہونے والا ناکام مصور، ضدی مزدور، ارادے کا پکا فوجی ڈا کیا اڈولف ہٹلر جرمنی کا چانسلر کیسے بنا؟ جب انیس سو انیس میں اس نے نیشنل سوشلسٹ جرمن ورکرز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تو انتہائی دائیں بازو کے کئی جرمن گروپوں کی طرح اس پارٹی کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں تھی۔ مگر ایسے کسی گروپ میں شمولیت کا یہ فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ تنظیمی صلاحیت کے بل بوتے پر آدمی تیزی سے ترقی کرسکتا ہے اور ہٹلر تو سراپا تنظیمی صلاحیت تھا۔

چنانچہ انتھک ہٹلر کی قیادت میں گمنام نازی پارٹی نے انیس سو چوبیس میں پہلا پارلیمانی الیکشن لڑا اور پانچ سو ستتر کے ایوان میں چودہ سیٹیں حاصل کیں۔ انیس سو اٹھائیس کے الیکشن میں صرف بارہ سیٹیں ملیں لیکن انیس سو تیس میں ہونے والے الیکشن میں نازی پارٹی ایک سو سات سیٹیں لے کر سوشل ڈیموکریٹس کے بعد دوسری بڑی جماعت کے طور پر ابھری۔ صرف دو سال میں بارہ سے ایک سو سات سیٹیں کرلینا بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ہٹلر اور اس کی ٹیم نے ان دو برسوں میں اپنی ناکامی کے اسباب کو سمجھنے کی سنجیدگی سے کوشش کی۔ پتہ یہ چلا کہ صرف یہودیوں کے خلاف نفرت ، کیمونسٹوں سے دشمنی اور سوشل ڈیموکریٹس کو منافق بتانے سے کام نہیں چلے گا۔

زیادہ سے زیادہ ووٹروں کو شیشے میں اتارنے کے لیے انتخابی حکمتِ عملی اور نعرے بدلنے پڑیں گے۔لہٰذا پورے جرمنی کو نازی پارٹی کی اٹھانوے علاقائی شاخوں میں تقسیم کیا گیا۔ مقصد پارٹی کی ممبر سازی میں تیزی لانا اور نچلی سطح تک منظم ہونا تھا۔ نوجوانوں کو ساتھ ملانے کے لیے ہٹلر یوتھ بنی۔پارٹی رضاکاروں کی پانچ نیم عسکری شاخیں تشکیل دی گئیں۔مزدوروں،کسانوں، اساتذہ، سرکاری ملازموں، چھوٹے کاروباریوں کی ذیلی تنظیمیں بنا کر انھیں پارٹی کے ساتھ جوڑا گیا۔ نازی پارٹی کی انیس سو تیس کی ممبر شپ دیکھی جائے تو اکیانوے فیصد ممبروں کا تعلق مڈل کلاس سے اور پینتیس فیصد کا مزدور طبقے سے تھا۔

سن تیس کے الیکشن کا انچارج جوزف گوئبلز کو بنایا گیا۔ جس نے انتخابی مہم کو ایک سائنس میں تبدیل کردیا۔ پہلی دفعہ کسی لیڈر نے الیکشن مہم میں تیزی لانے کے لیے ہوائی جہاز کا استعمال کیا۔ ریڈیو پر انتخابی پیغامات دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔ رات کو ہزاروں افراد کے مشعل بردار جلوس کی روایت پڑی تاکہ دیکھنے والے مبہوت رہ جائیں۔لاکھوں کی تعداد میں رنگین پوسٹرز اور بینرز کی مفت تقسیم کا چلن شروع ہوا۔ ہزاروں کے مجمع میں جا کر عام لوگوں سے ہاتھ ملانا، چھوٹے بچوں کو گود میں اٹھا کر پیار کرنا اور تصویر کھچوانا وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔

