Friday, September 27, 2013

تیرا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں


کبھی اے حقیقت منتظر ، نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں

تو بچا بچا کہ نہ رکھ اسے ، ترا آئینہ ہے وہ آئینہ 
جو شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں

نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں

جو میں سربسجدہ ہوا کبھی ، تو زمیں سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں

Enhanced by Zemanta
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...