Saturday, December 28, 2013

پاکستان میں کلچر کی سیاست......... شاہنواز فاروقی

 
   


پاکستان اسلام کے نام پر تخلیق ہوا تھا، اس لیے یہاں صرف اسلام کے نام پر سیاست ہونی چاہیے تھی۔ لیکن یہاں فوج کے نام پر سیاست ہوئی، سیکولرازم کے نام پر سیاست ہوئی، سوشلزم کے نام پر سیاست ہوئی، صوبے کے نام پر سیاست ہوئی، زبان کے نام پر سیاست ہوئی… یہاں تک کہ اس چیز کے نام پر سیاست ہوئی جسے عرفِ عام میں کلچر کہا جاتا ہے اور جس کو سب سے زیادہ غیر سیاسی سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں کلچر کے نام پر سیاست کی پہلی اور سب سے بڑی مثال سابق مشرقی پاکستان ہے جہاں بنگالی زبان اور اس کے امتیاز کو کلچر کی سب سے بڑی علامت بنا کر پیش کیا گیا۔ کہا گیا کہ بنگالیوں کو اپنی زبان سے بڑی محبت ہے، اس لیے کہ بنگالی ٹیگور اور نذرالاسلام کی زبان ہے۔ اس سلسلے میں بنگالیوں کا تعصب اتنا بڑھا ہوا تھا کہ 1948ء میں جب قائداعظم نے کہا کہ پاکستان کی سرکاری زبان صرف اور صرف اردو ہوگی تو بنگالیوں کے ایک چھوٹے سے طبقے نے ہی اس کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں اس بات تک پر غور نہ کیا کہ قائداعظم کی اپنی مادری زبان گجراتی ہے۔ وہ اردو رسم الخط میں اردو پڑھ سکتے ہیں نہ لکھ سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی ساری تعلیم و تربیت انگریزی کی فضا میں ہوئی ہے۔

قائداعظم اس تعلیم و تربیت کے باعث انگریزی سے اتنے مانوس تھے کہ وہ اپنی اہلیہ تک سے انگریزی میں بات کرتے تھے۔ ان حقائق کے باوجود قائداعظم کہہ رہے تھے کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہوگی۔ قائداعظم کی اردو سے یہ محبت شخصی معاملہ نہیں تھی۔ قائداعظم کو تین حقائق کا ادراک تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ عربی اور فارسی کے بعد مذہب اور ادب کا سب سے بڑا سرمایہ اردو کے پاس ہے۔

انہیں معلوم تھا کہ اردو برصغیر میں رابطے کی واحد زبان ہے۔ انہیں احساس تھا کہ اردو نے دو قومی نظریے کے بعد پاکستان کی تخلیق میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مگر بنگالیوں نے ان میں سے کسی بات کا ادراک نہ کیا۔ وہ بنگالی بنگالی کرتے رہے اور ان کی زبان کی جائز محبت زبان کی پوجا میں تبدیل ہوگئی۔ مگر جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا تو منظرنامہ یکسر تبدیل ہوگیا۔ آج بنگلہ دیش کی سرکاری زبان بنگالی نہیں انگریزی ہے اور بنگلہ دیش کے کروڑوں شہری بھارتی فلموںکے حوالے سے اردو کو گلے لگائے ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ کیسی کلچر پرستی ہے جو ’’بانیٔ ملک‘‘ کی بات نہیں سنتی مگر ’’مجبوری‘‘ اور ’’فلموں‘‘ کی بات سنتی ہے!

پاکستان میں کلچر کی سیاست کی ایک مثال الطاف حسین ہیں۔ الطاف حسین کی اصل شکایت معاشی تھی، مگر ان کی مفاد پرستی کی سیاست نے معاشی شکایت کو کلچر کی سیاست میں ڈھال دیا۔ اردو پورے برصغیر کی زبان تھی مگر الطاف حسین اسے صرف مہاجروں کی زبان بناکر کھڑے ہوگئے۔ کلچر کی سیاست نے انہیں کرتا پاجامہ پہنا کر کھڑا کردیا۔ مگر الطاف حسین کی اردو پرستی بھی جھوٹی تھی اور ان کا کرتا پاجامہ بھی ایک دھوکا تھا۔ الطاف حسین کا اصل مسئلہ ان کی اپنی شخصیت تھی۔ چنانچہ الطاف حسین کی سیاست سے پہلے مہاجر سمندر کی علامت تھے، الطاف حسین کی سیاست نے انہیں کنویں کی علامت بنادیا۔ اس علامت سے بوری بند لاشوں اور بھتہ خوری کا کلچر برآمد ہوا۔ اس سے ’’پُرتشدد ہڑتالوں کی ثقافت‘‘ نمودار ہوئی۔ اس سے ’’پاکستان بیزاری کی تہذیب‘‘ نے جنم لیا۔ اس سے الطاف حسین کی نام نہاد ’’جلاوطنی کے تمدن‘‘ نے سر ابھارا۔ اس سے ’’ٹیلی فونک خطاب کی ’’موسیقی‘‘ پیدا ہوئی۔ اس سے دوسری ثقافتوں کی نفرت کے آرٹ نے جنم لیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا کلچر کی سیاست اسی کا نام ہے؟

