Friday, March 8, 2013

US hungry Childern



امریکہ میں چار کروڑ ستر لاکھ خاندان کھانے کے لیے فوڈ بینکوں پر انحصار کرتے ہیں
دنیا کے کل جی ڈی پی میں تقریباً ایک چوتھائی حصہ صرف امریکہ کا ہے لیکن خود یہاں لاکھوں بچے بھوک سے بلبلا رہے ہیں اور اس تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکہ میں اس وقت ایک کروڑ ستر لاکھ بچے غربت کا شکار ہیں اور بہت بڑی تعداد میں بچوں کے لیے بھوک ایک ان چاہے دوست کی طرح روز ساتھ رہنے لگی ہے۔
دس سالہ کیلی ہیوڈ اور اس کے 12 سالہ بھائی ٹائلر دونوں کے دماغ میں ہمیشہ کل کے کھانے کے بارے میں خیال آتا رہا ہے اور اکثر وہ کھانا انہیں میسر نہیں ہوتا۔
آئيووا کے ایک فوڈ بینک سے کیلی کی والدہ صرف پندرہ چیزیں خرید سکتی ہیں اور وہ پندرہ اشیاء چیزیں کون سی ہوں یہ فیصلہ ان کی ماں یا بھائی بہنوں کے لیے آسان نہیں ہے۔
کھانے کی ضروری چیزوں کے بعد ایسی دو چار ہی چیزیں بچتی ہیں جو بچوں کی پسند سے لی جا سکتی ہیں۔
عموماً یہ ہوتا ہے کہ کیلی کے خاندان کے پاس کافی مقدار میں کھانا خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔ کیلی کہتی ہیں ’ہم دن میں تین بار نہیں کھاتے۔ مطلب ناشتہ، دوپہر کا کھانا اور رات کا کھانا اور جب مجھے بھوک لگتی ہے تو میں دکھی ہوتی ہوں اور کچھ کرنے کو دل نہیں چاہتا۔‘
کیلی اور اس کا بھائی اپنی ماں باربرا کے ساتھ رہتے ہیں۔ باربرا کسی فیکٹری میں کام کیا کرتی تھیں۔ ان کی نوکری چلی گئی جس کے بعد انہیں بےروزگاری الاؤنس کے طور پر 1480 ڈالر ملتے ہیں۔
بظاہر یہ رقم کافی لگتی ہے لیکن اتنے پیسوں میں امریکہ میں گزارہ کرنا انتہائی مشکل ہے۔
یہ لوگ اپنےگھر میں رہ نہیں سکتے کیونکہ وہاں رہنے کے اخراجات 1326 ڈالر ماہانہ ہیں جنہیں دینے کے بعد ان کے پاس کھانا خریدنے کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔
"ہر گھر میں سے جو چار ڈالر ملتے ہیں وہ میں اپنی ماں کو دے دیتا ہوں تاکہ کچھ کھانا خریدا جا سکے۔۔۔جب میں ٹی وی پر کہیں فوڈ شو دیکھتا ہوں تو چاہتا ہوں کہ ٹی وی میں گھس جاؤں اور سارا کھانا کھا لوں۔"
ٹائلر
اب جس کمرے میں وہ رہتے ہیں وہاں ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں کھانا پکایا جا سکے۔ جس جگہ وہ قیام پذیر ہیں اس کا کرایہ تقریباً 700 ڈالر ماہانہ ہے لیکن اس جگہ رہنے کے بعد خاندان کے بجٹ کو چلانا بہت مشکل ہے۔
کیلی نے خاندان کی مدد کے لیے ریلوے ٹریک کے آس پاس خالی ڈبے اکٹھے کرنے شروع کیے ہیں اور ہر ڈبے کی قیمت دو سے پانچ سینٹ مل جاتی ہے۔
ٹائلر یہاں وہاں لوگوں کے باغات کی گھاس کاٹ دیتا ہے۔ ان کے مطابق ’ہر گھر میں سے جو چار ڈالر ملتے ہیں وہ میں اپنی ماں کو دے دیتا ہوں تاکہ کچھ کھانا خریدا جا سکے۔‘
کیلی کے کپڑے پرانے کپڑوں کی ایک دکان سے آتے ہیں جہاں پر اسے ہدایت ہے کہ وہ ایسے کسی کپڑے کے بارے میں نہ سوچے جس کی قیمت دو ڈالر ہو۔
اچھے دنوں میں خاندان کے پاس دو کتے تھے جن میں سے ایک کو عطیہ دے دیا گیا تاکہ کچھ کھانا بچ جائے۔
