جاپان دنیا کے ان چند ترقی یافتہ ممالک میں سے ایک ہے جو تیسری دنیا کے ممالک میں بسنے والے افراد کے لئے انتہائی کشش رکھتا ہے، جس کی سالانہ فی کس آمدنی چالیس ہزار ڈالر سے زائد ہے جبکہ بہترین آب و ہوا، انسانی حقوق کی پاسداری، شریف النفس اور غیر ملکیوں سے محبت کرنے والے عوام ،جبکہ روزگار کے وافر ذرائع میسر ہونے کے سبب جاپان رہائش، ملازمت اور کاروبار کے لئے بہترین ملک ہے لیکن اتنی سب خصوصیات کے باوجود جاپان پہنچنا اور یہاں سیٹل ہونا ایک انتہائی مشکل أمر ہے تاہم اس کے باوجود ایک اندازے کے مطابق اس وقت جاپان میں بیس لاکھ غیر ملکی آباد ہیں، جو خوشحال زندگی گزار رہے ہیں تاہم اتنی بڑی تعداد میں غیر ملکیوں کی میزبانی کرنا اور ان کو وہ تمام وسائل فراہم کرنا جو ایک عام جاپانی کو میسر ہیں کے لئے جاپانی حکومت نے بہترین انتظامات کیے ہیں، ان انتظامات میں سب سے اہم غیر ملکی شہریوں کا ریکارڈ مرتب کرنا، ان کے ویزوں اور رہائش کے مسائل حل کرنا اور بہت بڑی تعداد میں غیر ملکی شہریوں کو مستقل اقامت کا ویزہ فراہم کرنا اور ہزاروں کی تعداد میں جاپانی شہریت کے خواہشمند غیر ملکیوں کو میرٹ پر جاپانی شہریت فراہم کرنے کے لئے جاپانی حکومت نے ایک وزارت قائم کر رکھی ہے جسے منسٹر آف جسٹس کہا جاتا ہے جس کے کنٹرول میں امیگریشن کا محکمہ بھی آتا ہے ، جاپانی حکومت غیر ملکیوں کی سہولتیں کو مدنظر رکھتے ہوئے امیگریشن کے نظام میں گاہے بگاہے تبدیلیاں بھی کرتی رہتی ہے۔

حال ہی میں جاپان میں کام کرنے والے غیر ملکی شہریوں کے ویزے اور ان کے حوالے سے تمام معلومات کو ایک مکمل ریکارڈ میں رکھنے کے لئے جاپانی حکومت نے امیگریشن قوانین میں کئی اہم تبدیلیاں بھی کی ہیں جن میں جاپان میں تین سال کے ویزے کی حتمی مدت میں اضافہ کر کے پانچ سال تک کر دیا گیا ہے جبکہ اب تک عارضی قیام کے ویزوں اور جاپان کا مستقل ویزہ رکھنے والوں کو ماضی میں ری انٹری پرمٹ کی ضرورت ہوتی تھی، تاہم نئے امیگریشن قوانین کے تحت اب ایک سال کی مدت تک جاپان سے باہر جانے والوں کو ری انٹری پرمٹ کی ضرورت نہیں رہی ہے، جبکہ تین سال اور پانچ سال کا ویزہ رکھنے والے افراد سمیت مستقل رہائش کا ویزہ رکھنے والے افراد کو اگر وہ چاہیں تو تین سال سے پانچ سال تک کی ری انٹری پرمٹ کی سہولت بھی فراہم کی جاسکے گی تاہم وہ لوگ جو تین ماہ سے کم مدت کیلئے سیاحتی مقاصد کے لئے جاپان آئے ہوں انہیں یہ سہولت میسر نہ ہو گی۔

جاپان کے امیگریشن نظام میں ایک اور اہم تبدیلی ماضی میں جاری ہونے والے ایلین کارڈ کو بھی اب تبدیل کر کے رہائشی کارڈ کا اجراء کیا گیا ہے۔ ماضی میں غیر ملکیوں کو فراہم کئے جانے والے ایلین رجسٹریشن کارڈ پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بھی کافی اعتراض اٹھائے گئے تھے جس میں حکومت جاپان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایلین کارڈ کا نام غیرملکیوں کو نسلی بنیاد پر کمتر ظاہر کرنے کے مترادف ہے جسے فوری طور پر ختم کیا جانا چاہئے لہٰذا جاپانی حکومت نے غیر ملکیوں کی آسانی کے لئے سابقہ ایلین کارڈ کا نظام جس کے نام سے انسان عجیب سا محسوس کرتا تھا اسے ختم کر کے رہائشی کارڈ کا اجراء شروع کر دیا ہے جو درمیانی اور طویل مدت کے رہائشیوں کے لئے مخصوص ہوں گے جس پر جاپان آمد کی تاریخ ، رہائشی درجہ، تاریخ تجدید ، رہائش کی مدت یعنی ویزے کا اندراج ، نام، تاریخ پیدائش، شہریت، پیشہ اور پتہ وغیرہ درج ہو گا۔ رہائشی کارڈ کو جعلسازی سے محفوظ رکھنے کے لئے اس میں IC چپ نسب کی جائے گی جس میں کارڈ پر درج تمام معلومات یا اندراج کے کچھ حصے مخفی طور پر ریکارڈ کئے جائیں گے۔ اس کارڈ کے لئے خصوصی تصویر درکار ہو گی، جس میں چہرہ تھوڑی تک واضح نظر آئے ، بغیر ٹوپی اور بغیر کسی پس منظر اور تین ماہ پرانی تصویر ہی قبول کی جائے گی ۔

