Sunday, March 10, 2013

Beautiful Hadiths about Human Rights


حضرت عبداللہ بن عمر ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اکرم (نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم) منبر پر چڑھے اور آپ (نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم) نے بلند آواز سے پکارا اور فرمایا-
"اے لوگو جو زبان سے اسلام لاۓ ہو تمہارے دلوں میں ابھی ایمان پوری طرح نہیں اترا ہے- مسلمان بندوں کو ستانے سے، شرمندہ کرنے اور ان کے چھپے ہوۓ عیبوں کے پیچھے پڑنے سے باز رہو کیونکہ اللہ کا قانون ہے کہ جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کے عیبوں کے پیچھے پڑے گا اور اسکو رسوا کرنا چاہے گا تو اللہ تعالی اس کے عیوب کے پیچھے پڑے گا اور وہ اسکو ضرور رسوا کرے گا (اور وہ رسوا ہو کر رہے گا) اگرچہ اپنے گھر کے اندر ہی ہو-"
(جامع ترمذی)

ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر کسی سے کسی معاملے میں جب ہمارا اختلاف رائے ہو جاتا ہے یا ناراضگی ہو جاتی ہے اور کوئی ہم سے قطع تعلق کر لیتا ہے تو ایک عقلمند انسان تو اپنی غلطی تسلیم کر کے بات کو سلجھا لیتا ہے لیکن بعض بیوقوف لوگ غصے میں عقل و ہوش کھو کر بجائے اس کے کہ اس ساری صورتحال پر غور کر کے معاملے کو سلجھانے کے بجائے اور الجھا دیتے ہیں اور برسوں کی دوستی کو مٹی میں ملا دیتے ہیں، ہر طریقے سے دوسرے شخص کو رسوا کرنے کی مہم کا آغاز کر دیتے ہیں ، اس شخص کی جان مال اور آبرو کی انکی نظر میں کوئی اہمیت نہیں رہتی اس مقصد کے لئے بازاری زبان استعمال کی جاتی ہے مخالف پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے اس کی کردار کشی کی جاتی ہے اگر اس کی کوئی حقیقی خامی دستیاب ہو جائے تو اسے ہر ممکن ذریعے سے مشہور کر دیا جاتا ہے اگر حقیقی خامی دستیاب نہ ہو سکے تو اس کی طرف ایسی برائیاں بھی منسوب کر دی جاتی ہیں جو کہ اس میں حقیقتاً پائی نہیں جاتی ، افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سارا عمل صرف اپنی انا کی تسکین کے لئے کیا جاتا ہے ، ہم اگلے کو ذلیل تو ایسے کر رہے ہوتے ہیں جیسے ہم خود دودھ کے دھلے ہوئے ، نیک اور پارسا ہیں ، ایک صاحب نے ایسا ہی کیا جہاں انہوں نے ایک اور انسان کا جینا حرام کر دیا کہ وہ غلط ہے ، اور اس کو بدنام کرنے کے لئے ہر قسم کی واہیات برائی جان بوجھ کر اس کی ذات سے منسوب کر دی جب کہ حقیت کھلی تو الزام لگانے والے صاحب خود عریاں ویڈیوز بنانے کا کاروبار کرتے پائے گئے ، مطلب یہ کہ کسی کے لئے گڑھا کھودا اور خود ہی گر گئے اس میں !

ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ
یعنی بے شک کسی مسلمان کی ناحق بے عزتی کرنا کبیرہ گناہ ہے -
(ابی داؤد)
سب ہی رشتوں کو عزت دینی چاہئے اور ہرایسے فعل سے بچنا چاہئے جس سے کسی دوسرے کی دل آزاری ہوتی ہو !!
ہم انسان ہیں اور غلطیاں بھی انسانوں ہی سے ہوتی ہیں ، ایک دوسسرے کی غلطیوں کو درگزر کرنا آپ کے ایک اچھے انسان ہونے کی علامت ہے ! اچھے لوگوں کی قدر کرنی چاہئے ،کسی اچھے انسان کا آپ کی زندگی میں ہونا بھی الله پاک کی ایک بہت بڑی نعمت ہے !
شاید کہ ہماری سمجھ میں آجائے یہ بات!