ٹائلر کا کہنا ہے کہ ’جب میں ٹی وی پر کہیں فوڈ شو دیکھتا ہوں تو چاہتا ہوں کہ ٹی وی میں گھس جاؤں اور سارا کھانا کھا لوں۔‘
امریکہ میں ایسے چار کروڑ ستر لاکھ خاندان ہیں جو کھانے کے لیے فوڈ بینکوں پر انحصار کرتے ہیں اور ہر پانچ میں سے ایک بچہ کسی غذائی مدد پروگرام کے تحت ملنے والا کھانا کھاتا ہے۔
جس علاقے میں کیلی اور ٹائلر رہتے ہیں وہاں کے قریبی فوڈ بینک کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے وہاں مدد کے لیے آنے والے خاندانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
"میں سکول جانا چاہتی ہوں كيونکہ اگر پڑھائی اچھی نہیں ہوگی تو اچھی نوکری نہیں ملے گی۔ اچھا پیسہ نہیں ملے گا اور اچھا پیسہ نہیں ملا تو میں اپنے گھر والوں پر ہی انحصار کرتی رہ جاؤں گی۔"
کیلی
اس فوڈ بینک میں گزشتہ تیس سال سے ملازم كیرن لیگلن کہتی ہیں،’حالات تیزی سے بدلے ہیں خاص طور پر عالمی مالیاتی بحران کے بعد۔ ہمارے یہاں آنے والے لوگوں میں کم سے کم 30 سے 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔‘
كیرن لیگلن بتاتی ہیں،’ایسا نہیں کہ ہر شخص بےروزگار ہو گیا ہو لیکن نوکری جانے کے بعد انہیں جو روزگار مل رہا ہے، اس میں اتنے کم پیسے مل رہے ہیں کہ آپ اپنے خاندان کو نہیں پال سکتے۔‘
یوں تو امریکی سکولوں میں بچوں کو کھانا ملتا ہے لیکن کیلی اور ٹائلر سکول بھی نہیں جا سکتے کیونکہ وہ گزشتہ کچھ عرصے میں ہی تین مکان بدل چکے ہیں اور جہاں وہ ابھی رہ رہے ہیں وہاں بھی وہ کتنے دن تک اور رہیں گے پتہ نہیں۔
ان بچوں کے والد نہیں ہیں اور اپنی نانی کے پاس ہی رہتے ہیں اور جو بھی تھوڑی بہت مدد وہ کر سکتی ہیں وہ کرتی ہیں۔ کیلی کی ماں ذہنی ڈپریشن کی مریضہ ہیں اور ان کا علاج بھی چل رہا ہے۔
فروری میں صدر براک اوباما نے نے قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ وہ کم از کم اجرت کو بڑھا کر کم سے کم نو امریکی ڈالر فی گھنٹہ کر دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس ایک قدم سے لاکھوں کاروباری خاندانوں کے حالات بہتر ہو جائیں گے۔ وہ کھانا خرید پائیں گے، اپنے گھروں سے نکالے نہیں جائیں گے اور آخر کار ترقی کریں گے۔‘
اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ایک کروڑ ستر لاکھ امریکی بچے ایسے ہیں جنہیں کھانا تو مل رہا ہے لیکن وہ غذائیت سے بھرپور اور صحتمندانہ نہیں ہے۔ ان کے خاندان تازہ کھانا نہیں خرید سکتے سو وہ پیزا یا ایسی ہی کچھ چیزیں خریدتے ہیں جو آگے چل کر انہیں فربہ کر دیتی ہیں۔
اس طرح کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے کچھ ایسے سکولوں نے جہاں غریب بچے پڑھنے آتے ہیں، جمعہ کو بچوں کو ہفتے اور اتوار کے لیے کھانا ساتھ دینا شروع کر دیا ہے۔
اس سب کے بیچ کیلی سکول واپس جانا چاہتی ہے۔ کیلی کہتی ہیں ’میں سکول جانا چاہتی ہوں كيونکہ اگر پڑھائی اچھی نہیں ہوگی تو اچھی نوکری نہیں ملے گی۔ اچھا پیسہ نہیں ملے گا اور اچھا پیسہ نہیں ملا تو میں اپنے گھر والوں پر ہی انحصار کرتی رہ جاؤں گی۔‘

Enhanced by Zemanta