Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان کا حکمران طبقہ: نااہلی اور بد عنوانی کا برا عظم


اقتدار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انسان کو بدعنوان بناتا ہے اور مطلق اقتدار مطلق بدعنوانی کو جنم دیتا ہے۔ لیکن پاکستان کے حکمران طبقے کا معاملہ ہی عجب ہے۔یہاں کے حکمران طبقے کو مطلق اقتدار ہی نہیں جزوی اقتدار بھی مطلق بدعنوان بناتا ہے۔ لیکن اقتدار حکمرانوں کو صرف بدعنوان ہی نہیں بناتا بلکہ اُن کی نااہلی کو بھی طشت ازبام کرتا ہے۔ دنیا بھر میں حکمرانوں کو نااہلی اور بدعنوانی کا جزیرہ سمجھا جاتا ہے، لیکن پاکستان کا حکمران طبقہ نااہلی اور بدعنوانی کا براعظم ہے۔ پاکستان کے حکمران طبقے کی نااہلی اور بدعنوانی کی تازہ ترین گواہی سپریم کورٹ نے دی ہے۔ نرم لہجے میں نہیں، تقریباً چیختے ہوئے۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 13 مئی کو ازخود نوٹس مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ آئین زندگی کی حفاظت کا حکم دیتا ہے۔ تین رکنی بینچ نے کہا کہ بھوک سے مرنے والوں کی قربانیاں ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ بینچ نے کہا کہ جب راولپنڈی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 1150 روپے میں فروخت ہوگا تو بلوچستان جیسے دور دراز علاقوں کا کیا حال ہوگا! بینچ نے کہا کہ حکمران اشیاء کی قلت پیدا کرکے قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔ کیا یہ طے کرلیا گیا ہے کہ خواہ چوہے گندم کھا جائیں یا عوام بھوکے مر جائیں لوگوں کو سستا آٹا نہیں ملے گا؟ لوگ بھوک سے تنگ آکر اپنے بچے نہروں میں پھینک رہے ہیں۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ انگریز نے بھی تو لوگوں کے لیے غذا کا بندوبست کیا تھا۔ فوڈ سیکرٹری نے اس موقع پر تسلیم کیا کہ انگریزوں کے دور میں اگر ایک خاص تاریخ تک بارش نہیں ہوتی تھی تو ضلعی انتظامیہ انسانوں کے لیے خوراک اور پانی اور جانوروں کے لیے چارے کا بندوبست کرتی تھی۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ہم نے کئی غذائی اجناس میں خودکفالت حاصل کرلی ہے، چنانچہ پاکستان میں غذا کی قلت اور غذائی اجناس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن نہ صرف یہ کہ ایک بار پھر یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے بلکہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ازخود کارروائی کے تحت اس کا نوٹس لینے پر مجبور ہوگئی ہے۔


تین رکنی بینچ کے ریمارکس سے ظاہر ہے کہ ملک میں گندم کی گراں فروشی اور ذخیرہ اندوزی بدترین تاجرانہ نفسیات کا نتیجہ ہے۔ عالمی سطح پر کہا جاتا ہے کہ غذائی اجناس پر اجارہ داری رکھنے والے بڑے ملک گندم سمندر میں ڈال دیتے ہیں۔ وہ عالمی منڈی میں گندم کے نرخوں کو ایک حد سے کم نہیں ہونے دیتے۔ یہی صورت پاکستان میں ہے اور یہ پہلی بار نہیں ہورہا کہ گندم کے نرخ بڑھ رہے ہیں اور عام آدمی کی قوتِ خرید جواب دے رہی ہے۔ میاں نوازشریف کے پچھلے دورِ حکومت میں آٹے کا کال پڑ گیا تھا اور لوگ کہتے پھرتے تھے کہ شیر آیا اور آٹا کھا گیا۔ لیکن بعدازاں معلوم ہوا کہ یہ صورت حال گراں فروشی کی نفسیات کا شاخسانہ تھی اور ملک کے بعض حصوں میں آٹے کی بدترین قلت پیدا کرنے والوں میں نواز لیگ کے لوگ بھی شامل تھے۔ پاکستان گنا پیدا کرنے والے دنیا کے دس بڑے ممالک میں شامل ہے مگر ہمارے یہاں چینی بھی سو روپے کلو تک فروخت ہوئی ہے۔ تو کیا ملک میں ایک بار پھر گندم اور آٹے کا بحران پیدا ہونے والا ہے؟ اس سلسلے میں وثوق سے کچھ کہنا دشوار ہے مگر سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس سے ظاہر ہے کہ حالات سنگین ہیں اور گندم کی گراں فروشی نے کروڑوں لوگوں کے لیے دو وقت کی روٹی کو بھی ’’عیاشی‘‘ بنادیا ہے۔ اس مسئلے کا شرمناک ترین پہلو یہ ہے کہ مقدمے کی سماعت کے دوران انگریزوں کے دورِ غلامی کا ذکر ہوا اور اس امر پہ اتفاقِ رائے پایا گیا کہ غذا کی فراہمی کے حوالے سے دورِ غلامی بہتر تھا۔ ظاہر ہے کہ انگریز آقا تھے اور انہیں غلاموں کی فلاح و بہبود سے کوئی خاص دلچسپی نہ تھی، لیکن یہ تو انگریزوں کے لیے بھی قابلِ قبول بات نہ تھی کہ ان کی عمل داری میں لوگ گراں فروشی اور بھوک کے ہاتھوں مارے جائیں۔ ایسا ہوتا تو تاریخ میں انگریزوں کی بھد اڑ کر رہ جاتی۔ تاریخ کہتی کہ انگریزوں کو نوآبادیات کا تو شوق تھا مگر وہ اپنی نوآبادیات کے لیے غذا کا بندوبست کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ہم آج غذا کے معاملے میں نوآبادیات کے تجربے سے نیچے کھڑے ہیں۔ آخر پاکستان کے حکمران طبقے کی اس سے بڑی تنقید کیا ہوسکتی ہے کہ ان کے طرزِ حکمرانی سے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو عہدِ غلامی یاد آجائے اور وہ خوراک کی فراہمی کے حوالے سے عہدِ غلامی کو عہدِ آزادی سے بہتر باور کرائے؟ لیکن مسئلہ صرف اتنا سا نہیں ہے۔

جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت حکومت کا بنیادی فرض ہے، لیکن گزشتہ دس سال کے دوران دہشت گردی کی وارداتوں میں ہم نے 35 ہزار عام شہریوں اور 5 ہزار فوجیوں کو لقمۂ اجل بنوا دیا ہے، لیکن دہشت گردی کی لہر کو نہ جنرل پرویزمشرف روک سکے، نہ پیپلزپارٹی کی سول حکومت اس کا تدارک کر سکی اور نہ میاں نوازشریف کی موجودہ حکومت اس سلسلے میں مؤثر نظر آرہی ہے۔ ہمارے حکمران طبقے کی نااہلی کا حال یہ ہے کہ وہ دس سال میں اس امر کا اعتراف تک نہیں کر سکا ہے کہ ہم نے امریکہ کی جنگ کو گود لے کر غلطی کی اور اب ہم اس غلطی کے ازالے کے لیے امریکہ کی جنگ سے باہر آرہے ہیں۔ تجزیہ کیا جائے تو اس سلسلے میں ہمارے حکمران 21 ویں صدی میں قبائلی ذہنیت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ قبائلی ذہنیت یہ ہے کہ اگر غلطی سے جنگ شروع ہوگئی ہے تو قبیلے کی واہ واہ کے لیے جنگ کو جاری رکھا جائے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ جب سلالہ بیس پر حملہ ہوتا ہے اور امریکی پاکستان میں گھس کر اسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو ہماری فضائیہ کا دور دور تک نام و نشان نہیں ہوتا، لیکن جب طالبان سے مذاکرات ہورہے ہوتے ہیں تو پاک فضائیہ کا سربراہ قوم کو بتانا ضروری سمجھتا ہے کہ پاک فضائیہ وزیرستان پر حملوں کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

پاکستان میں طرزِ حکمرانی کے جتنے تجربات ہوئے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ جنرل ایوب نے ملک میں پہلا مارشل لا لگا کر یہ ظاہر کیا تھا کہ سول حکومت کا تجربہ ناکام ہوگیا ہے اور جو کام سول حکومتیں نہیں کرسکی ہیںوہ اب فوجی حکومت کرے گی۔ لیکن اپنے تمام فوجی جاہ و جلال کے باوجود صرف دس سال میں جنرل ایوب کی شخصیت کی قلعی اتر گئی اور وہ ایک ایسی فضا میں اقتدار سے رخصت ہوئے کہ ملک کئی طرح کے بحرانوں میں مبتلا تھا۔ جنرل ایوب کی جگہ جنرل یحییٰ نے لی اور اُن کے دور میں ملک دو ٹکڑے ہوگیا۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ فوجی حکمرانی کا تجربہ ناکام ہوگیا ہے، مگر اس کے باوجود جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویزمشرف نے ایک بار پھر فوجی حکمرانی کا تجربہ قوم پر مسلط کردیا، لیکن ان تجربوں کو بھی اچھے الفاظ سے یاد کرنے والا کوئی نہیں۔ ملک میں صدارتی اور پارلیمانی نظام کے تجربات بھی دوہرائے گئے ہیں اور ان دونوں نظاموں سے بھی قوم کے دکھوں کا مداوا نہیں ہوسکا۔ نظریات کے اعتبار سے بھی پاکستان میں طرح طرح کے تجربات ہوئے ہیں۔ جنرل ایوب امریکہ پرست تھے مگر سیکولر تھے، لیکن ان کا سیکولرازم ملک و قوم کے کسی کام نہ آیا البتہ اس نے ملک کی نظریاتی بنیادوں کو کھوکھلا ضرور کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو سوشلسٹ تھے مگر انہوں نے سوشلزم کے ساتھ اسلام لگا کر اسلام اور سوشلزم دونوں کے ساتھ زیادتی کی، اور ان کا یہ تجربہ بتاتا ہے کہ انہیں نہ اسلام عزیز تھا، نہ سوشلزم۔ انہیں صرف اپنا اقتدار عزیز تھا اور انہوں نے اسلامی سوشلزم کا نعرہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ایجاد کیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق نے ملک میں نظام مصطفی کا نعرہ لگایا۔ جنرل ضیاء الحق اپنی ذاتی زندگی میں مذہبی انسان تھے اور ان کے اقتدار سے ملک میں اسلامی خیالات بھی پروان چڑھے، مگر اسلام کو بحیثیت ایک نظام نقصان پہنچا، اس لیے کہ جنرل ضیاء الحق نے ملک میں نظام صلوٰۃ متعارف کرایا اور اسے مذاق بنا دیا۔ انہوں نے ملک میں اسلامی بینکاری شروع کی اور کچھ عرصے بعد قوم کو معلوم ہوا کہ اسلامی بینکاری کی آڑ میں سودی بینکاری ہی چل رہی ہے۔ ہمارے حکمران طبقے کی نااہلی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جنرل پرویزمشرف نے منتخب نمائندوں کے لیے بی اے کی ڈگری کی شرط رکھی تو ہمارے منتخب ایوان بی اے کی جعلی ڈگری رکھنے والوں سے بھر گئے۔