ہٹلر غضب کا مقرر تھا۔بہت آہستہ آہستہ تقریر شروع کرتا اور رفتہ رفتہ آواز بڑھتی چلی جاتی اور آخر میں مجمع خطابت کی سحر انگیزی سے پاگل ہوچکا ہوتا۔اقتصادی مسائل اور سیاسی عدم استحکام سے تنگ آدمی جلسے سے باہر نکلتا تو ہر ایک کے پاس کوئی نہ کوئی خواب ضرور ہوتا۔ بے روزگاروں کو روزگار، دیوالیہ کاروباریوں کے لیے قرضے، صنعت کاروں کو ٹیکس کی چھوٹ، فوج کی سابقہ عظمت کی بحالی، طبقاتی فرق میں کمی، سیاسی افراتفری کا خاتمہ، ایک مضبوط حکومت قائم کرکے بدعنوانی سے پاک ایسے عظیم جرمنی کی تعمیر کا خواب جو معاہدہ ورسائے کی غلامانہ زنجیریں کاٹ پھینکے۔ رگوں میں خالص آریائی خون رکھنے والی شاندار قوم کا عظیم الشان جرمنی جس میں یہودی بینکروں اور کیمونسٹوں کے لیے کوئی جگہ نہ ہوگی۔

تین اکتوبر انیس سو تیس کو جرمن پارلیمنٹ کا افتتاحی اجلاس ہوا تو ایک سو سات نازی ممبر ایک ساتھ ہال میں داخل ہوئے اور جب اسمبلی کے صدر نے ایک ایک کا نام پکارا تو ہال میں ’’ پریزنٹ ہائل ہٹلر ’’ کا نعرہ ایک سو سات دفعہ گونجا۔

اب سوال یہ ہے کہ ہٹلر جس نے انیس سو بیس میں جرمن ٹیکس حکام کو بتایا تھا کہ وہ ایک ایسا غریب اخباری لکھاری ہے جس کے پاس گاڑی بھی ادھار کی ہے۔اسی ہٹلر کی جماعت نے اگلے چھ برس میں بارہ سیٹوں سے ایک سو سات سیٹوں تک جو زقند لگائی تو وسائل کہاں سے آئے۔

انیس سو چوبیس تک بہت سے جرمن کاروباریوں نے آگے کے حالات بھانپ لیے تھے۔وہ پہلی عالمی جنگ کی تباہ کاریوں سے بدحال جرمنی میں بڑھتی کیمونسٹ طاقت سے خائف تھے اور سوشل ڈیموکریٹس کے حامی تھے مگر کچھ سرمایہ کاروں نے جرمنی کے اقتصادی و سیاسی مسائل کا حل ہٹلر کی فلاسفی میں دیکھنا شروع کیا چنانچہ انیس سو چوبیس کے بعد سے نازی پارٹی جرمن کارپوریٹ سیکٹر کی سرپرستانہ نگاہوں میں آنی شروع ہوئی۔معروف اسٹیل صنعت کار فرٹز تھائیسن نازی پارٹی کا باقاعدہ ممبر بنا۔ہیوگو سٹائنز کی بزنس فیملی نے نازیوں کے ہفت روزہ وولکشر بیوباختر کو روزنامہ بنانے میں مدد دی۔کیمیکلز اور دواساز کمپنی آئی جی فاربین کی طرف سے مالی معاونت شروع ہوئی اور انیس سو تیس کی انتخابی کامیابی کے بعد تو نازی پارٹی ایسا سیاہ گھوڑا بن گئی جس پر کارپوریٹ سیکٹر آنکھیں بند کرکے شرط بد سکتا تھا۔

انیس سو اکتیس میں کوئلے کی کانوں کے سیٹھوں کی تنظیم نے ہر ایک ٹن کوئلے کی فروخت سے حاصل پیسے میں سے آدھا مارک نازی پارٹی کو بطور چندہ دینا شروع کیا۔ اسی سال آئی جی فاربین اور چند دیگر کاروباریوں اور بینکروں نے پانچ لاکھ مارک کا چندہ دیا۔نازی پارٹی نے اس مقصد کے لیے ڈوش بینک میں نیشنل ٹرسٹی شپ کے نام سے ایک اکاؤنٹ قائم کیا جو ہٹلر کے نائب رڈولف ہس کے نام پر تھا۔