پاکستان میں کلچر کی سیاست کی تازہ ترین علامت بلاول بھٹو زرداری ہیں۔ انہوں نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو “Banistan” قرار دیا اور فرمایا کہ یہاں شادی کے عشائیوں سے لے کر یوٹیوب تک ہر چیز پر پابندی یا Ban لگا ہوا ہے۔ چیزوں کا Ban ہونا اگر بلاول کے نزدیک اتنی ہی بری بات ہے تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ Banistan کا آغاز اُن کے نانا ذوالفقار علی بھٹو سے ہوا تھا۔ انہوں نے شراب کو Ban کیا۔ انہوں نے قادیانیوں کے خود کو مسلمان کہنے پر Ban لگایا۔ انہوں نے اتوار کی تعطیل پر Ban لگا کر جمعہ کی تعطیل بحال کی۔ ان کے سیاسی مفادات کا تقاضا ہوتا تو وہ شاید پتنگ اڑانے اور چائے پینے پر بھی Ban لگا دیتے۔ لیکن بلاول بھٹو کی تقریر کی اصل بات Banistan کا تصور نہیں۔ ان کی تقریر کی اصل بات کلچر کی سیاست ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ٹیلی وژن کے ایک اینکر نے آصف علی زرداری کے لباس کے ’’نمائشی پہلو‘‘ پر اعتراض کیا تھا تو آصف علی زرداری کی ثقافتی رگ پھڑک اٹھی تھی اور انہوں نے صوبہ سندھ میں سندھی ٹوپی کا دن منانے کا اعلان کیا تھا۔ بلاول بھٹو نے 15 دسمبر 2013ء کو کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنے والد کی روایت کو آگے بڑھایا اور اعلان کیا کہ فروری 2014ء کے پہلے دو ہفتوں میں سندھ میں سندھ کلچرل فیسٹول منایا جائے گا۔ اس موقع پر بلاول بھٹو نے سندھ کی ثقافت سے جس ’’تعلق‘‘ کا مظاہرہ کیا وہ ذرائع ابلاغ کی زینت بن چکا ہے۔ بلاول بھٹو جب سندھ کے کلچر سے وابستگی کا اعلان کررہے تھے تو پینٹ شرٹ زیب تن کی ہوئی تھی۔ ان کی شرٹ پر ’’سپرمین‘‘ کی علامت بنی ہوئی تھی اور بلاول بھٹو انگریزی میں تقریر فرما رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ سندھ کے کلچر کی علامت شلوار قیمص، ٹوپی اور اجرک ہے یا پینٹ شرٹ؟ سندھ کے ہیرو شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سچل سرمست ہیں یا سپر مین؟ اور سندھ کی زبان سندھی ہے یا انگریزی؟ ہمیں بلاول بھٹو کے پینٹ شرٹ پہننے، سپر مین کی علامت کو سینے سے لگانے اور انگریزی بولنے پر اعتراض نہیں، لیکن سندھی کلچر سندھی کلچرکی رٹ لگانے والے کو کم از کم سندھ کے کلچر سے اتنی وابستگی کا مظاہرہ تو کرنا ہی چاہیے تھا کہ وہ سندھی کلچر کے حوالے سے برپا ہونے والی تقریب میں اپنی زبان اور لباس سے ’’سندھی‘‘ نظر آتے۔ لیکن بلاول بھٹو کا مسئلہ سندھی کلچر تھوڑی ہے۔ ان کا مسئلہ تو سندھی کلچر کے نام پر سیاست ہے۔