جاپان میں مستقل رہائش کے حامل سولہ سال سے زائد عمر کے لوگوں کے لئے مذکورہ کارڈ سات سال تک کارآمد ہو گا جبکہ سولہ سال سے کم عمر لوگوں کے لئے ان کی سولہویں سالگرہ تک کارآمد ہو گا۔

اب جب کہ نئے رہائشی کارڈ تقریباً تمام غیر ملکی شہریوں کے لئے جاری ہو چکے ہیں لہٰذا ماضی میں جاری کئے جانے والے ایلین کارڈ منسوخ کئے جا چکے ہیں ، نئے کارڈ کے اجراء کے لئے مقامی امیگریشن دفاتر سے رجوع کیا جا سکے گا تاہم نئے آنے والے وہ غیر ملکی جو درمیانی وطویل مدت کے ویزے کے زمرے میں آتے ہوں انہیں ایئرپورٹ پر ہی ان کے پاسپورٹ پر لگائی جانے والی آمد کی مہر لگاتے وقت ہی رہائشی کارڈ جاری کر دیا جائے گا ، یہ سہولتیں شروع میں صرف ٹوکیو ،ناریتا ، ٹوکیو ہانیدا ،چوب اور کھانسائی ہوائی اڈوں تک محدود ہوں گی۔ مذکورہ بالا ہوائی اڈوں کے علاوہ پہنچنے والے غیر ملکی اپنے پاسپورٹ پر ثبت کی گئی آمد کی مہر اپنے رہائشی شہر کے سٹی آفس میں دکھا کر رہائشی کارڈ حاصل کر سکیں گے۔

جاپان میں نافذ کئے جانے والے نئے نظام کے تحت جاپان میں رہائشی ویزے کی اقسام اور مدت میں تبدیلی کی جائے گی۔ موجود رہائشی ویزہ جس میں اعلی مہارت ، انسانیت کی بنیادوں پر، بین الاقوامی کاروبار اور ملازمت کے ویزے شامل ہیں (جن میں ثقافتی، سیاحتی فروغ اور تکینکی مہارت کی تربیت لینے والے اس زمرے میں نہیں آتے) کے لئے موجودہ مدت کم سے کم ایک سال اور زیادہ سے زیادہ تین سال ہے جسے نئے نظام کے تحت کم سے کم تین ماہ اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال کر دیا گیا ہے جبکہ غیر ملکی طلباء و طالبات، جاپانی شہریوں اور غیر ملکی مستقل رہائشی ویزہ رکھنے والوں کے بیوی بچوں کیلئے غیر ملکی طلباء وطالبات کیلئے پانچ قسم کی مدتیں ہیں(چھ ماہ، ایک سال، ایک سال تین ماہ، دو سال، اور دوسال تین ماہ) جس میں کم سے کم مدت چھ ماہ ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ مدت دوسال تین ماہ ہے۔ نئے نظام کے تحت مدت کی اس اقسام میں مزید پانچ مدتوں کا اضافہ کیا جائے گا (تین ماہ، تین سال ، تین سال تین ماہ، چارسال اور چار سال تین ماہ)جس میں کم سے کم مدت تین ماہ اور زیادہ سے زیادہ مدت چار سال تین ماہ کر دی جائے گی لہٰذا نئے نظام کے تحت غیر ملکی طلبہ کیلئے دس قسم کی مدتیں نافذالعمل ہون گی جبکہ ویزے کی تیسری قسم کے زمرے میں آنے والے وہ لوگ ہیں جو جاپانی شہریوں اور غیر ملکی مستقل رہائشی ویزہ رکھنے والوں کے بچے ، بیوی یا شوہر کی حیثیت رکھتے ہیں، ایسے لوگوں کے لئے موجودہ ویزے کی کم سے کم مدت ایک سال اور تین سال ہے جبکہ نئے نظام کے بعد ان کے ویزے کی مدت کم سے کم چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال کر دی جائے گی ، اس نئے نظام کے اطلاق کے بعد کسی بھی جاپانی شہری یا جاپان کے کسی مستقل رہائش کے حامل غیر ملکی کی بیوی یا شوہر خاص وجوہات کے بغیر اگر چھ ماہ سے زائد کا عرصہ ایک ساتھ رہتے ہوئے نہ پائے گئے تو ان کا ویزہ منسوخ کیا جاسکتا ہے ،جس سے جاپان میں ویزے کے حصول کے لئے پیپر میرج کے رحجان کی بھی حوصلہ شکنی ہو سکے گی۔


بشکریہ روزنامہ "جنگ

Japan's new immigration law