انیس سو بتیس میں جب جرمنی میں بے روزگاری بین الاقوامی کساد بازاری کے سبب عروج پر تھی اور کوئی قومی جماعت اپنے طور پر یا باہمی نفاق کے سبب مخلوط حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھی تو جولائی کے پارلیمانی انتخابات میں نازی پارٹی اپنی پچھلی کامیابی کو دوگنا کرتے ہوئے دو سو تیس نشستیں حاصل کر کے سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی کے طور پر ابھری۔مگر پانچ سو ستتر کے ایوان میں دو سو اناسی کی سادہ اکثریت کسی کے پاس نہیں تھی مگر کوئی کیمونسٹوں، سوشل ڈیموکریٹس اور نازیوں میں سے کوئی کسی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانے پر تیار نہیں تھا چنانچہ صرف چار مہینے بعد دوبارہ الیکشن کرانے پڑ گئے لیکن کساد بازاری کی شدت میں کمی کے سبب نازیوں کی سیٹیں دو سو تیس سے کم ہو کر ایک سو چھیانوے رہ گئیں۔ صدر وان ہنڈن برگ نے اگلے دو مہینے حکومت بننے کے انتظار کے بعد جنوری تینتیس میں پہلی دفعہ نازیوں کو حکومت سازی کی دعوت دی اور ہٹلر نے چانسلر کا حلف اٹھا لیا مگر یہ بھی دیوار پر لکھا تھا کہ کوئی پارٹی نازیوں سے حکومت سازی میں تعاون نہیں کرے گی لہٰذا پھر انتخابات کرانے پڑیں گے۔

بیس فروری کو اسمبلی کے صدر (اسپیکر) ہرمن گوئرنگ کے گھر پر جرمن بزنس اور انڈسٹری کے باسز کو مدعو کیا گیا۔شرکاء میں سب سے بڑی اسٹیل اور اسلحہ ساز کمپنی کرپ کے مالک الفرڈ کرپ وان بوہلن کے علاوہ آئی جی فاربین، اے ای جی اور اوسرم سمیت تیرہ بڑے صنعتی و تجارتی نمایندے اور سرمایہ کار شریک ہوئے۔ہٹلر نے تقریباً ڈھائی گھنٹے ان سے خطاب کیا۔ لبِ لباب یہ تھا کہ اس وقت ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو ملک کو متحد کرکے تعمیرِ نو کر سکے۔ اگر جلد ایسا نہ ہوا تو کیمونزم جرمنی کو کھا جائے گا۔اس تقریرِ پرتاثیر کے نتیجے میں کارپوریٹ سیکٹر نے تین ملین مارک کا فنڈ قائم کیا۔ یہ اتنی بڑی رقم تھی کہ الیکشن کے بعد بھی اس میں سے چھ لاکھ مارک بچ گئے۔

اس اجلاس کے سات دن بعد پارلیمنٹ کو پراسرار طور پر آگ لگ گئی۔اگلے دن پارلیمنٹ نے یہ قانون منظور کیا کہ کابینہ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر اگلے چار ماہ تک ضروری قانون سازی کرسکتی ہے چنانچہ بنیادی شہری حقوق معطل ہوگئے۔پارلیمنٹ کی آتشزدگی کے الزام میں کیمونسٹوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی۔الیکشن کا اعلان ہوا۔ تربیت یافتہ نازی نوجوانوں نے سڑکوں اور گلیوں میں مخالفین کی مارپیٹ شروع کردی اور جلسے خراب کیے گئے۔مارچ تینتیس کے الیکشن میں نازیوں کو دو سو اٹھاسی سیٹیں مل گئیں یعنی سادہ اکثریت سے ایک کم۔انھوں نے دائیں بازو کے چند غیر نازی ارکان کو توڑا اور ہٹلر باقاعدہ چانسلر بن گیا۔