یاالله ہم سب کو ہدایت دے، ہر گناہ سے بچنے اور سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دے
آمين بجاه النبي الامين.....صلي الله تعالي عليه وآله وسلم
حضرت عبداللہ بن عمر ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اکرم (نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم) منبر پر چڑھے اور آپ (نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم) نے بلند آواز سے پکارا اور فرمایا-
"اے لوگو جو زبان سے اسلام لاۓ ہو تمہارے دلوں میں ابھی ایمان پوری طرح نہیں اترا ہے- مسلمان بندوں کو ستانے سے، شرمندہ کرنے اور ان کے چھپے ہوۓ عیبوں کے پیچھے پڑنے سے باز رہو کیونکہ اللہ کا قانون ہے کہ جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کے عیبوں کے پیچھے پڑے گا اور اسکو رسوا کرنا چاہے گا تو اللہ تعالی اس کے عیوب کے پیچھے پڑے گا اور وہ اسکو ضرور رسوا کرے گا (اور وہ رسوا ہو کر رہے گا) اگرچہ اپنے گھر کے اندر ہی ہو-"
(جامع ترمذی)

ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر کسی سے کسی معاملے میں جب ہمارا اختلاف رائے ہو جاتا ہے یا ناراضگی ہو جاتی ہے اور کوئی ہم سے قطع تعلق کر لیتا ہے تو ایک عقلمند انسان تو اپنی غلطی تسلیم کر کے بات کو سلجھا لیتا ہے لیکن بعض بیوقوف لوگ غصے میں عقل و ہوش کھو کر بجائے اس کے کہ اس ساری صورتحال پر غور کر کے معاملے کو سلجھانے کے بجائے اور الجھا دیتے ہیں اور برسوں کی دوستی کو مٹی میں ملا دیتے ہیں، ہر طریقے سے دوسرے شخص کو رسوا کرنے کی مہم کا آغاز کر دیتے ہیں ، اس شخص کی جان مال اور آبرو کی انکی نظر میں کوئی اہمیت نہیں رہتی اس مقصد کے لئے بازاری زبان استعمال کی جاتی ہے مخالف پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے اس کی کردار کشی کی جاتی ہے اگر اس کی کوئی حقیقی خامی دستیاب ہو جائے تو اسے ہر ممکن ذریعے سے مشہور کر دیا جاتا ہے اگر حقیقی خامی دستیاب نہ ہو سکے تو اس کی طرف ایسی برائیاں بھی منسوب کر دی جاتی ہیں جو کہ اس میں حقیقتاً پائی نہیں جاتی ، افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سارا عمل صرف اپنی انا کی تسکین کے لئے کیا جاتا ہے ، ہم اگلے کو ذلیل تو ایسے کر رہے ہوتے ہیں جیسے ہم خود دودھ کے دھلے ہوئے ، نیک اور پارسا ہیں ، ایک صاحب نے ایسا ہی کیا جہاں انہوں نے ایک اور انسان کا جینا حرام کر دیا کہ وہ غلط ہے ، اور اس کو بدنام کرنے کے لئے ہر قسم کی واہیات برائی جان بوجھ کر اس کی ذات سے منسوب کر دی جب کہ حقیت کھلی تو الزام لگانے والے صاحب خود عریاں ویڈیوز بنانے کا کاروبار کرتے پائے گئے ، مطلب یہ کہ کسی کے لئے گڑھا کھودا اور خود ہی گر گئے اس میں !

ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ
یعنی بے شک کسی مسلمان کی ناحق بے عزتی کرنا کبیرہ گناہ ہے -
(ابی داؤد)
سب ہی رشتوں کو عزت دینی چاہئے اور ہرایسے فعل سے بچنا چاہئے جس سے کسی دوسرے کی دل آزاری ہوتی ہو !!
ہم انسان ہیں اور غلطیاں بھی انسانوں ہی سے ہوتی ہیں ، ایک دوسسرے کی غلطیوں کو درگزر کرنا آپ کے ایک اچھے انسان ہونے کی علامت ہے ! اچھے لوگوں کی قدر کرنی چاہئے ،کسی اچھے انسان کا آپ کی زندگی میں ہونا بھی الله پاک کی ایک بہت بڑی نعمت ہے !
شاید کہ ہماری سمجھ میں آجائے یہ بات!

یاالله ہم سب کو ہدایت دے، ہر گناہ سے بچنے اور سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دے
آمين بجاه النبي الامين.....صلي الله تعالي عليه وآله وسلم

Enhanced by Zemanta
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...