Tuesday, December 31, 2013

’میں ڈرون اڑایا کرتی تھی‘

ڈرون

پروگرام پر کام کرنے والی امریکی فضائیہ کی ایک اہلکار ہیدر لائن بو کو اس پروگرام کے اثرات کے بارے میں کچھ خدشات ہیں۔ ان خدشات کا اظہار انھوں نے حال ہی میں برطانوی اخبار دا گارڈین میں ایک مضمون لکھ کر کیا۔ مندرجہ ذیل اس مضمون کا ترجمہ ہم اپنے قارئین کے لیے پیش کر رہے ہیں۔

جنگی ٹیکنالوجی کے حوالے سے گذشتہ دہائی کی سب سے بڑی جدت شاید ڈرون طیارے تھے

میں جب بھی سیاستدانوں کو پریڈیٹر یا ریپر پروگرام جیسے ڈرون پروگراموں کا دفاع کرتے ہوئے سنتی ہوں، تو میرا دل چاہتا ہے کہ میں ان سے چند سوالات پوچھوں۔ سب سے پہلے میں ان سے پوچھوں گی کہ ’آپ نے ایک ہیل فائر میزائل سے کتنی خواتین اور ان کے بچوں کو زندہ جلتے ہوئے دیکھا ہے؟‘ پھر پوچھوں گی کہ ’آپ نے کتنے مردوں کو ٹانگیں کٹنے کے بعد لہولہان حالت میں ایک کھیت کو اپنے ہاتھوں پر چلتے ہوئے پار کرتے دیکھا ہے؟‘ بلکہ شاید سیدھا یہی پوچھ لوں گی کہ ’آپ نے کتنے فوجیوں کو افغانستان میں سڑک کے کنارے مرتے ہوئے دیکھا ہے جب ہمارے انتہائی درست ڈرون نے ان کے راستے کی خود ساختہ بارودی سرنگوں کا پتہ چلانے میں ناکام رہے؟‘

ان سیاستدانوں میں سے چند ہی کو کچھ اندازہ بھی ہے کہ اس پروگرام میں حقیقتاً ہوتا کیا ہے۔ دوسری جانب میں نے اپنی آنکھوں سے بہت ایسے بہت سے بھیانک منظر دیکھے ہیں۔

اسی بارے میں 

میں نے اپنی آنکھوں سے کچھ ایسے فوجیوں کو افغانستان میں سڑک کے کنارے مرتے دیکھا ہے جن کے میں نام تک جانتی تھی۔ میں نے درجنوں افغان مردوں کو خالی کھیتوں میں مرتے دیکھا ہے جب ان کے گھر والے قریب ہی ان کے گھروں میں ان کی واپسی کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔

امریکی اور برطانوی فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک ماہرانہ پروگرام ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ پھر بھی وہ اس کے بارے میں غلط معلومات دیتے ہیں۔ عام شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں اعداد و شمار کو یا تو پوشیدہ رکھا جاتا ہے یا پھر یہ بہت تھوڑی بتائی جاتی ہیں اور ڈرون طیاروں کی صلاحیات پر رپورٹوں کو گھمایا پھرایا جاتا ہے۔ ہمارے دفاعی نمائندے چاہے ہمیں جو بھی بتائیں، حقیقت یہ ہے کہ ایسے واقعات نہ تو کبھی کبھار کی کہانی ہے اور نہ ہی عام شہریوں کی ہلاکت کی شرح میں کوئی فرق پڑا ہے۔

پاکستان میں بھی ڈرون حملوں کی مخالفت کی جاتی ہے

جو بات عوام کو سمجھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ بہترین روشنی اور تھوڑے بادلوں والے دن بھی ڈرون سے ملنے والی ویڈیو اتنی صاف نہیں ہوتی کہ آپ یہ معلوم کر سکیں کہ اس کے کیمروں سے نظر آنے والا شخص ہتھیار اٹھائے ہوئے ہے یا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انٹیلی جنس کے بہترین تجزیہ کاروں کے لیے بھی بہت مشکل ہوتا ہے کہ وہ بتا سکیں کہ ہدف کے ہاتھوں میں ہتھیار ہے یا نہیں۔ ویڈیو اس قدر ’دانے دار‘ ہوتی ہے کہ ہمیں اکثر یہی سمجھ نہیں آتی تھی کہ کسی کے ہاتھ میں ہتھیار ہے کہ بیلچہ؟

