Header Ads

Breaking News
recent

ملائیشیا کا لاپتہ طیارہ آخر گیا کہاں؟

ٹیکنالوجی کے اس جدید ترین دور میں جہاں دنیا کو گلوبل ولیج سے تشبیہہ دی جاتی ہے وہاں ملائیشیا کے لاپتہ ہونے والے طیارے کا 10 دن گزر جانے کے باوجود کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ اطلاعات کے مطابق ملائیشین حکام نے طیارے کی تلاش کے لیے پاکستان سمیت 25 ممالک سے رابطہ کرکے ان سے ریڈار اور سیٹلائٹ پر موجود مواد شیئر کرنے کی درخواست کی ہے۔ ملائیشیا کے وزیر ٹرانسپورٹ حسام الدین کا کہنا تھا کہ ایم ایچ 370 کی تلاش کے لیے 25 ممالک سے رابطہ کیاگیا ہے جن میں پاکستان، قازقستان، ازبکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکا، چین اور فرانس سے مزید سیٹلائٹ ڈیٹا فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ ادھر ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم نے کہا ہے کہ ملائیشیا نے صرف پاکستان سے نہیں دیگر ممالک سے بھی ریڈار کی معلومات لینے کی درخواست کی ہے، طیارے کے حوالے سے پاکستانی ریڈار پر کوئی مواد(ڈیٹا) موجود نہیں، اگر ہمارے پاس اس حوالے سے کوئی اطلاع آئے گی تو ضرور شیئر کریں گے۔ وقت گزرنے کے ساتھ طیارے کے ساتھ ہونے والے ممکنہ حادثے کی افواہیں اور برمودا ٹرائی اینگل جیسی افسانوی کہانیاں جو مختلف پلیٹ فارم پر گردشیں کررہی تھیں اب دم توڑتی جارہی ہیں اور یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ بعض عناصر کی جانب سے طیارے کو اغوا کرلیا گیا ہے، تاہم اس سلسلے میں بھی تحفظات عیاں ہیں اور ممکنہ اغوا کے ہونے یا نہ ہونے سے متعلق بحث جاری ہے۔ ادھر طیارے کی تلاش کے لیے آپریشن بھی تاحال جاری ہے اور طیارے کا مواصلاتی نظام دانستہ بند کیے جانے کی تحقیقات بھی شروع کردی گئی ہے۔

دوسری جانب ملائیشین طیارے کے دونوں پائلٹوں کے گھروں کی تلاشی لی گئی۔ ایک پائلٹ ظاہری احمد شاہ کے گھر سے ملنے والے سیمیلٹر کا معائنہ بھی کیا گیا، تاہم وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ اس تلاش و معائنے سے کوئی نتیجہ اخذ نہ کیا جائے۔ جاپان اور بھارت نے اپنے علاقوں میں طیارے کی تلاش ختم کردی ہے۔ بھارتی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ ملائیشیا کی حکومت کی جانب سے تلاش کے لیے نئے علاقے کی معلومات سامنے آنے کے بعد یہ کارروائیاں ایک بار پھر شروع کردی جائیںگی، جب کہ چین نے لاپتہ مسافر طیارے کے معاملے پر ملائیشیا کے کردار کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ملائیشین حکومت نے طیارے کی تلاش کے لیے قیمتی وقت اور وسائل کو ضایع کردیا۔ ملائیشین وزیراعظم نجیب رزاق کی پریس کانفرنس کے ردعمل میں چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے کہا کہ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اس قدر اہم معلومات اتنی دیر سے جاری کی گئیں، بیان میں کہا گیا ہے کہ ان معلومات کی عدم موجودگی کی وجہ سے شکوک و شبہات اور افواہوں میں اضافہ ہوا اور ان لوگوں کا غم اور بڑھ گیا جن کے اہلخانہ اس سانحے میں متاثر ہوئے ہیں۔ دوسری طرف برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ القاعدہ کے برطانوی دہشت گرد کے مطابق طیارے کو اغوا کیا گیا۔ نائن الیون کی طرز پر کوالالمپور کے پیٹروناز ٹاورز کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طیارے کے ممکنہ اغوا کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تاہم جہاز کا سراغ لگنے تک وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے۔ 10 روز گزر جانے کے باوجود کسی حتمی اطلاع کا نہ ملنا طیارہ مسافروں کے لواحقین کے لیے بھی کرب کا باعث بن رہا ہے۔ ممکنہ حادثے یا اغوا کو زیر نظر رکھتے ہوئے ملائیشین حکومت کو طیارے کی تلاش پر مختلف جہتوں میں پیش رفت کرنی چاہیے اور دیگر ممالک کو بھی انسانی ہمدردی کے نقطہ نظر سے ملائیشیا کا ساتھ دینا چاہیے۔بتایا جاتا ہے کہ فضائی تاریخ میں اب تک 160 مسافر طیارے پراسرار طور پر دوران پرواز لاپتا ہوچکے ہیں۔

Search zone for missing Malaysia Airlines flight

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.