لیکن مسئلہ محض ہمارے حکمران طبقے کی نااہلی کا نہیں ہے۔ وفاقی وزیرخزانہ اسحق ڈار نے حال ہی میں ’’انکشاف‘‘ کیا ہے کہ پاکستان کے 200 ارب ڈالر سوئس بینکوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت واپس لائے گی۔ 200 ارب ڈالر اتنی بڑی رقم ہے کہ اس سے پاکستان کا تمام قرض اتر سکتا ہے اور پاکستان کے تمام ایسے مسائل حل ہوسکتے ہیں جن کے لیے سرمایہ درکار ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ رقم دو چار برسوں میں جمع نہیں ہوئی۔ چنانچہ اتنی بڑی رقم کی لوٹ مار کا مطلب اس کے سوا کیا ہے کہ پاکستان کا حکمران طبقہ ملک و قوم کو کئی دہائیوں سے لوٹ رہا ہے۔ مطلب یہ کہ پاکستان کے حکمران طبقے نے بدعنوانی کو اپنا ’’طرزِ حیات‘‘ بنایا ہوا ہے، یہاں تک کہ لوٹ مار کی روک تھام بھی ’’سیاست‘‘ بن کر رہ گئی ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ میاں نوازشریف تین بار اقتدار میں آچکے ہیں اور وہ لوٹی ہوئی رقم کا اعشاریہ ایک فیصد بھی واپس نہیں لا سکے ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے قومی وسائل کی لوٹ مار پر گفتگو کا باب بھی بند کیا ہوا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو بدعنوانی کے سلسلے میں میاں نوازشریف بھی ’’مجرم‘‘ بنے کھڑے ہیں۔ عمران خان احتساب کا نعرہ لگاتے ہوئے میدانِ سیاست میں آئے تھے مگر اب احتساب کا نعرہ ان کے حوالے سے ’’ماضی کی یادگار‘‘ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہمارا حکمران طبقہ نااہلی اور بدعنوانی کا براعظم بنا ہوا ہے تو اس کا علاج کیا ہے؟

بلاشبہ دنیا میں نظام بھی معاشروں میں خوبیاں اور خرابیاں پیدا کرتے ہیں، مگر پاکستان کا بنیادی مسئلہ نظام نہیں بلکہ نظام چلانے والے ہیں، اور نظام چلانے کے لیے دو چیزیں ناگزیر ہیں، ایک تقویٰ یا نیکی اور دوسرا علم۔ اسلامی تاریخ کے جس دور میں کمال نظر آتا ہے انہی دو خوبیوں کی وجہ سے نظر آتا ہے، اور جہاں زوال نظر آتا ہے وہ بھی انہی دو خوبیوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہے۔ ہمارے حکمران طبقے کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے اراکین کی اکثریت کو ان دونوں چیزوں کی ہوا بھی نہیں لگی۔ فوجی ہوں یا سول حکمران… تقوے اور علم سے دونوں عاری ہیں۔ پاکستان کے آئین میں دفعہ 62 اور 63 موجود ہیں جو منتخب اراکین کے لیے امین اور صادق ہونے کی شرط عائد کرتی ہیں، مگر ہمارے حکمران کیا ذرائع ابلاغ بھی آئین آئین تو بہت کرتے ہیں مگر انہیں آئین کی یہ دو دفعات نظر نہیں آتیں، اور آتی بھی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ بھلا امانت اور صداقت کا تعین کون کرے گا؟ لیکن یہ ایک خلطِ مبحث ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب کوئی معاشرہ اپنے مثالیوں یا Ideals کا تعین کرلیتا ہے تو وہ ان کے مطابق انسان بھی پیدا کر ہی لیتا ہے۔

شاہنواز فاروقی

No comments:

Powered by Blogger.