اس کا ایک ثبوت تقریب میں کی گئی بلاول بھٹو کی تقریر ہے۔ انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تاریخ یونانیوں اور رومیوں کی طرح باثروت ہے۔ ہم دریائے سندھ کی قابلِ فخر تہذیب کے امین ہیں۔ ہم اپنی ثقافت کو محفوظ کرنا اور فروغ دینا چاہتے ہیں تا کہ دنیا کے سامنے ہماری اصل شناخت واضح ہو، نہ کہ تاریخ کی وہ درآمد شدہ اور خیالی داستان جو ہمیں اسکولوں میں پڑھائی جاتی ہے۔ غور کیا جائے تو بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں سندھ کے اسلامی ثقافتی ورثے اور تحریکِ پاکستان سے متعلق اس کے کردار کی دھجیاں اڑا کر اسے دریائے سندھ میں بہا دیا ہے۔ سندھ کی ثقافتی تاریخ کے چار حصے ہیں: سندھ موئن جودڑو کی تہذیب کا مرکز ہے۔ سندھ راجا داہر کی سرزمین رہا ہے۔ لیکن سندھ باب الاسلام ہے اور سندھ تحریک پاکستان کا ایک اہم مرکز ہے۔ اِس وقت سندھ کے اسکولوں میں باب الاسلام اور تحریکِ پاکستان کی تاریخ پڑھائی جارہی ہے۔ تو کیا بلاول بھٹو کے نزدیک یہی تاریخ درآمد شدہ، Fictions یا خیالی ہے؟ اگر ایسا ہے تو بلاول بھٹو کھل کر اعلان کریں کہ وہ موئن جودڑو اور راجا داہر کی تہذیب کے امین ہیں۔ باب الاسلام اور تحریک ِپاکستان کی تاریخ کے امین نہیں ہیں۔ خالص ثقافتی نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو بلاول بھٹو کا بیان ہولناک ہے۔ کلچر ایک کُل یا whole ہے، اور جب کوئی کسی خطے کے کلچر کو ’’اپنا‘‘ کہتا ہے تو وہ اس کے کُل یا Whole کو اپنا کہتا ہے۔ اس اعتبار سے بلاول بھٹو کو کہنا چاہیے تھا کہ ہم ایک جانب موئن جوڈرو کی تہذیب کے امین ہیں اور دوسری جانب باب الاسلام کی تاریخ کے امین ہیں اور تیسری جانب ہم تحریکِ پاکستان اور قیام پاکستان کے بعد پیدا ہونے والے ثقافتی تجربے کے امین ہیں۔ مگرکلچر پر گفتگو کرتے ہوئے انہیں صرف موئن جو دڑو یاد آیا اور وہ باب الاسلام اور قیام پاکستان کے بعد کی ثقافت کو بھول گئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہی ان کی ’’ثقافتی ایمانداری‘‘ ہے؟ کتنی عجیب بات ہے کہ موئن جو دڑو کی جو تہذیب سندھ کا مُردہ ماضی ہے وہ تو بلاول بھٹو کا ثقافتی ورثہ ہے، اور باب الاسلام کی جو تاریخ سندھ کا زندہ حال ہے وہ بلاول بھٹو کی تقریر میں جگہ پانے میں ناکام ہے، بلکہ وہ اسے ’’خیالی تاریخ‘‘ کہہ کر پکار رہے ہیں۔ بلاول نے سندھ کلچرل میلے میں بسنت اور ویلنٹائن ڈے منانے کا بھی اعلان کیا۔ سوال یہ ہے کہ سندھ کے کلچر میں بسنت اور ویلنٹائن ڈے کی جڑیں کہاں پیوست ہیں؟ بلاول بھٹو اہلِ سندھ کو یہ بھی بتا دیتے تو اچھا ہوتا۔

سندھ میں کلچرازم کے نعرے پر بینا شاہ نے روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں تبصرہ کرتے ہوئے کلچر پرستوں کو بجا طور پر یاد دلایا ہے کہ سندھی ثقافت کی علامتیں مثلاً ٹوپی اور اجرک Containers ہیں، بجائے خود Content نہیں۔ یعنی یہ چیز معنی کی ترسیل کا آلہ ہے، بجائے خود معنی نہیں۔ اس بات کا مفہوم یہ ہے کہ کلچر معنی سے زندہ رہتا ہے، معنی کی ترسیل کے آلے سے نہیں۔ مثال کے طور پر سندھی ٹوپی میں ماتھے کی جگہ پر موجود نشان دراصل مسجد کی محراب سے آیا ہے، اور مسجد کی محراب حرب سے ماخوذ ہے۔ یعنی سندھی ٹوپی کی محراب دراصل اسلام کے تصورِ جہاد کی علامت ہے۔ مگر یہ بات بلاول بھٹو کیا بڑے بڑے سندھی قوم پرستوں کو معلوم نہیں۔ اُن کے لیے تو سندھ کی ثقافت سیاست کا آلہ ہے اور بس۔ لیکن کلچر کی سیاست اِس وقت صرف سندھ تک محدود نہیں۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف نے حال ہی میں بھارتی پنجاب کا دورہ فرمایا ہے۔ اس دورے میں انہوں نے اعلان کیا ہے کہ پاکستانی اور بھارتی پنجاب کے درمیان زبان، کھانے پینے کے معاملات مشترک ہیں۔ حیرت ہے کہ میاں شہبازشریف کو دونوں ثقافتوں کی ’’بنیادی چیزوں کے امتیازات‘‘

(باقی صفحہ 41پر)

تو یاد نہیں، البتہ ’’ثانوی چیزوں کی مماثلتیں‘‘ انہیں خوب نظر آرہی ہیں۔ میاں شہبازشریف اس دورے میں سکھوں کے ساتھ کتنے گھل مل گئے تھے اس کا اندازہ اخبار میں شائع ہونے والی اس تصویر سے ہوتا ہے جس میں وہ دو سکھ بزرگوں کے درمیان موجود ہیں۔ اس تصویر کے لیے بہتر کیپشن وضع کیا جائے تو وہ اس فقرے کے سوا کچھ ہو ہی نہیں سکتا:

’’اس تصویر میں شہباز شریف کون ہے؟‘‘

ایسی ہی ایک تصویر بلاول بھٹوکے حوالے سے بھی شائع ہوئی ہے۔ اس تصویر کے لیے مناسب ترین کیپشن یہ ہے:

’’اس تصویر میں سندھی کلچر کہاں ہے؟‘‘

Enhanced by Zemanta