میں اور میرے ساتھی ڈرون آپریٹر یہی سوچتے رہ جاتے تھے کہ ’ہم درست لوگوں کو مار بھی رہے ہیں یا نہیں، کہیں ہم غلط لوگوں کو خطرے میں تو نہیں ڈال رہے، کہیں ہم بری تصویر یا غلط زاویے سے ویڈیو کی وجہ سے کسی عام شہری کی زندگی تباہ تو نہیں کر رہے۔‘

"آپ نے ایک ہیل فائر میزائل سے کتنی خواتین اور ان کے بچوں کو زندہ جلتے ہوئے دیکھا ہے؟‘ پھر پوچھوں گی کہ ’آپ نے کتنے مردوں کو ٹانگیں کٹنے کے بعد لہولہان حالت میں ایک کھیت کو اپنے ہاتھوں پر چلتے ہوئے پار کرتے دیکھا ہے؟‘ "

ہیدر لائنباغ ڈرون پروگرام کے حامی سیاستدانوں سے یہ سوال کرنا چاہتی ہیں

عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ان ڈرون طیاروں کو انسان چلا رہے ہیں اور انسان ہی ان سے ملنے والی معلومات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ مجھے یہ معلوم ہے کیونکہ میں ان لوگوں میں سے ایک تھی۔ دنیا میں کوئی بھی چیز آپ کو کسی میدانِ جنگ کے اوپر روانہ ڈرون طیاروں سے نگرانی کرتے رہنے کے لیے تیار نہیں کر سکتی۔ ان طیاروں کے حامی کہتے ہیں کہ جو فوجی ڈرون طیارے چلاتے ہیں اس کا ان پر اثر نہیں پڑتا کیونکہ وہ کبھی بھی براہِ راست خطرے سے دوچار نہیں ہوتے۔

یہ بات ٹھیک ہے کہ میں کبھی افغانستان نہیں گئی، مگر میں نے اس جنگ کو تفصیلاً کئی کئی دن تک اپنی سکرین پر دیکھا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ جب آپ کسی کو مرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو آپ کو کیا محسوس ہوتا ہے۔ لفظ بھیانک بھی اس کو پوری طرح سے ادا نہیں کر سکتا۔ اور جب آپ اسے بار بار دیکھتے ہیں جیسے کوئی چھوٹی سی ویڈیو آپ کے ذہن میں ہی کھب کر رہ گئی ہو اور بار بار چلتی جائے تو وہ ایسا نفسیاتی صدمہ پہنچاتی ہے جو میری دعا ہے کہ کسی کو نہ پہنچے۔

ڈرون چلانے والے فوجی اپنے کام کی خوفناک یادوں کے متاثرین ہی نہیں بلکہ انھیں ہمیشہ یہ شک بھی ستاتا رہتا ہے کہ ان کے نشان زد کیے گئے افراد سچ میں دہشت گرد تھے بھی یا نہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں ڈرون طیارے حفاظت کے لیے نہیں بلکہ ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہورہے ہیں: ہیدر لائنباغ

ظاہر ہے کہ ہمیں تربیت دی جاتی ہے کہ ہم ایسے جذبات کو محسوس نہ کریں اور ہم ان جذبات کا مقابلہ کرتے ہیں۔ کچھ لوگ فوج کی جانب سے فراہم کیے گئے ذہنی امراض کے ہسپتالوں میں جا کر مدد حاصل کرتے ہیں، لیکن ہم اپنے کام کی خفیہ نوعیت کے باعث بہت کم لوگوں سے اس سلسلے میں بات کر سکتے ہیں۔

مجھے یہ دلچسپ لگتا ہے کہ اس شعبے میں کام کرنے والوں کے بارے میں خودکشی کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے جاتے اور نہ ہی یہ بتایا جاتا ہے کہ ڈرون طیارے اڑانے والوں میں سے کتنے لوگوں کو بےخوابی، اضطراب اور افسردگی کے علاج کے لیے بہت زیادہ ادویات دی جاتی ہیں۔

حال ہی میں گارڈین نے برطانوی سیکریٹری آف سٹیٹ برائے دفاع کی ایک کمنٹری شائع کی۔ میری خواہش ہے کہ میں ان سے اپنے ان دو دوستوں کے بارے میں پوچھ سکوں جنہوں نے فوجی ملازمت چھوٹنے کے ایک سال کے اندر ہی خودکشی کر لی۔

مشرقِ وسطیٰ میں ڈرون طیارے حفاظت کے لیے نہیں بلکہ ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں اور جب تک ہمارے عوام اس سے بے خبر رہیں گے، انسانی زندگی کی توقیر کو لاحق یہ خطرہ برقرار رہے گا۔

Enhanced by Zemanta