Friday, September 27, 2013

حق کے لیے لڑنا تو بغا وت نہیں ہوتی



حبیب جا لب
اس دیس میں لگتا ہے عدالت نہیں ہو تی
جس دیس میں انساں کی حفاظت نہیں ہوتی
مخلوق خدا جب کسی مشکل میں پھنسی ہو
سجدے میں پڑے رہنا عبادت نہیں ہو تی
یہ بات نئی نسل کو سمجھانا پڑے گی
کہ عریاں کبھی بھی ثقافت نہیں ہوتی
سر آنکھوں پر ہم اسکو بٹھا لیتے ہیں اکثر
جس کہ کسی وعدے میں صداقت نہیں ہو تی
ہر شخص اپنے سر پر کفن باندھ کر نکلے
حق کے لیے لڑنا تو بغا وت نہیں ہوتی


Enhanced by Zemanta
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...