Sunday, December 8, 2013

جب منڈیلا نے کلنٹن کو مشکل میں ڈال دیا۔۔


امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا کی وفات کے بعد بی بی سی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انھیں اپنے ہی انداز میں یاد کیا اور کچھ ایسے واقعات بیان کیے جب منڈیلا نے انہیں مشکل میں ڈال دیا تھا۔

صدر کلنٹن نے منڈیلا کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سیاسی لیڈر ہونے اور صدارت چھوڑنے کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا مگر ’وہ درحقیقت ایک بہت اچھے صدر تھے اور اپنے عوام اور ملک کے وفادار نمائندے تھے۔ اگر اس بات کو دیکھا جائے کہ وہ کتنا عرصہ جیل میں رہے اور کس قدر جلد انہوں نے حالات پر قابو پایا اور اپنے اردگرد لوگوں کو کام کرتے رہنے دیا، حکومت میں کام کرتے رہنے دیا جس دوران وہ اپنے لوگوں کو حکومت میں شامل کرتے رہے‘۔

 صدر کلنٹن نے مزید کہا کہ ’انہوں نے بطور صدر بہت اچھا کام کیا اور مجھے ان کے ساتھ کام کر کے بہت اچھا لگا اور یہ سب کام کے حوالے سے ہوتا تھا۔ کام کے بعد ہم پھر سے دوست بن جاتے تھے بےشک ہم ایک دوسرے سے پندرہ منٹ تک بات کرتے رہے ہوں۔ مگر کام سب سے اولین ترجیح ہوتا تھا اس کے بعد ذاتی بات چیت اور کام ہوتے تھے۔‘

 صدر کلنٹن نے کہا کہ ’میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔ وہ میرے ساتھ بہت بے تکلف تھے عام روش سے ہٹ کر۔‘

صدر کلنٹن نے کہا کہ ’میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔ وہ میرے ساتھ بہت بے تکلف تھے عام روش سے ہٹ کر۔ اگرچہ ہم ایک دوسرے سے بحث مباحثہ کرتے تھے اور ایک دو بار تو ہماری بہت تندوتیز بحث ہوئی۔ میں اکثر ان سے کیوبا کے بارے میں شکوہ کرتا تھا۔‘

ایک دلچسپ واقعے کو یاد کرتے ہوئے صدر کنٹن نے بتایا کہ ’منڈیلا بہت زیادہ وفادار تھے خاص طور پر ان ممالک اور حکومتوں کے ساتھ جنہوں نے ان کے اسیری کے دور میں ان کی حمایت اور مدد کی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ ایک رات ہم ان کے مہمان تھے، تقریباً سات سال قبل ان کی سالگرہ کے دنوں میں اور ہم ان کی فاؤنڈیشن کے لیے ایک نیلامی پر گئے۔ میں اپنے پورے امریکی وفد کو ساتھ لے کر گیا۔ ہم نے نیلامی میں حصہ لیا اور ان کی فاؤنڈیشن کے لیے بہت سی رقم جمع کی۔ اس نیلامی میں بہت سی چیزیں نیلامی کے لیے رکھی تھیں جن میں ایک بہت قیمتی رم کی بوتل تھی جو کیوبا کے رہنما فیدل کاسترو نے منڈیلا کو تحفتاً دی تھی۔ مجھے بہت سے لوگوں نے کہا کہ منڈیلا کی خاطر آپ کو اسے خریدنا چاہیے۔ تو میں نے خرید تو لی مگر اسے امریکہ واپسی سے پہلے ہی کسی کو دے دیا کیونکہ میں کیوبا پر امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی نہیں کرنا چاہتا تھا‘۔

صدر کلنٹن نے مزید بتایا کہ میں نے ایک بار ان سے پوچھا کہ آپ نے مفاہمت کے عمل میں کیسے حصہ لیا دیکھیں ان لوگوں نے آپ سے کیا سلوک کیا آپ نفرت تو کرتے ہوں گے ان سے؟

صدر کلنٹن نے کہا کہ منڈیلا ’در حقیقت ایک بہت اچھے صدر تھے اور اپنے عوام اور ملک کے وفادار نمائندے تھے‘

منڈیلا نے جواب دیا ’میں جب جیل گیا تو جوان اور قوی تھا اور گیارہ سال تک میں اپنی نفرت پر پلتا رہا۔ ایک دن جب میں چٹانیں توڑ رہا تھا تو میں نے اس سب کے بارے میں سوچا جو انہوں نے مجھ سے کیا اور میرے سے چھینا۔ اور مجھے ذہنی اور جسمانی طور پر اذیتیں دیں۔ انہوں نے مجھ سے میرے بچوں کو جوان ہوتے دیکھنے کا حق چھین لیا اور میری شادی تباہ کی۔ مجھے احساس ہوا کہ وہ مجھ سے سب کچھ چھین سکتے ہیں سوائے میرے ذہن اور میرے دل کے۔ میں نے یہ دونوں چیزیں نہ دینے کا فیصلہ کیا۔‘

مشہور مورخ اور مصنف ڈاکٹر مبارک علی نے نیلسن منڈیلا اور صدر کلنٹن کے حوالے سے ایک تاریخی واقعہ بیان کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجھے یاد ہے کہ جب بل کلنٹن جنوبی افریقہ گئے ہوئے تھے کہ اور انہوں نے اپنی تقریر میں جب لیبیا کے اوپر تنقید کی تو لائیو نشر ہونے والی اس تقریر میں منڈیلا نے امریکی صدر کو روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ رک جائیں اور لیبیا پر تنقید نہ کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہماری اس وقت مدد کی تھی جب ہم انتہائی مشکلات کا شکار تھے۔‘

ڈاکٹر مبارک علی کے مطابق ان نزدیک ایسا کرنا بہت اخلاقی جرات کا کام ہے اور یہ منڈیلا جیسی شحصیت ہی کر سکتی تھی جو دنیا کے طاقتور ترین شخص کو روک سکیں اور ان لوگوں کے احسان کو یاد رکھیں انہوں نے برے وقت میں ان کی مدد کی۔