ہندوستان۔

انیس سو پچیس میں ناگپور کے ڈاکٹر کیشو بالی رام ہیگواڑ نے راشٹریہ سیوامک سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی بنیاد رکھی۔ اس کا مقصد ہندوستان کو خالص آریائی ہندو راشٹر بنانا تھا۔ہٹلر کی طرح آر ایس ایس نے بھی اپنی خالص آریائی شناخت ابھارنے کے لیے سواستیکا کا نشان اپنایا۔آر ایس ایس کی بنیادی قیادت جو مہا دیو سداشیوگول والکر ، ونائک دمودر ساورکر اور ہیگواڑ پر مشتمل تھی اسے ہندو راشٹر کی منزل مسولینی کی فاشسٹ اور ہٹلر کی نازی آئیڈیا لوجی میں صاف نظر آرہی تھی۔گولوالکر نے اپنے ایک مضمون میں ہٹلر کی یہود دشمن پالیسی کو سراہتے ہوئے مسلمانوں کا ذکر کیے بغیر لکھا۔’’ غیر ملکی عناصر کے لیے دو ہی راستے ہیں۔یا تو اکثریتی گروہ میں ضم ہو کر اس کا کلچر اپنا لیں یا پھر دھرتی چھوڑ دیں۔یہی اقلیتی مسئلے کا درست اور منطقی حل ہے‘‘۔

اکتیس جنوری انیس سو اڑتالیس کو جب آر ایس ایس کے ایک سابق رکن ناتھورام گوڈسے نے گاندھی جی کو قتل کردیا تو آر ایس ایس پر پابندی لگا دی گئی۔انیس سو اکیاون میں آر ایس ایس نے ڈاکٹر شیاما پرشاد مکھر جی کی قیادت میں بھارتیہ جن سنگھ کے نام سے اپنی ذیلی سیاسی شاخ تشکیل دی۔جن سنگھ نے انیس سو باون میں ملک کے پہلے عام انتخابات میں لوک سبھا کی صرف تین نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔انیس سو ستاون کے انتخابات میں اسے چار، باسٹھ میں چوہتر، سڑسٹھ میں پینتیس اور اکہتر کے الیکشن میں بائیس نشستیں ملیں۔انیس سو ستتر کا الیکشن آر ایس ایس نے اندرا گاندھی کی ایمرجنسی کے خلاف بننے والے اتحاد جنتا پارٹی کے بینر تلے لڑا لیکن جب انیس سو اسی کے انتخابات میں جنتا پارٹی کو شکست ہوگئی اور اتحاد بکھر گیا تو بھارتیہ جن سنگھ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے نام سے جنم لیا۔ نئی پارٹی نے انیس سو چوراسی کے انتخابات میں دو سیٹیں حاصل کیں لیکن اس کے فوراً بعد ایودھیا میں رام مندر بناؤ تحریک کے نتیجے میں اسے انیس سو نواسی میں پچاسی نشستیں ، اکیانوے میں ایک سو بیس اور چھیانوے میں ایک سو چھیاسٹھ نشستیں ملیں۔بی جے پی نے سادہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود حکومت بنانے کی کوشش کی مگر سولہ دن بعد یہ حکومت مستعفی ہوگئی لیکن جب انیس سو اٹھانوے میں ایک سو بیاسی سیٹیں ملیں تو پہلی مرتبہ آر ایس ایس کو بی جے پی کی شکل میں واجپائی کی قیادت میں حکومت بنانے کا موقع ملا لیکن دو ہزار چار کے انتخابات میں بی جے پی گجرات میں قتلِ عام سے پیدا ہونے والی بے یقینی اور اقتصادی ترقی کے ثمر میں عام آدمی کو شریک نہ کرنے کے سبب انڈیا شائننگ کا نعرہ لگانے کے باوجود کانگریس کے ہاتھوں شکست کھا گئی اور دو ہزار نو میں بھی اسے اندرونی انتشار کے سبب صرف ایک سو سولہ نشستیں ملیں جو پچھلے الیکشن کے مقابلے میں اکیس کم تھیں۔تو پھر ایسا کیا معجزہ ہوا کہ بی جے پی کے سیاسی اتحاد نے دو ہزار چودہ کے الیکشن میں اگلے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ دیے اور بھارت کو تیس سال بعد ایسی حکومت مل گئی جو اپنی معیاد مکمل کرنے کے لیے سیاسی اتحادیوں کے رحم و کرم پر نہیں۔کیا یہ گجرات ماڈل کی کامیابی ہے یا سن تیس کے جرمن کارپوریٹ ماڈل کی چمتکاری ہے۔

وسعت اللہ خان   

No comments:

Powered by Blogger.